مٹن اور پاکستانی قوم
قوموں کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب انہیں قومی وقار اور عزت کو سامنے رکھے ہوئے بلند کردار کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے لیکن جب پاکستانی قوم کے سامنے عید کا مٹن آتا ہے تو کیا عزت کیا وقار اور کیا کردار، بس آر یا پار۔
جب بھی قربانی کی عید قریب آتی ہے، قوم ایک عجب جذباتی کیفیت میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ گویا پورا ملک قومی جذبات کو فریزر میں رکھ کر صرف مٹن کے گرد گھومنے لگتا ہے۔ عام دنوں میں اگر کسی سے کہا جائے کہ ”ملک کے لیے قربانی دو“ تو وہ آپ کو معاشی مسائل کے پرانے بہانے سُنا کر رخصت ہو جاتا ہے، لیکن عید پر وہی شخص بکرے کے ساتھ سیلفی لیتے ہوئے یہ جملہ ضرور بولتا ہے :
”یہ ہے اصل قربانی!“
قومی غیرت؟ وہ تو شاید قصائی کے ہاتھ میں ہے، جو صبح آٹھ بجے وعدہ کر کے شام پانچ بجے آتا ہے اور پھر بھی ایسا گوشت چھوڑ جاتا ہے جیسے بکرا نہیں، پلاسٹک کا ماڈل ہو۔
عید کے دن جب اجتماعی قربانی کا گوشت گھر آتا ہے تو لوگ رشتہ داروں، ہمسایوں، حتیٰ کہ دشمنوں کو بھی فوراً یاد کرتے ہیں، لیکن یہ یاد دہانی صرف دو چیزوں کے لیے ہوتی ہے ایک، گوشت دینا اور دوسرا، اپنے گوشت کا حصہ وصول کرنا۔ یہ وہ واحد موقع ہوتا ہے جب لوگ نا صرف اپنے حصے کا مطالبہ کرتے ہیں بلکہ دوسرے کے حصے پر بھی تبصرہ کرتے ہیں :
”باجی نے پچھلی بار ران دی تھی، اس بار صرف چربی؟“
ادھر ٹی وی چینلز پر تجزیہ کار ملکی معیشت پر پریشان بیٹھے ہوتے ہیں، اُدھر دیگوں میں مٹن قورمہ تیار ہو رہا ہوتا ہے، اور ہم سب یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ ”ملک تو اللہ کے فضل سے چل ہی رہا ہے، پہلے مٹن نمٹا لیں۔“
عید کے دن گوشت کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی دیکھ لے تو یہی سمجھے کہ پاکستانی قوم خوراک کے نام پر متحد ہے۔ باقی سارے سال ہم صوبائیت، سیاست اور مہنگائی پر جھگڑتے رہتے ہیں، لیکن جیسے ہی قورمے کی خوشبو آتی ہے، سب ایک ہی پلیٹ میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔
بچوں کو عید کی خوشی ہوتی ہے، بڑوں کو مٹن کی خوشبو اور بزرگوں کو چربی کے نقصانات یاد آتے ہیں۔ لیکن کھانے سے پہلے نہیں، بعد میں۔ اور سب سے دلچسپ کردار وہ شخص ہوتا ہے جو پورا سال ورزش کر کے ”فٹنس“ کے دعوے کرتا ہے، لیکن عید کے دن کہتا ہے ”یار آج cheat day ہے۔“ پھر وہ ایسا cheat کرتا ہے کہ دل، جگر، گردے۔ سب دھوکہ کھا جاتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ جب قربانی کا گوشت ہمارے ایمان کا حصہ ہے، تو کیا کردار کی قربانی دینا بھی اس کا حصہ نہیں ہونا چاہیے؟ اگر ہم قربانی کے فلسفے کو واقعی سمجھ لیں، تو ہو سکتا ہے عید کے بعد ہم صرف فریزر نہیں، دل بھی صاف کر لیں۔ ورنہ پھر ہر سال یہی ہو گا: مٹن آئے گا، غیرت جائے گی، دل جلے گا، اور قوم صرف سالن کی خوشبو میں گم ہو جائے گی۔
اے مٹن، پیارے مٹن، پاک مٹن، اے میرے پیارے مٹن۔

