غربت کی لکیر کے نیچے سسکتی انسانیت اور مولانا طارق جمیل کے آنسو
ورلڈ بینک کی حالیہ ہوش ربا رپورٹ کے مطابق 47 فیصد لوگ غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں، مطلب آدھی آبادی انتہائی کسمپرسی کی زندگی جی رہے ہیں، معیار زندگی کے افسانے، تعلیم کا معیار، صحت اور صاف پانی ایسے مسائل تو ایک طرف کر دیں، جب زندگی ہی ڈانواں ڈول ہو تو ضروریات زندگی کی بھلا کیا اہمیت؟
اب اس طرح کے سماج میں خوبصورتی کیسے پنپ سکتی ہے؟
انصاف اور ہمواری رویے کیسے پروان چڑھ سکتے ہیں، اخلاقی معیار، سچ اور جھوٹ کے بیچ تمیز کی باریک سی لائن کا بنیادی فرق کیسے برقرار رہ سکتا ہے؟
کیا بنا معیشت کے اعلیٰ اخلاقی رویے فروغ پا سکتے ہیں؟
اگر بنا معیشت کے انسانوں کی انسانیت برقرار رہنے کا کوئی امکان ہوتا تو مین ہول کے ڈھکن محفوظ رہتے، مساجد میں نمازیوں کے جوتے، مہنگی ٹونٹیاں، چھت والے پنکھے اور مساجد کے گلک جن پر
” خزانہ آخرت“ جلی حروف میں لکھا ہوتا ہے چوری ہونے سے محفوظ رہتے۔
شہر خاموشاں ”قبرستان“ جو عبرت کی اہم ترین جگہ ہے وہاں تو کم از کم مختلف قبروں پر نصب لوہے کی بنی تختیاں محفوظ رہتیں، قبروں میں لیٹی خواتین ہوس ناکیوں سے محفوظ رہتیں، حتی کہ وہاں پر نصب نل اور قبروں کی کھدائی کا سامان تک چوری ہو جاتا ہے۔
زندگی کی اس سے زیادہ مکروہ شکل بھلا کیا ہو سکتی ہے کہ جائیداد کے حصول کے لیے بیٹا باپ کی جان کا دشمن بن جائے، بیٹیوں کو جائیداد سے محروم رکھنے کے لیے ان کی قرآن مجید سے شادی یا بہنوں کو ایموشنل بلیک میل کر کے جائیداد بھائیوں کے حوالے کرنے ایسے جواز تراشے جائیں۔
چھوٹے بچوں بچیوں سے جنسی کھلواڑ کرنے والے کون لوگ ہوتے ہیں؟
اوپر بیان کیے گئے مکروہ ترین جرائم کا ارتکاب کرنے والے کہاں سے آتے ہیں؟
یہ سب اسی سماج سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں جہاں کی 47 فیصد آبادی غربت کی سطح سے نیچے سسک رہی ہے، یہ وہی تو ہیں جو نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، حج اور عمرہ کی سعادت کے ذریعے قادر مطلق کی برکات سے ڈائریکٹ مستفید ہوتے ہیں، تبلیغی جماعت میں سہ روزہ اور چلے لگاتے ہیں، مختلف علماء کرام کے بیانات سننے کے علاوہ دل میں یہ کامل یقین بھی بٹھائے ہوئے ہوتے ہیں کہ اللّٰہ رب العزت سب دیکھ رہے ہیں اور ایک دن اسی کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کا حساب بھی دینا ہے، سوال یہ ہے کہ اس قدر روحانی مشقت و ریاضت لا حاصل سی کیوں رہ جاتی ہے؟
گزشتہ دنوں مولانا طارق جمیل کا ایک کلپ نظروں سے گزرا جس میں وہ زار و قطار روتے ہوئے تبلیغی بزرگوں سے گلہ فرما رہے تھے، اس شکوے کا لب لباب کچھ یوں بنتا ہے کہ میری زندگی کی کل ریاضت اور اثاثہ تم ہنسی میں اڑا گئے، مطلب مجھے تبلیغی جماعت سے ہی عاق کر دیا۔
سوال یہ ہے کہ مولانا طارق جمیل ہوں یا تبلیغی جماعت کے روایتی بزرگان، ان کی محنتوں کا مجموعی ثمر کیا ہے کہ جس کی بدولت معاشرے میں انسانوں کی زندگیوں میں کوئی بہتری آئی ہو سوائے عبادات کے؟
