محنت کش دادیاں، حلوہ کلچر اور نانی ویہڑے کی گندم


 

میری گزشتہ تحریر مطالعاتِ پنجاب میں نو آبادیاتی نظام کے مدرسری رجحانات اور اُن کے جائزے کی ضرورت و اہمیت پہ تھی۔ محترم اظہار الحق صاحب کی ہمت افزائی تو دل خوش کن رہی مگر کینیڈا سے برادر عزیز فیصل سعید کے تبصرے نے تو یادوں کے در وا کر دیے۔

اُن کے تجزیے نے مشرق اور مغرب کی خواتین کے درد مشترک سے صرفِ نظر کا معاملہ اجاگر کیا۔ جو یقیناً ایک علیحدہ مضمون کا طالب ہے مگر آج یہ تحریر کوہ نمک اور اعوان کاری کے علاقے کی اُن محنت کش عورتوں ‏ (empowered women) نانیوں دادیوں کے لئے جن کی یاد ہر اہم تہوار پہ دل کی کسک کی صورت آن موجود ہوتی ہے۔

لگ بھگ پانچ عشرے پہلے جب موسم، سیاستِ دوراں اور معاملات زمانہ ابھی اتنا آپے سے باہر نہیں تھے تو تہواروں کی ریت رواج بھی مختلف تھے، میل ملاقات میں سادہ کھانے کا اہتمام اور تواضع عام تھی جو حسب حیثیت و مرتبہ تھی۔ خاندان اور برادری میں مالی حیثیت دیکھے بنا رشتوں کی بنیاد پہ بزرگی کا تعین اور باہمی مودت کو ترجیح دی جاتی تھی۔ گھر آئے مہمان کی تواضع ہو یا تہوار کی دعوت، خواتین ہی فیصلہ کرتی تھیں کہ دسترخوان پہ کون کہاں بیٹھے گا اور کھانا جو ہمیشہ دیسی گیہوں کی روٹی اور گائے یا بکرے کے گوشت شوربے پہ مشتمل ہوتا معمر دادا، نانا اور اُن کے رشتے کے بھائیوں کو پہلے پیش کیا جائے گا۔ کم و بیش ہر گھر میں یہی رواج عام تھا۔ دیہی پنجاب کی نوجوان نسلیں یہ روایتیں اپنی نانی یا دادی سے ورثے میں دیکھتی، سُنتی اور اپناتی آئی ہیں یہاں تک کہ بڑی عمر کی عورتیں اگر حقہ نوش ہوتیں تب بھی اپنی باری کا انتظار کرتیں یعنی گھر کے سربراہ کے بعد ۔

سماجی معاملات میں یہ آداب اگرچہ پدرسری نظام کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ تھے مگر ان کی ترسیل اور پابندی کسی بھی خاتون خانہ کے فرائض منصبی کا ناگُزیر حصہ تھا حتٰی کہ خاندان میں پوتوں اور نواسوں میں ”نانی یا دادی کے لاڈلے“ کی حیثیتِ خاص بھی گھر کے چھوٹوں اور بڑوں سے واضح حمایت کی متقاضی تھی۔ اگرچہ نواسیوں اور پوتیوں سے محبت میں تفریق نہ برتی جاتی مگر اُسے بچپن سے ہی ”خاندان کے وارث بھائی اور بیٹے ہیں“ کا سبق اچھی طرح ذہن نشین کروایا جاتا یوں بڑی بوڑھیوں کی متواتر نصیحتیں بہنوں کو بھائیوں، بیٹوں اور بھتیجوں سے وفادار رکھتیں اور وراثت کے دعوے سے کوسوں دور۔

برادری کی دعوتوں میں نائی کھانا پکاتا جس کی حیثیت گھر کے فرد سے کچھ ہی کم تھی۔ کم عمر افراد خانہ اُسے چاچا یا ماما کہہ کر بُلاتے۔ وہ زمین پہ بیٹھا حقے کی نڑ تھامے کھانے کے سودے کی فہرست بناتا، بازار سے خریداری کرتا اور گھر کے صحن میں ہی اینٹوں کے چولہوں اور لکڑیوں پہ کھانا تیار کرتا۔ ساتھ ساتھ گھر کی خواتین برتنوں اور دسترخوان بچھانے کی تیاری کرتیں۔ پچانوے فی صد گھرانوں میں کھانا زمین پہ بچھی چٹائیوں پہ پروسا جاتا۔ اعوان کاری میں دو اقسام کا میٹھا مروج تھا ایک میں سوجی کو گھی میں بھون کے براؤن کیا جاتا یہ خستہ چکوالی حلوہ کہلاتا جبکہ دوسرے میں آٹے کا نشاستہ نکال کر گڑ یا چینی میں پکایا جاتا جسے مقامی دودھی والا حلوہ یا مکھڈی حلوہ کہا جاتا۔ دونوں حلوے عید اور تہواروں کا لازمی حصہ تھے اور خوشحالی کی علامت بھی۔

