مشرق وسطیٰ بڑی جنگ کے دہانے پر


ایران اور امریکہ کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں تعطل برقرار ہے، گزشتہ چند گھنٹے میں سامنے آنے والی ڈویلپمنٹس سے بظاہر لگ رہا ہے معاملات سفارت کاری کے ذریعے حل کے بجائے جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں موجود فوجی اڈوں سے غیر ضروری فوجی، سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کو وطن واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بغداد میں قائم اپنے سفارتخانے کے تمام غیر ضروری اہلکاروں اور اُن کے اہلِ خانہ کو فوراً وطن واپس بلانے کا حکم دے دیا ہے۔ اسی طرح بحرین اور کویت میں تعینات غیر ضروری فوجی اور سفارتی عملے کو بھی، اپنے خاندانوں سمیت، رضاکارانہ طور پر انخلا کی اجازت دے دی گئی ہے۔ پینٹاگون کے مطابق انخلاء کے عمل میں ہر ممکن معاونت فراہم کی جا رہی ہے، تاہم سفارتخانے فی الحال کھلے رہیں گے اور سفارتی سرگرمیاں محدود پیمانے پر جاری رکھی جائیں گی۔ دوسری جانب، برطانوی بحری حکام نے خلیج سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو تنبیہ جاری کی ہے کہ وہ غیر معمولی احتیاط اور ہوشیاری کے ساتھ سفر کریں۔

مشرق و سطیٰ میں امریکہ کے متعدد فوجی اڈے قائم ہیں، بحرین میں پانچویں امریکی بحری بیڑے کا ہیڈکوارٹر موجود ہے، کویت میں کیمپ عریفجان اور علی السالم ائر بیس، قطر میں العدید ائر بیس، اردن میں موافق سالطی ائر بیس، عراق میں الاسد ائر بیس اور بغداد و اربیل کے علاقے، اور سعودی عرب میں پرنس سلطان ائر بیس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات، مصر، شام اور اسرائیل میں بھی محدود امریکی موجودگی ہے۔ سمندری لحاظ سے، پانچواں بحری بیڑا (ففتھ فلیٹ) بحرین سے سرگرم ہے، جس میں مائن کاؤنٹر میژر جہاز یو ایس ایس ڈیکسٹرس، یو ایس ایس کینبرا اور کئی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حالیہ دو طیارہ بردار بحری بیڑے۔ یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین اور یو ایس ایس کارل ونسن۔ بھی مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے گئے ہیں۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے قریب سمجھے جانے والے صحافی، یاکوو بردوگو، نے چینل 14 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ

”اسرائیل ایران پر حملے کے بہت قریب ہے۔ ہم صرف چند دنوں کے فاصلے پر ہیں۔“

اس سے قبل ایران کے وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ نے کہا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو ایران مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا، ایران نے اسرائیل کے خفیہ جوہری ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کا چھٹا دور بھی اب کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے دعوی کیا ہے کہ اومان کے دارالحکومت مسقط میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا چھٹا دور نہیں ہو گا۔ تاہم ایران کے وزیر خارجہ 12 جون کو ناروے میں ’اوسلو فورم‘ کے اجلاس میں شرکت کریں گے، اومان کے وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ اگر امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیوویٹ کاف اگر اوسلو فورم میں شرکت کرتے ہیں تو ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا چھٹا دور ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اب کم پرامید ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ دو ماہ میں مذاکرات کے پانچ دور ہوئے، جس کے بعد امریکہ نے ایران کو معاہدے کی پیشکش کی، جس میں یورینیم افزودگی مکمل ترک کرنے کے بدلے ایران سے معاشی پابندیاں ہٹانے اور اسے دوبارہ عالمی معاشی نظام میں شامل ہونے کی پیشکش کی، ایران نے امریکی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے متبادل پرپوزل پیش کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکہ و اسرائیل کے حالیہ بیانات اور اقدامات سے صاف ظاہر ہے کہ وہ ایران پر حملے کی تیاری کے آخری مراحل میں ہیں۔ دوسری طرف عالمی جوہری توانائی ایجنسی کا اجلاس جاری ہے، جس میں متوقع ہے کہ عالمی ادارہ ایران کے جوہری تنصیبات کے معائنہ سے متعلق ایران کے عدم تعاون کا اعلان کرے گا، جس کے بعد ایران کے خلاف سلامتی کونسل میں قرارداد لائی جا سکتی ہے، جس کو امریکہ و اسرائیل ایران پر حملے کے لیے بطور قانونی جواز استعمال کریں گے۔

