ٹک ٹاکر کا قتل


فی الحال سوچنے پر پابندی نہیں لگی لیکن جلد لگ جائے گی پھر حکم ہو گا فلاں شخص کو درخت سے لٹکا دو، ذبح کردو یا سینے میں گولیاں اُتار دو۔ بہر صورت جب سبجیکٹ تڑپ تڑپ کر جان دیتا ہے اس کا نظارہ قاتل کو نشے کی سی سرشاری دیتا ہے۔ مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ بھٹو یا کینیڈی کیونکر مرے، میرے سامنے تو ایک خوبصورت عورت کی شبیہ ہے جس کی گردن گلوٹین سے اڑا دی گئی جو مجسم حیات تھی، اور جس کی سانس کائنات کے سینے سے آہنگ خاموش کی مانند گزرتی تھی۔ جس کی ایک جھلک کائنات کے مردے میں سیروٹونین کی لہر رواں کر دیتی ہے۔ وہی عورت جسے زمانہ پہچان ہی نہیں سکا۔ کیا  اُس کی جسمانی و عقلی استعداد اُس کے نر سے کم تھی۔ اس لیے اسے کرنسی بنا دیا گیا۔ تجارت کرو، جنگیں لڑو، اسے دکھا کر مال بیچو۔ اسے شو کیس میں لگانے والا خود کیا بنا؟ کیا اُسکی حیثیت کسی دیوتا جیسی بن گئی۔ اسے مار کر خود جیل گیا۔ خود کو بہت سیانا سمجھنے والا بیوقوف نکلا۔ سوال یہ ہے کیا وہ مر گئی۔ یا مزید زندہ ہو گئی۔ کیا اُس کا ہنستا معصوم چہرہ فراموش ہو گیا۔ کیا تاریخ اسے بھلا دے گی۔ مرزا زرتشت کی سن بھائی کیا بول رہا ہے۔

ہو کے عاشق وہ پری رخ اور نازک بن گیا
رنگ نکھرتا جائے ہے، جتنا کہ اُڑتا جائے ہے

حیات و ممات ایک جھرنے کے دو دھارے ہیں۔ کوئی حتمی سچائی نہیں، حیا نہیں، حق نہیں۔ ہر ایک اپنی ضد میں گم ہو جاتا ہے۔ جو محض ضد اور انا میں آ کر خون کے فوارے چلاتے ہیں۔ وہ شاید جانتے نہیں کہ دو ہزار سال بعد ہماری تہذیب بھی مٹ چکی ہوگی اور آثار قدیمہ میں ہمارے ڈھانچے بھی نہ ملیں گے۔ لیکن کچھ آفاقی سچائیاں ہیں جو امر ہیں، زندہ و جاوید حسن مطلق جو سب سے بڑی نیکی ہے اور خالق ہے جو عورت میں جیون کی تخلیق کرتا ہے۔ عورت جو مہربان ہے، رحم دل ہے اور خوبصورت ہے۔ اگر وہ مر گئی تو سمجھو موت ایسی بھی کیا کٹھن ہوگی۔ اور اُس کا قاتل جو بازو پر ٹیٹو بنا، داڑھی رکھ کر، دھونس کی نفسیات کا حامل ہے اُس کا کیا مقام ہے۔ رہتی سانسوں تک اُس کی پھٹکار کیا ہے؟

اگر وہ زندگی، رحم دل اور ماں تھی تو اُس کا رفیق کون تھا۔ صدیوں کے وجودی جبر میں اس نے اپنی ہی سب سے محبوب چیز کو غارت کرنا کیونکر سیکھا۔ اُس کی مایوسی، ضد اور نفرت کی جڑیں کہاں جاتی ہیں۔ اور کیا دو ہزار سال بعد کا مرد بھی آج کے مرد جیسا ہی ہو گا؟

اس کی کم ظرفی تو دیکھو جس ٹک ٹاک سے اپنے تخیل کے جام و سبو بھرتا ہے اسے ہی بے حیائی جانتا ہے۔ خلوت میں پوکی، جلوت میں سگما۔ دو منٹ پہلے جو پیاس سے نڈھال دوڑا چلا آتا تھا ریفریکٹری پریڈ میں فوراً جالینوس بن جاتا ہے۔ اور کراہت سے منہ موڑ لیتا ہے۔ فلسفہ جاں بہ لب نہیں، گاؤدی انسان جاں بہ لب ہیں۔ روٹی کمانے، کھانے کا اس سے زیادہ کیا رول ہے کہ اگلے مجرے کے جذباتی ہیجان کا خام مال فراہم کرتی ہے۔ بعض لوگوں کے مطابق صفائی شروع ہو گئی ہے۔ نادان نہیں جانتے کہ جس چیز کو وہ فحاشی کہہ رہے ہیں انسانی فطرت کا مغز ہے۔ اور یہ زمانوں سے انسانی تخیل کو سمت دکھاتی آئی ہے۔ افسوس ہم آج بھی گناہ کی بیاض میں قتل، نا انصافی، سماجی جبر کی بجائے عورت پر گھیرا تنگ کیے بیٹھے ہیں۔ ہماری ٹنل ویژن اور کم ظرفی کا اور کیا ثبوت ہو گا کہ لکھی تاریخ اور فلسفے میں اُس کا ذکر ہی نہیں۔ اور تو اور مذاہب عالم نے بھی اسے ثانوی جگہ ہی دی۔ شجر ممنوعہ کھا کر ہمیں اُس کا برہنہ پنڈا تو نظر آتا ہے لیکن اپنا آپ حذف کر جاتے ہیں جیسے آدم نے تو اپنا ٹکسیڈو اُتارا ہی نہیں۔ مسئلہ سارا ہماری مائنڈ میپنگ کا ہے۔ عورت کوئی گناہ کا اوتار نہیں، وہ مرتبے میں مرد کے برابر ہے۔ اتنی سی بات ہمیں ہزاروں سال گزرنے کے باوجود سمجھ نہیں آ رہی۔

اُس کا ناحق قتل ہوا۔ اُس کی سوچ، مزاحمت اور روح نئے ولولے سے انسانی شعور میں جان ڈالے گی۔ جس کی بازگشت ایک زمانہ سنے گا۔ بقول مرزا

توڑ بیٹھے جب کہ ہم جام و سبو
پھر ہم کو کیا آسمان سے بادۂ گلفام گر برسا کرے

Facebook Comments HS