رونا اور ماتم تو اس بات پر بنتا ہے کہ انسانیت غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو چکی ہے، ضروریاتِ زندگی پوری نہ ہونے کی وجہ سے مرد اور خواتین بچوں سمیت خود کشیاں کر رہے ہیں۔
مولانا طارق جمیل ہوں، دیگر علماء ہوں یا تبلیغی بزرگان، ان کی زندگیاں تو ایک عام آدمی سے قدرے بہتر اور مستحکم ہیں لیکن جو سادہ لوح ان کی عقیدت کے سائے تلے جی رہے ہیں وہ تو غربت کے گڑھے میں دھنستے ہی چلے جا رہے ہیں، ان کے پیچھے نمازیں پڑھنے، دعائیں مانگنے اور ان کی دنیاوی ضرورتوں کو پورا کرنے والوں کے دن کیسے پھریں گے؟
مولانا طارق جمیل کا رونا اس بات پر بنتا ہے کہ اس قدر وعظ و نصیحت کے باوجود ہم معاشرے میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں لا سکے، لوگوں کے دلوں میں حقیقی خوف خدا پیدا نہیں کر پائے، ورنہ اوپر بیان کردہ جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہوتی جو کہ اب بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
یہ کہنا کافی نہیں ہو گا کہ میری وجہ سے اداکاروں، سنگرز اور کھلاڑیوں نے اپنے پروفیشن سے توبہ کر کے قادر مطلق سے لو لگا لی، لاکھوں گناہ گار نیکیوں کی طرف راغب ہو گئے، سوال یہ ہے کہ آپ کی ان کاوشوں سے سماج کے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں میں کیا مثبت تبدیلی رونما ہوئی؟
کیا جنید جمشید کے شو بزنس کو ترک کرنے، کرکٹ یا دیگر شعبہ جات کے ماہرین کے تبلیغ کی طرف راغب ہونے سے غربت میں کوئی کمی واقع ہوئی یا لوگوں کے معیار زندگی میں کوئی فرق پڑا؟
بالکل نہیں ہاں اتنا ضرور ہوا کہ مبلغین پہلے سے زیادہ ہو گئے ہیں۔
سطح غربت سے نیچے سسکتی انسانیت کے بھوکے پیٹ بھوکے رہے، ننگے جسم بے لباس رہے، ادویات اور علاج کی سہولت نہ ملنے کی وجہ سے لوگوں کے سسک سسک کر مرنے کی شرح میں رتی بھر بھی کمی نہیں ہوئی؟
جابجا تبلیغی قافلے لوگوں کے گھروں کی کنڈیاں کھٹکھٹا کر تبلیغ کرتے ہوئے تو ملیں گے لیکن لوگوں کے دکھوں کا ازالہ کرنے کی جسارت نہیں کریں گے، سسکتی انسانیت کی آنکھوں میں جھانک کر ان کا حقیقی دکھ جاننے کی قطعاً کوشش نہیں کریں گے۔
پہلے اس قوم کا معیار زندگی تو بلند کر لیں ان کے اخلاق خود بخود سنور جائیں آپ کو فکر کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہوگی۔
بقول ساحر لدھیانوی۔
مفلسی حس لطافت کو مٹا دیتی ہے،
بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی۔
غریب پروری کے لیے غریبوں کے بیچ بیٹھنا پڑتا ہے، مثالیں دینے سے پہلے خود مثال بننا پڑتا ہے، نفسانی مکروہات کا قلع قمع کرنے کے لیے پہلے خود کے تکبر و رعونت کی بلی چڑھانا پڑتی ہے، بیانات اور وعظ و نصیحت میں خود کی بڑائی بیان کرنے اور جاگیر دارانہ شجرہ نسب بیان کرنے سے اجتناب برتنا پڑتا ہے۔
لیمو زین اور پراڈو سے اتر کر سادہ طرزِ زندگی کو ترجیح دینا پڑتی ہے، ایک ٹکٹ میں دو نظاروں سے مستفید نہیں ہوا جا سکتا یا تو پورے کے پورے دین میں داخل ہو جاؤ یا دنیا کے طلسم میں کھو جاؤ۔