بڑی عید آتی تو ہماری نانی اپنے جستی ٹین کے درمیانی سائز کا ڈبہ کھولتیں جسے نہایت احتیاط سے لکڑی کے پٹ والی الماری میں سنبھال کے رکھا ہوتا اور جو خاص موقعوں پہ ہی نکالا جاتا۔ اس میں افغانستان سے آئے درآمد شدہ مصالحے محفوظ ہوتے۔ جائفل، جاوتری اور بادیان کے پھول کی اولین زیارت یہیں کی۔

ابھی چھوٹے قصبوں میں بڑے پنسار اسٹور نہیں کُھلے تھے اور گلی محلوں میں کوچی پٹھان گہرے رنگوں کی بھاری شلوار قمیضیں پہنے کپڑے کے بھاری دبیز تھیلوں میں ’گرم مصالحہ لے لو، ہینگ، زیرہ لے لو‘ کی بلند صدائیں لگاتے پھرتے۔ برتن قلعی کرا لو کے علاوہ گھریلو خواتین کا یہ ایک اور چہیتا کردار ہوتا تھا، جہاں ہر دو میں سے کسی کی آواز آتی تو گھر کے بچوں کی شامت آ جاتی۔ اکثر گھروں کے باہر تانبے اور پیتل کے بھاری دیگچوں اور پراتوں کی قطاریں لگ جاتیں۔ خوشی اور غمی کے تمام مواقع پہ انہی بڑے برتنوں میں کھانا پکتا جو پوری برادری کے لئے ہوتا۔

کوہِ نمک کے خوشحال نیم کاشتکار طبقے میں نائی ایک اور اہم کردار گنا جاتا جس کے ذمہ کھانا پکانے کے علاوہ شادی بیاہ کی دعوتوں کے سندیسے دینا، نائن کا جوان بچیوں کے بال گوندھنا، ذات برادری کے جوان بچوں کے باہم رشتے کروانا اور اُن پہ نظر رکھنا بھی مستقل فرائض کار میں شامل تھا، زنانہ حصے میں اُن کی عورتیں کام کرتیں اور یوں نسل در نسل ملازم پیشہ کلچر اس زرعی معاشرے کا اٹوٹ انگ بنا رہا۔

پنجاب کے ان دیہات میں دیسی گیہوں، سبزی، چنے اور دالیں ہمیشہ گھر کی اُگائی (organic) ہی ملتی تھیں۔ بلا تفریقِ مال و حشم ہر گھر میں مٹی کے روغنی برتن بمع پراتیں، ہانڈیاں اور رکابیاں استعمال کی جاتیں۔ جو سُرخ رنگ کی ہوتیں اور ان پہ سیاہ یا سبز نقش و نگار بنے ہوتے۔

فوج میں ملازمت پیشہ گھروں میں چینی کی بارہ پرچ پیالیوں کا سیٹ مہمانوں کے لئے مختص ہوتا اور بڑے کمرے (ماحل) میں دیوار پہ بنی کارنس پہ سجا ہوتا۔ جس پہ خاتون خانہ کے ہاتھ سے رنگین دھاگوں سے کڑھے دو سوتی کے رومال ( runner) بچھے ہوتے۔

یہ منظرنامہ بوڑھے مردوں کی جوانوں کو نصیحتوں اور سرزنش کے بغیر نامکمل تھا لمبا عرصہ کاشتکاری یا فوجی ملازمت کے خاتمے کے بعد عملاً بیکار بزرگ گھر کے باہر کھلی جگہوں پہ موسم کے مطابق بیٹھک جماتے جہاں لاموں کے قصے، بیلوں کی دوڑوں، کُتوں، بٹیروں اور مرغوں کے مقابلوں کے سینہ در سینہ آنکھوں دیکھے احوال دہرائے جاتے۔

ہر خاندان کی کم از کم ایک بڑی بوڑھی مکھڈی یا دودھی والا سُنہری حلوہ پکانے کی ماہر گردانی جاتی اور چُپکے چُپکے اپنا ہنر کسی بہو، بیٹی کو منتقل کرتی رہتی۔ حلوہ بانٹنے کا کام بھی خالص زنانہ ذمہ داری سمجھی جاتی جو برادری میں حسبِ منشاء صاحبِ خانہ، تعلقات کی اہمیت اور وسعت میں اضافے کا باعث بنتی۔

آج سے پچاس برس پہلے کے سماج میں نانی اور دادی کے مشقت بھرے ہاتھ سے پکی گیہوں کی تازہ روٹی کی مہک تھی، آٹے سے بنے میٹھے حلوے کی سوندھی خوشبو اور روایتی فیصلہ سازی کی مہارت جسے وہ نہایت خوبصورتی اور پیار سے اپنی ہم جنسوں میں منتقل کرتی رہیں۔

سالٹ رینج یا اعوان کاری خطے کی ہر خواندہ عورت اپنی نانی دادی کی بصیرت افروز کہانیوں کی پروردہ ہے جس نے تعلیم کے ذریعے نوجوان بچیوں کا مستقبل اُجیارا۔

کیا خوب کہا محترم محمد اظہار الحق نے اور انہی محنت کش عورتوں پہ صادق آتا ہے

حروف کشف کے ہیں اور ظروف مٹی کے
اجڑ سکے گی کسی سے نہ خانقاہ مری

 

Facebook Comments HS