ٹک ٹاک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور نصاب سازی
عصرِ حاضر میں سوشل میڈیا ہماری روزمرہ سماجی زندگی کا ایک جزوِ لاینفک بن چکا ہے۔ اگر ہم نسلِ نو کو محض اس کے نقصانات گنوانے پر اکتفا کریں گے، تب بھی وہ اس کے استعمال سے باز نہ آئیں گے۔ دنیا میں بے شمار ایسی ایجادات ہوئی ہیں جو بذاتِ خود تباہ کن نہیں، لیکن ان کا غیر دانشمندانہ یا غلط استعمال انسان کو خطرات سے دوچار کر رہا ہے۔ ہتھیار، گاڑیاں اور متعدد غذائی اجناس اس کی واضح مثالیں ہیں۔
سوشل میڈیا بھی ایسی ہی ایجادات میں شامل ہے۔ ایک ایسا ٹول جس کا استعمال اگر بے احتیاطی سے کیا جائے تو اس کے نتائج نہایت سنگین اور بعض اوقات سفاکانہ ہو سکتے ہیں۔ مگر یہ کہنا کہ اسے بند کر دیا جائے یا اس کے پھیلاؤ کو روکا جائے، نہ صرف غیر عملی بات ہے بلکہ ٹیکنالوجی کے ارتقائی عمل کے منافی بھی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال مصنوعی ذہانت کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ اس کی موجودگی اور بڑھتی ہوئی مداخلت کو نہ صرف برداشت کیا جا رہا ہے بلکہ قبول بھی کیا جا چکا ہے۔ یہی معاملہ سوشل میڈیا کا بھی ہے۔
رہا یہ سوال کہ اس صورتِ حال میں کیا کیا جائے؟ میری رائے میں سوشل میڈیا کے نقصانات سے بچنے کی محض تلقین سے کہیں زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ ہمیں نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے درست، مثبت، بامقصد اور بامعنی استعمال کے طریقے سکھانے چاہئیں۔ اس کے لیے ہمیں تعلیمی اداروں، اسکول، کالج اور جامعات وغیرہ میں ایسے نصابات متعارف کروانے ہوں گے جو طلبہ کی ذہنی تربیت، فکری رہنمائی اور عملی بصیرت کو سوشل میڈیا کے تناظر میں نکھار سکیں۔
دنیا کی کئی معروف جامعات میں اس حوالے سے سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں۔ مثلاً، امریکہ کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی نے ”ڈیجیٹل شناخت“ اور ”آن لائن موجودگی کی تعمیر“ کے موضوعات پر کورسز تشکیل دیے ہیں، جہاں طلبہ کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی شناخت کو کس طرح مثبت، بامعنی اور پیشہ ورانہ انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔ ایسے کورسز میں انہیں ذاتی ویب سائٹ (ای۔ پورٹ فولیو) ، ویڈیو بائیو، اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے اپنی صلاحیتوں اور کارناموں کو دنیا کے سامنے لانے کا سلیقہ سکھایا جاتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم بھی وقت کی نزاکت اور تقاضوں کو محسوس کرتے ہوئے ایسی تعلیمی پالیسیاں مرتب کریں جو نئی نسل کو سوشل میڈیا کے شعوری استعمال کی طرف مائل کریں۔ کیونکہ سوشل میڈیا کو گالی دینے سے کہیں بہتر ہے کہ ہم اسے تعلیم، تربیت اور ترقی کا وسیلہ بنا دیں۔
فی الوقت میں آپ کے روبرو اسٹینفورڈ یونی ورسٹی کا ایک کورس رکھتا ہوں۔
اپنا ڈیجیٹل تعارف بنانا۔ آن لائن پہچان بنانے کا فن
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کا کورس، 3 کریڈٹ گھنٹے
اساتذہ: جینیفر اسٹونیکر اور ہیلن چن
کورس کا تعارف
یہ کورس طلبہ کو سکھاتا ہے کہ وہ ایک ایسا ذاتی ویب سائٹ (ای۔ پورٹ فولیو) بنائیں جو ان کی بہترین صلاحیتوں اور کامیابیوں کی نمائندگی کرے۔ کلاس میں مشقیں، ساتھیوں کی آراء، لیکچرز اور انفرادی رہنمائی کے ذریعے طلبہ درج ذیل نکات سیکھتے ہیں۔
1۔ ایسا مواد تیار کرنا جو ان کی اصل شخصیت کو ظاہر کرے۔
2۔ ویب سائٹ کے ڈیزائن کو مخصوص لوگوں (جیسے سابقہ طلبہ، نوکری دینے والے ) کے لیے موزوں بنانا۔
