وصل کی راحت کے سوا


رات کے سناٹے میں برگد کے پتے سرسرا رہے تھے جیسے ہوا نے کسی پرانی شاعری کو چھو لیا ہو۔ شکستہ خامشی کے اندر کوئی آواز سنائی دی تھی، شاید اپنی ہی۔ درخت کی جڑیں نیچے زمین میں گہری تھیں، مگر کچھ جڑیں اب بھی ہوا میں لٹکی ہوئی تھیں۔ ان کا جھولنا کچھ ایسا تھا جیسے کسی نے بات شروع کی ہو مگر پوری نہ کی ہو۔ وہ ان جڑوں کو دیکھتی رہی۔ ہر جڑ جیسے کسی ادھورے لمحے کی گرفت میں تھی۔

”تمہاری جڑیں کیوں روتی ہیں؟“ اس نے برگد سے پوچھا۔ درخت نے دھیرے سے کہا، ”یہ وہ وصل ہے جو کبھی مکمل نہ ہوا۔ ان جڑوں میں وہ نوحے بہتے ہیں جنہیں سننے والا نہ تھا۔“

درخت کی چھال پر زین کا نام اب بھی کندہ تھا، مگر لفظ اب زخم نہیں، کوئی مدہم التجا لگتے تھے۔ ہوا نے جب چھال کو چھوا، تو وہ الفاظ شکستہ کے گالوں پر بہہ نکلے۔ آنسو نہیں، کسی خاموش نظم کی مانند۔ وہ لمحے جو وصل نہ بن سکے، اب برگد کی شاخوں پر الٹے لٹکے تھے۔ خسارے کے گلدستے کی صورت۔

شکستہ نے سوچا، کیا ہر راحت وصل میں ہے؟ یا کچھ راحتیں بچھڑنے، سمجھنے، اور خود سے دوبارہ جڑنے میں بھی چھپی ہیں؟ جیسے فیض کہتے ہیں، ”راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا“ ویسے ہی کچھ لمحے وصال کے بغیر بھی اپنی گہرائی رکھتے ہیں۔ کچھ نغمے ادھورے رہ کر ہی مکمل لگتے ہیں، کچھ چہروں کو دوبارہ نہ دیکھنا ہی ان کی یاد کو زندہ رکھتا ہے۔

کیا ہر وہ چیز جو چلی جائے، نقصان ہے، یا جو ہمیں توڑ دے، وہی ہمیں نیا نہیں بناتا کیا؟ نطشے کی بازگشت جیسے کہیں دور سے آئی۔ جو تمہیں نہ مارے، وہ تمہیں مضبوط بناتا ہے۔ مگر یہ طاقت محض جسمانی نہ تھی۔ یہ وہ طاقت تھی جو ایک نئے اخلاق، نئی معنویت کو جنم دیتی ہے۔ شکستہ نے سوچا، اگر میں نے خسارے سے نئی نظم تخلیق کی، اگر زین کے جانے کے بعد میں نے خود کو لکھنا سیکھا، تو پھر خسارہ کس بات کا؟ یہ تو نفع تھا مگر اندر کا نفع، دنیا سے چھپا ہوا۔

کامو کی خاموشی نے اسے اپنی گرفت میں لیا۔ وہ کہتا ہے، زندگی بے معنی ہے مگر اسی میں انسان کو بغاوت کرنی چاہیے، بے معنی کو قبول کر کے، اس میں اپنی روشنی ڈال کر۔ شکستہ نے برگد کو دیکھا، جو خاموش کھڑا تھا۔ ہاں، یہ خامشی بغاوت ہے، یہ جڑیں جو سرنگیں کھودتی ہیں، یہی میری بغاوت ہے۔

سارتر کی سوچ نے اسے آہستہ سے چھوا۔ وہ کہتا ہے، وجود ماہیت سے پہلے ہے۔ انسان پہلے ہوتا ہے، پھر وہ خود فیصلہ کرتا ہے کہ اسے کیا بننا ہے۔ شکستہ نے خود کو دوبارہ چُنا۔ ایک کمزور، مگر باشعور ہستی کے طور پر۔ اس نے کہا، میری کمزوری میرا انتخاب ہے، میری نظم میری طاقت ہے، میں وہ بنوں گی جو میں چُنوں گی۔

اور پھر، ایک لمحہ جیسے کائنات کے سینے میں در آیا۔ ایک خیال نے دستک دی۔

”وصل“ ، اس نے سوچا، صرف محبت یا جسمانی قربت کا نام نہیں۔ یہ تو ”صلی“ یا ”صلو“ سے نکلا ہے۔ وہی جڑ جس سے ”صِلَة“ بنتا ہے، ”رابطہ“ ، ”کمیونیکیشن“ ، ”مواصلہ“ ۔

تو کیا ہر وہ شے جو کسی اور سے جوڑتی ہے، وہی وصل ہے؟
کیا خود سے، ماضی سے، دکھ سے، حتیٰ کہ خامشی سے بھی جُڑنا وصل نہیں؟
کیا درد کو نظم میں ڈھالنا بھی مواصلت نہیں؟
کیا یہ افسانہ، جو وہ لکھ رہی ہے، زین سے، خود سے، قاری سے، یہی وصل نہیں؟
اور وہ لمحہ جب وہ یہ سوچ رہی تھی۔

برگد کی وہ جڑ جو ہوا میں سب سے بلند اور سب سے تنہا لٹک رہی تھی، آہستہ آہستہ نیچے جھکی۔ زمین کی مٹی نے اسے اپنے اندر لے لیا۔

اور تب درخت نے پہلی بار خود شکستہ سے سوال کیا۔
”تو کیا تُو جان گئی، وصل کیا ہے؟“
شکستہ نے ہلکے سے مسکرا کر کہا۔
”ہاں، وصل وہی ہے جو صدا بن جائے، چاہے سننے والا نہ ہو۔“
درخت نے سرسراتے ہوئے آخری راز بیان کیا۔

”جو کلام صلو سے جنم لے، وہ موت سے نہیں ڈرتا۔ وہ ہر بار نئے چہروں میں لوٹ آتا ہے۔ وصل ہمیشہ بقا کا دروازہ ہوتا ہے، فنا کا نہیں۔“

رات کا سناٹا اب گہرا سکوت بن چکا تھا۔ برگد اب بھی ساکت کھڑا تھا، مگر اس کی جڑیں زمین کو چھونے لگی تھیں۔ شکستہ نے دیکھا کہ درخت کی ہر جڑ سے اب خون نہیں، لفظ رس رہے تھے۔ وہی لفظ جو اس نے برسوں پہلے اپنے دل میں دبائے تھے۔

وہ جان چکی تھی کہ خسارہ کوئی خلا نہیں، بلکہ ایک وہ گزرگاہ ہے جس سے خود کا سامنا ہوتا ہے۔ موت کو اکثر آخری خسارہ کہا جاتا ہے، مگر برگد نے جیسے دل ہی دل میں کہا۔

”نہیں، شکستہ، موت خسارہ نہیں، وہ کامل وصل ہے۔“
شکستہ نے اپنی آخری تحریر میں لکھا۔

”میں نے ہر وہ چیز کھوئی جسے میں نے چاہا، اور ہر وہ چیز پائی جسے میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ اب میں جانتی ہوں، راحتیں صرف وصل کی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ہر اُس لمحے میں چھپی ہوتی ہیں جب کوئی اندر سے باہر جڑنے کی ہمت کرتا ہے۔“

Facebook Comments HS