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایران کی حساس جوہری تنصیبات 800 میٹر زیر زمین واقع ہیں، متعدد تنصیبات کی سیکورٹی انتہائی سخت ہے اور انھیں تباہ کرنے کے لیے بے تحاشا طاقت کی ضرورت ہو گی۔ رافیل گروسی نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو ایران جوہری بم بنانے کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

امریکہ و اسرائیل کے حالیہ اقدامات کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھا کر اسرائیل کے حق میں من پسند معاہدہ حاصل کرنے کی کوشش بھی ہو سکتے ہیں۔ تاہم جنگی کا حقیقی خطرہ موجود ہے۔ ایران پر ممکنہ حملے کے لیے اسرائیل کو امریکہ کے 30 ہزار وزنی بنکر بسٹنگ بم جی بی یو 57 / اے /بی اور بی ٹو اسپرٹ اسٹیلتھ بمبار طیارے کی ضرورت ہو گی، بی ٹو واحد امریکی طیارہ ہے جو اس وزنی بم کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کی اسٹیلتھ صلاحیت اسے ریڈار سے بچاتے ہوئے انتہائی حساس اہداف تک پہنچنے کی سہولت فراہم کرتی ہے، جو ایسے بھاری ہتھیار کے موثر استعمال کے لیے ضروری ہے۔ دوسری طرف ایران نے ہوم میڈو روسی میزائل دفاعی نظام سے اپنی فضائی حدود کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔

ایران پر حملے کی صورت میں جنگ صرف ایران تک محدود نہیں ہوگی، بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل جائے گی، عراق، یو اے ای، قطر، کویت، بحرین، سعودی عرب اور ترکیہ میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے جوابی حملے سے یہ ممالک بھی جنگ میں کودنے پر مجبور ہوں گے، ایران کے پاس ایسے ہائپرسانک بیلسٹک میزائل موجود ہیں، جو اسرائیل کے تمام شہروں کو ہدف بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

آبنائے ہرمز ایسا اہم اسٹراٹیجک اہمیت کا حامل ’چوک پوائنٹ‘ ہے، جسے ایران اپنے حق میں استعمال کر سکتا ہے، یہ نہ صرف عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے بلکہ اس کی جغرافیائی اہمیت ایران کو ایک طاقتور اسٹریٹیجک مقام بھی فراہم کرتی ہے۔ ایران کی ساحلی سرحد اس آبنائے کے شمالی جانب واقع ہے، اور تہران نے متعدد بار عندیہ دیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ اس آبی گزرگاہ کو بند کر سکتا ہے۔ ایران کے پاس پاسدارانِ انقلاب کی بحری یونٹ، ساحلی میزائل سسٹمز، اور زیرِ سمندر بارودی آلات کے ذریعے اس آبنائے پر موثر کنٹرول کی صلاحیت موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی ڈیٹرنس پالیسی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات میں ایک اسٹریٹیجک لیوریج پوائنٹ بن چکی ہے

دوسری طرف آبنائے باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو جوڑتی ہے، جو یورپ اور ایشیا کے درمیان سمندری تجارت کا اہم راستہ ہے۔ یمن میں ایران کے اتحادی حوثی جنگجو اس کے اطراف کے علاقوں میں موجود ہیں اور گزشتہ ڈیڑھ سال سے اسرائیلی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ حوثیوں کا اثر اس آبی گزرگاہ کو عالمی ٹریڈ روٹس کے لیے غیر یقینی اور خطرناک بنا دیتا ہے، جس سے بین الاقوامی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔

جنگ کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب کو بند کر کے بڑا عالمی معاشی بحران پیدا کر سکتا ہے، جس سے یورپ اور امریکہ سمیت پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کا شدید متاثر ہونا یقینی ہے۔ اس لیے امریکہ و اسرائیل کو جنگ پسندانہ ذہنیت کو ترک کرتے ہوئے معاملات کو جنگ کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے پرامن طریقے سے حل کرنا چاہیے، بصورت دیگر ناجائز اسرائیلی مفادات کے تحفظ کی غیرمشروط امریکی پالیسی کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے، جو دنیا بھر کے ساتھ امریکہ، اسرائیل و یورپ کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوں گے۔

Facebook Comments HS