بہو اور نوکر میں فرق ہوتا ہے
میں صبح سے کام پہ لگی تھی، مہمان بس آنے ہی والے تھے۔ بیس پچیس لوگوں کا اکیلے کھانا بنانا آسان تو نہیں لیکن بن ہی جاتا ہے۔ کہ یہ تو تقریباً روز ہی کا کام ہے۔ چاروں نندیں اپنے شوہروں اور بچوں کے ساتھ ہر اتوار کو آتیں۔ ساس کا فرمان ہے کہ دامادوں کو ہاتھ میں رکھنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ انھیں کھلا کھلا کر مارو۔ اتوار کی چھٹی پہ وہ اپنے ماں باپ سے ملنے نہ چلے جائیں یا ان کا کوئی بھائی بہن نہ ملنے آ جائے اس کے لیے بہتر ہے کہ انھیں ہفتہ کی رات ہی صبح ناشتے پہ مدعو کر دیا جائے کہ صبح کا ناشتہ ہمارے ساتھ کرنا۔ مہنگائی کے اس دور میں اتنا خرچہ آسان تو نہیں لیکن ساس کا کہنا ہے کہ یہ میری بیٹیوں کا نصیب ہے جو وہ کھا کے جاتیں ہیں۔ حلوہ پوری لینے بیٹے کو صبح ہی صبح بازار کو دوڑاتیں۔ داماد اتنی آؤ بھگت دیکھتے تو اور پھیل جاتے۔ کبھی پائے کھانے کی فرمائش آتی، کبھی نہاری تو کبھی مچھلی کی۔ کوئی آسان ڈش تو انھیں پسند ہی نہیں۔ ایسی فرمائشیں کرتے کہ پکاتے ہوئے کھڑے کھڑے ٹانگیں اکڑ جائیں۔ اوپر سے ہر اتوار ماسی بھی چھٹی کر لیتی ہے۔ آنے والیاں تو مہمان ہیں وہ کیسے کچھ کر سکتیں ہیں۔ ساس جوڑوں کی مریض، لے دے کے ایک میں ہی رہ جاتی ہوں، اکلوتے بیٹے کی بیوی۔
ان کے کون سے چار بھائی ہیں جو وہ باری باری سب سے لاڈ اٹھوائیں۔ خیر سے ایک ہی تو بھائی ہے ان کا، وہ کیوں نہ اس سے فرمائشیں کریں۔ بہو کی تو ذمہ داری ہے گھر سنبھالنا۔ آخر سب کچھ اسی کا ہی تو ہے ان کے بھائی سمیت۔ بہنیں تو ہفتے میں ایک دن آتیں ہیں روز تو میں ہی ہوتی ہوں میاں کے ساتھ۔ اب بھائی میرے حوالے کر کے اتنا تو بہنوں کا حق بنتا ہے۔ یہ فرمان میری ساس کے ہیں۔
ہفتے کے چھ دن بھابھی کے ایک اتوار تو ہمارا حق بنتا ہے بھائی جان پر۔ سب سے چھوٹی لاڈ سے بانہیں بھائی کے گلے میں ڈالتے ہوئے کہتی۔ کیوں نہیں میرا تو ہر دن میری ماں اور بہنوں کا ہے۔
چھ ماہ کی روتی ابیہا کو سلانا مشکل ہو رہا تھا، باہر اتنا سارا کام تھا اور یہ روئے جا رہی تھی۔ میں روہانسی ہو گئی۔ کسی نے اسے نہیں پکڑنا تھا۔ سو میں اسے کچن ہی میں لے آئی۔ بھابھی کھانا کب تک تیار ہو گا۔ نند نے ٹی وی لاونج سے آواز لگائی۔ بچی کے رونے کی آواز سے پورا گھر گونج رہا تھا لیکن انھیں اس کی آواز نہیں آ رہی تھی، اپنے کھانے کی پڑی تھی۔
رات گیارہ بجے سب نندیں اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہوئیں تو میں بھی تھکن سے چور سونے کے لیے لیٹی ہی تھی کہ چھوٹی ابیہا نے پھر رونا شروع کر دیا۔ پتہ نہیں کیوں یہ آج چپ ہی نہیں ہو رہی تھی۔ اسے باہر لے جاؤ شاہ میر کو غصہ آنے لگا۔ شاہ میر مجھ سے بیٹھا نہیں جا رہا باہر کیسے جاؤں۔ چلو جی کمرے میں آیا نہیں اور تمھاری بیماری کے ڈرامے شروع۔ مجھے بھی سکون چاہیے، کما کما کر تھک جاتا ہوں۔ یہ نہیں کہ دو گھڑی خوشی کے دے دو۔ کمرے میں آتے ہی رونا دھونا شروع کر دیتی ہو ماں بیٹیاں۔ دو دو کام والیاں رکھ کے دی ہوئیں ہیں، ہر سہولت میسر ہے اور پھر بھی تم ہر وقت بیزار رہتی ہو۔ تم جیسی ناشکری عورت آج تک نہیں دیکھی۔ جیسی تم ویسی تمھاری بیٹیاں حرام ہے جو کبھی تم لوگوں کے چہروں پہ مسکراہٹ آ جائے، ہونہہ۔ جاؤ اسے باہر لے جاؤ پلیز۔ ہنستے مسکراتے شاہ میر کا لہجہ کمرے میں آتے ہی بدل چکا تھا۔ ایک ہی سانس میں وہ جانے کیا کیا کچھ کہہ گیا۔ میں آنکھوں میں امڈتے آنسوؤں کو روکنے کی ناکام کوشش کرتے ابیہا کو لے کر کمرے سے باہر آ گئی۔