3۔ اپنا آن لائن تعارف بہتر بنانا تاکہ جب کوئی ان کا نام سرچ کرے تو ان کی اپنی ویب سائٹ سب سے پہلے نظر آئے۔
کورس میں شامل اہم نکات
1۔ یہ سیکھنا کہ انٹرنیٹ پر خود کو کیسے نمایاں کیا جائے۔
2۔ مختلف آن لائن پلیٹ فارمز (جیسے بلاگ، ویڈیو، پوسٹر) کے لیے مواد تیار کرنے کا طریقہ۔
3۔ مختلف سامعین کے لیے موثر انداز میں بات پہنچانا۔
4۔ ساتھیوں اور ماہرین سے رائے لینا اور بہتری لانا۔
5۔ ایک موثر، جامع اور پُراثر آن لائن تعارف تیار کرنا۔
یہ کورس کیوں اہم ہے؟
یہ کورس طلبہ کو سکھاتا ہے کہ وہ:
ایک موثر آن لائن شناخت بنائیں۔
لکھنے اور ملٹی میڈیا بنانے کی عملی مہارتیں سیکھیں۔
مختلف شعبوں کے لیے اپنا ذاتی تعارف تیار کریں۔
ایسی ویب سائٹ تیار کریں جسے وہ مستقبل میں نوکری یا مزید تعلیم کے لیے استعمال کر سکیں۔
ایسے ہی اب میں آپ کے سامنے یونیورسٹی آف ایمسٹرڈیم کے کورس کا ایک ماڈیول رکھتا ہوں :
ماڈیول: انفلوئنسرز and the Attention Economy
(یونیورسٹی آف ایمسٹرڈیم)
کورس کا مقصد:
اس ماڈیول کا مقصد طلبہ کو اس بات کی سمجھ بوجھ دینا ہے کہ کیسے انفلوئنسرز ڈیجیٹل میڈیا میں توجہ حاصل کرتے ہیں، اسے کنٹرول کرتے ہیں اور اس کی معیشت کس طرح کام کرتی ہے۔ طلبہ سیکھیں گے کہ کس طرح سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مواد تخلیق اور تقسیم کیا جاتا ہے، اور کیسے صارفین کی توجہ ایک قیمتی اثاثہ بن چکی ہے۔
کورس کے اہم موضوعات
1۔ تعارف: انفلوئنسرز اور توجہ کی معیشت۔
انفلوئنسرز کون ہوتے ہیں؟
توجہ کی معیشت کیا ہے؟
سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا کردار۔
2۔ انفلوئنسر مارکیٹنگ کا ارتقا۔
روایتی بمقابلہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ۔
برانڈز اور انفلوئنسرز کے درمیان تعلقات۔
کامیاب انفلوئنسر مہمات کے کیس اسٹڈیز۔
3۔ مواد کی تخلیق اور پلیٹ فارم الگورتھمز۔
پلیٹ فارم الگورتھمز کیسے کام کرتے ہیں؟
ویڈیو، تصاویر اور تحریری مواد کی اہمیت۔
وائرل مواد کے عوامل۔
4۔ نفسیاتی اور معاشرتی پہلو۔
صارفین کی توجہ کو متاثر کرنے والے نفسیاتی عوامل۔
آن لائن شناخت اور خودنمائی۔
سماجی اثرات اور کمیونٹی کی تشکیل۔
5۔ اخلاقیات اور تنقید۔
انفلوئنسرز کی ذمہ داریاں۔
جھوٹی یا گمراہ کن تشہیر۔
پرائیویسی اور ڈیجیٹل حقوق۔
6۔ تجزیہ اور عملی مشقیں۔
انفلوئنسر مارکیٹنگ کی مہمات کا تجزیہ۔
خود ایک انفلوئنسر کی حیثیت سے مواد تخلیق کرنا۔
توجہ کی معیشت کے چیلنجز پر بحث و مباحثہ۔
پاکستان میں اس وقت انفلوئنسرز کی ایک بڑی تعداد مزاحیہ، خانگی، اور خود نمائی کا کانٹینٹ تخلیق کر رہے ہیں۔ سب سے پہلے حکومت کو ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا ایک ڈیٹا مرتب کرنا چاہیے جس کو نادرا یا دیگر حکومتی اداروں کی مدد سے بآسانی مرتب کیا جاسکتا ہے۔ پھر ان انفلوئنسز کی تربیتی ورکشاپس مرتب کرنی چاہیے ان کو بتانا چاہیے کہ یہ لوگ اپنے صارفین یا ناظرین کی زندگیوں پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں اور کس درجہ اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ٹاک ٹاک اور انسٹاگرام کو جسم فروشی کے لیے روابط کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان سب چیزوں کو دیکھنے کے لیے والدین کے ساتھ ساتھ حکومتی اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔ معاصر معیشت لائکس اور ویوز کے گرد گھومتی ہے۔ ان سب تناظرات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فوری طور پاکستانی نصاب سازی کے مقتدر ادارے سوشل میڈیا کے درست اور بامعنی استعمال اور اس کو بہتر معاشی سرگرمی کے طور پر چلانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔


