پختونخوا ملی عوامی پارٹی، عوامی جرگے اور حکومتی ذمہ داری
پختون اور پختونخوا کے باسی کئی دہائیوں سے امن وامان کی بد ترین حالات سے دوچار ہیں۔ جس کا براہ راست اثر ان کی معاشی اور معاشرتی زندگی پڑ رہا ہے۔ عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد آئے روز غربت کی لکیر سے نیچے کی طرف جا رہی ہے۔ جبکہ امن وامان کے حالات کئی دہائیوں سے خراب سے خراب تر ہوتے چلے آرہے ہیں۔ اس میں مرکزی حکومتوں کا غیر ذمہ دارانہ، غیر جمہوری رویہ، نا انصافی، معاہدوں اور فیصلوں پر آئین کے مطابق عمل درآمد نہ کرنا ایسی وجوہات میں شامل ہیں۔ یہ امر قابل تشویش ہے کہ جوں جوں وقت گزرتا رہتا ہے۔ ایسے مسائل بھی زور شور سے بڑھتے رہتے ہیں، بلکہ اپنے ساتھ نئے نئے مسائل اور مشکلات لے کے آتے ہیں۔
عالمی سطح پر دیکھا جائے تو تمام سماجی ترقی کا انحصار امن و امان کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ جس ملک میں امن و امان کی صورتحال تسلی بخش ہو وہ بیرونی سرمایہ کاری کے لیے آئیڈیل سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ ملک کے اندر بھی وہ صوبے اور علاقے جہاں امن ہو امان ہو سرمایہ کاری اور کاروبار وہیں پھلتے پھولتے ہیں۔ جس کی واضح مثال پختونخوا سے لوگ کارخانوں اور کاروبار کو پنجاب منتقل کرتے رہے ہیں۔ نتیجتاً یہاں غربت اور بے روزگاری مزید بڑھتی جا رہی ہے۔
پختونخوا ملی عوامی پارٹی ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جو پختونوں کے حقوق کے لیے کوئی بھی لمحہ اور کوئی بھی فورم پختونوں کے مسائل اور مشکلات کو بروے کار لانے سے کبھی نہیں چوکتی۔ ساتھ ہی ملک میں حقیقی جمہوری نظام اور آئین ہی کو تمام مسائل اور مشکلات کا حل سمجھتی ہے۔ البتہ وقت حالات کی ضرورت کے تحت زمانی اور مکانی حالات سے ہم آہنگ نئے عمرانی معاہدے کا مطالبہ بھی زور و شور سے کرتی رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف اتحادوں رہبر کمیٹی PNDA، PONAM، APDM، PDM وغیرہ اور حالیہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کا حصہ رہی ہے۔ بلکہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مرکزی صدر بھی پی کے میپ کے چیئرمین محترم محمود خان اچکزئی ہی ہیں۔ جن کو مملکت پاکستان کے صدارتی امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے کا نہ صرف اعزاز حاصل ہے بلکہ یہ موصوف کے پروگرام، خدمات اور مثبت سیاست کا اعتراف بھی ہے۔
پختونخوا کے ابتر امن وامان کے حالات جو براہ راست یہاں کے اقتصادی اور سماجی زندگی پر منفی طور پر اثر انداز ہو رہے ہیں، نے ایسے عوامی مسائل اور مشکلات کو عوام ہی کے پاس لے جانے اور متفقہ لائحہ عمل اور مثبت حل نکالنے پر مجبور کیا۔ اور اس کے لیے پختونوں کے ہزاروں سال سے ایسے حالات میں صلاح مشورے اور مل بیٹھ کے حل ڈھونڈنے کا تاریخی جرگوں کا راستہ اپنایا۔ ایسے جرگوں میں ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں، کاروباری، سماجی مذہبی تنظیموں بلکہ ہر مکتبہ فکر کے نمائندوں اور عوام کو دعوت دی گئی اور ان کی مشکلات اور تجاوز نوٹ کیں اور اس کا حل ڈھونڈنے میں معاونت کاری پر اتفاق کیا گیا۔
اس سلسلے میں پی کے میپ نے سب سے پہلے جرگہ خیبر پختونخوا کے شہر بنوں میں محترم محمود خان اچکزئی کی صدارت میں منعقد کیا گیا۔ جو تین روز مورخہ 11 تا 14 مارچ 2022 تک جاری رہا اور زندگی کے تقریباً ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کی بہت ہی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس جرگہ کے اختتام پر دیگر بہت سے اہم فیصلوں کے ساتھ یہ بھی فیصلہ ہوا کہ ایسے جرگوں کو دوام دیا جائے گا۔ چنانچہ بنوں جرگہ کے تسلسل میں پہلے بلوچستان کی پختون بیلٹ (جنوبی پختونخوا) میں کئی کامیاب عوامی جرگے منعقد کرائے۔ اور اس کے بعد خیبر پختونخوا پر توجہ مبذول کرتے ہوئے سب سے پہلے ضلع صوابی میں اور اس کے بعد یکم جون 2025 کو سوات میں کامیاب عوامی جرگوں کا انعقاد کیا۔ جبکہ دیگر اضلاع میں بھی ایسے ہی جرگوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے اور تقریباً شیڈول بھی وضع کر دیا گیا ہے۔
اب تک جتنے بھی جرگے منعقد ہوئے ہیں ان کی قراردادوں، فیصلوں اور اعلامیہ ہائے میں چند ایک چھوٹے موٹے مقامی مطالبوں کے ساتھ دو بڑے مطالبے مشترک، واضح اور پرزور دکھائی دے رہے ہیں اول پختونخوا میں کئی دہائیوں سے جاری دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے اور امن امان کی فضاء قائم کی جائے۔ دوم پختونوں کی اقتصادی حالت بہتر بنانے کے لیے ہر علاقے کے اپنے اپنے ان گنت قدرتی وسائل جیسے پانی، بجلی، جنگلات، معدنیات، تیل، گیس، آثار قدیمہ، مقامی کاٹج انڈسٹری کی سرپرستی، ہنر اور آرٹ کو تقویت دینا وغیرہ کو آئین کے مطابق بروے کار، استعمال، دریافت کیے جائیں۔ ان کو عمل میں لائیں اور مقامی لوگوں اور صوبوں کو اپنے حقوق اور حصہ 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت دیے جائیں اور ملک و قوم کی ترقی کے لیے استعمال کیے جائیں۔ اس طرح مقامی لوگوں کی معاشی اور معاشرتی زندگی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگی۔ اور لاکھوں کروڑوں پختون جو اللہ پاک کی دی ہوئی لا تعداد نعمتوں کے باوجود اندرون ملک اور بیرون ملک دنیا بھر میں پردیسی بن کے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں وہ بھی اپنے ملک میں والدین اور بال بچوں کے ساتھ بہتر زندگی بسر کرنے کے قابل ہوں جائیں گے۔
بنظر غائر دیکھا جائے تو صوبائی اور مرکزی دونوں حکومتوں کی آئینی ذمہ داری ہی یہی ہے۔ جس کو پورا کرنے کے لیے پی کے میپ ہاتھ بڑھا اور ملا رہی ہے۔ اس لیے ہر دو حکومتوں کو چاہیے کہ ان کے ساتھ مل بیٹھ کے ملک و قوم کی بھلائی کے لیے اقدامات اٹھائیں۔