صبح کام والی آئی تو اس کے ساتھ مل کر سارا گھر صاف کیا۔ اتنے لوگ جمع ہوں تو پھیلاوا سمٹنے میں نہیں آتا۔ کام والی نے بول بول کر سر درد لگا دیا تھا۔ حالانکہ اس کا آدھے سے سے زیادہ کام تو میں کرتی ہوں۔ بی بی اتنے سارے پیسوں میں اتنا کام میں نہیں کر سکتی۔ آپ لوگ تو پاگل کر دیں گے کام کروا کروا کے۔ کام والی مسلسل بول رہی تھی۔
میں بھی تو تمھارے ساتھ لگتی ہوں مجھے بھی آدھے دیا کرو۔ تمھیں تو کام کا معاوضہ مل جاتا ہے مجھے تو وہ بھی نہیں ملتا، میں نے ہنس کر کہا۔ جسے بد قسمتی سے ساس نے سن لیا۔ اور بس پھر۔
لوجی اب بہو اور کام والی میں کوئی فرق نہیں رہا، جسے گھر کی مالکن کا درجہ دیا ہے وہ کمیوں جیسی باتیں کر رہی ہے، ہے ہی چھوٹے خاندان کی۔ ارے بی بی کام والی اور گھر کی بہو میں فرق ہوتا ہے۔ اگر بہو نے پیسے لے کر ہی کام کرنا ہے تو بہو لانے کا فائدہ۔ بندہ کام والیاں ہی رکھ لے۔ لیکن یہ بات تم جیسیوں کو کون سمجھائے۔ ساس نے اب سارا دن بولنا تھا، جسے خاموشی سے سننے ہی میں عافیت تھی۔



کم از کم سرخی تو ٹھیک لگاتیں :
–
بہو اور نوکرانی میں فرق ہوتا ہے (نوکر تو مرد ہوتا ہے)۔
–
بہو گھر جاکر دیکھے تو اس کی والدہ بھی وہاں موجود بہو کے ساتھ ایسا ہی کررہی ہو گی۔
–
بہو کو چاہئے کہ شوہر سے بات کرے اور اتوار کو اپنے گھر جانے کی بدعت شروع کرے چاہے اس کے لئے اپنی ماں کی طبیعت ہی کیوں نہ خراب کرنی پڑے۔
–
جمال گوٹا جیسی چیزیں کھانے میں بکثرت ملایا کریں اور یہ کھانا خود بھی کھائیں اور سب کے ساتھ بیمار پڑیں۔ تاکہ دوسروں کو شک نہ ہو۔ ان شاء اللہ کچھ عرصے میں افاقہ ہوجائے گا۔
–
گر بہ کشتن روز اول ۔۔۔ اگر نہ ہو تو بعد میں بہت مشکل ہوجاتی ہے
–
اگر دامادوں کو کسی شے سے الرجی ہے تو چھپ چھپاکر اسے کھانوں میں استعمال کریں۔ اس سے بھی افاقہ ہوگا۔
وہ تمام خواتین اور بچیاں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ نوکروں سے بھی بدتر سلوک ہورہا ہے۔ اور وہ اہمیت اور حیثیت نہیں مل رہی جس کی وہ حقدار ہیں ان ہیں چاہئے کہ ثانیہ ملہوترہ کی فلم Mrs ضرور دیکھیں۔
ہرجاء یہی سلوک جب لیڈ ایکٹریس کے ساتھ ہوا اور اس نے آخر میں جو کچھ کیا ضروری نہیں آپ کی زندگی بھی اتنی ہی آسانی سے گلزار ہوجائے۔
–
اتوار کو غائب ہونے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ خود جمعہ کو اپنی ماں کے پاس چلی جائیں جہاں سے آپ کی واپسی کسی کی بھی بیماری کی وجہ سے موخر ہوجائے۔
–
کڑ کڑ اور مسائل آئیں گے لیکن پہلا قدم تو اٹھانا پڑے گا۔
–
میری ایک شاگردہ سخت نفسیاتی مصائب سے گزررہی تھی اس کو میں نے پورا پورا اسکرپٹ تیار کراکر پریکٹس کروائی جس میں وہ سوتے میں شوہر یا کسی بچے کا گلا پکڑ کر کہتی ہے کہ میں فلاں کو زندہ نہیں چھوڑوں گی اس کا خون پی جاؤں گی وغیرہ ۔۔۔۔ تاکہ پیغام لوگوں تک پہنچ جائے۔ لیکن اگر دوسری پارٹی آپ سے زیادہ طاقت ور ہوئی تو سنبھالنا خود ہوگا۔
–
اسی طرح اگر آپ کے پاس شوہر سے علیحدگی کے بعد گھر یا نوکری نہ ہو تو محض بھائیوں کے سہارے شوہر کا گھر مت چھوڑیں۔ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا ایسا ہوگا کہ ساس تو پھر بھی عزت کرتی ہے ۔۔۔۔ بھابیاں آپ کو کھا جائیں گی اگر ماں باپ زندہ نہ ہوئے تو۔