موروثی سیاست اور غریب کی سزا


پاکستان کے اراکین پارلیمنٹ، وزرا، اور مشیران کی تنخواہوں، مراعات، اور پروٹوکول کا جائزہ لیا جائے تو ایک ایسی تصویر سامنے آتی ہے جو نہ صرف متوسط طبقے بلکہ غریب عوام اور ایماندار محنت کشوں کے حالات سے کوسوں دور ہے۔ قومی اسمبلی کے رکن کی ماہانہ تنخواہ 2025 میں 5 لاکھ 19 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے، جبکہ صوبائی اراکین 4 سے 9 لاکھ روپے ماہانہ کما رہے ہیں۔ مفت رہائش، میڈیکل سہولیات، سرکاری گاڑیاں، بجلی، گیس، فون کے بل، اور 30 بزنس کلاس فضائی ٹکٹس ان کے طرز زندگی کو شاہانہ بناتے ہیں، جبکہ ایک ایم این اے پر روزانہ اوسطاً 7 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں، جو قومی خزانے پر 27 ارب روپے سے زائد کا بوجھ ڈالتے ہیں۔ اس کے برعکس، متوسط طبقے کا تاجر، جو انہی اراکین کو ووٹ دیتا ہے، مہنگائی اور ٹیکسوں کی دلدل میں پھنسا ہے، جہاں اس کی ماہانہ آمدنی چند ہزار سے ایک لاکھ روپے تک ہوتی ہے، اور ایف بی آر کے پیچیدہ ٹیکسز، بجلی کے بل، اور روزمرہ اخراجات اسے کھا جاتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کا نظام ایماندار اور محنت کش طبقے، جیسے 19 گریڈ کے پروفیسر، جو اپنی جوانی علم کی روشنی پھیلاتے ہوئے گزار دیتا ہے، کو کباڑ سے خریدی 70 سی سی موٹر سائیکل پر ڈمپر کے نیچے آنے پر مجبور کرتا ہے، جبکہ 17 گریڈ کا اسسٹنٹ کمشنر، جو چار انگریزی الفاظ پاس کر کے افسر بن جاتا ہے، دو کروڑ کی لینڈ کروزر میں چھ پولیس کمانڈوز کی حفاظت میں بازاروں کی ریڑھیاں الٹتا ہے۔ اس نظام کی نا انصافی اس وقت مزید عیاں ہوتی ہے جب ایک 19 گریڈ کا پروفیسر پوری زندگی کرائے کے مکان میں گزار دیتا ہے اور چھ لاکھ کی پرانی مہران خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا، جبکہ 14 گریڈ کا SHO حیات آباد، ڈی ایچ اے، یا بحریہ ٹاؤن میں دس کروڑ کا بنگلہ خرید لیتا ہے۔

یہ تفاوت اس وقت اور گہرا ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے بیشتر اراکین موروثی سیاست سے تعلق رکھتے ہیں۔ 2018 کی ایک بی بی سی رپورٹ کے مطابق، 53 فیصد اراکین پارلیمنٹ موروثی سیاست دان تھے، جن کے خاندان دہائیوں سے اقتدار پر قابض ہیں۔ 1985 کے گوشواروں میں ان خاندانوں کے اثاثے لاکھوں روپے تک محدود تھے، لیکن 2023 کے گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہی خاندان اب کروڑوں اور اربوں کے مالک ہیں، جن میں جائیدادیں، کاروبار، اور غیر ملکی سرمایہ کاری شامل ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، 2022۔ 23 میں 24 اراکین کو گوشوارے جمع نہ کرانے پر نا اہل کیا گیا، جو اثاثوں کی شفافیت سے گریز کی نشاندہی کرتا ہے۔ دوسری جانب، غریب عوام، جو 1985 سے آج تک غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، کی حالت غریب سے غریب تر ہو گئی ہے۔ 1985 میں غربت کی شرح 40 فیصد سے کم تھی، لیکن آج مہنگائی نے غریب کی قوت خرید کو مزید تباہ کر دیا ہے۔ اسی طرح، 12 گریڈ کا پٹواری، جس کی تنخواہ 50 ہزار روپے ہے، 30 کروڑ کا بینک بیلنس اور سو ایکڑ زرعی زمین کا مالک بن جاتا ہے، جبکہ ہائی سکول کا ہیڈ ماسٹر اپنی بیٹی کی شادی کے لیے پیسے نہیں جوڑ سکتا۔ پولیس کا ہیڈ کانسٹیبل شادیوں میں 50 لاکھ روپے اڑا دیتا ہے، جبکہ پروفیسر یا استاد کرائے کے مکان سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔

یہ نظام، جو ایمانداری کو سزا اور بدعنوانی کو انعام دیتا ہے، شدید نفرت کا مستحق ہے۔ اسے بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ اراکین کے 1985 اور 2023 کے گوشواروں کا آزاد آڈٹ کیا جائے، مراعات کم کی جائیں، اور ٹیکس نظام میں شفافیت لائی جائے۔ اشرافیہ کے دل میں رحم اور حکمرانوں، جرنیلوں، ججوں کے لیے ہدایت کی دعا کے ساتھ، اداروں میں ایمانداری لانا وقت کی ضرورت ہے، ورنہ یہ طبقاتی خلیج سماجی ہم آہنگی کو تباہ کر دے گی۔

Facebook Comments HS