افسانہ: آواز
وہ اس دن سخت تھکن سے دوچار تھا۔ آنکھوں میں بوجھل پن دکھائی دے رہا تھا۔ نیند غلبہ پا رہی تھی۔ دفتر میں کام کی کثرت نے کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔ آج بھی اسے دفتر کی اسائنمنٹ گھر پر مکمل کرنی تھی۔ نیند بھگانے کے لیے اس نے باتھ روم کا رخ کیا۔ وہ بیسن پر ہاتھ منہ دھونے لگا۔ جتنی بار بھی پانی کے چھینٹے منہ پر مارتا، نیند کا غلبہ اتنا ہی بڑھتا جاتا تھا۔ اس نے دونوں ہاتھ بیسن پر ٹکا دیے۔ وہ مشکل سے آنکھیں کھول پا رہا تھا۔ اسی دوران اس نے دیوار پر لٹکے آئینے کی طرف دیکھا۔ کچھ لمحے یہ سوچتے گزر گئے کہ آئینے میں اس کا چہرہ غائب تھا۔ آئینے میں اس کی بجائے عقبی دیوار نظر آ رہی تھی۔ وہ بری طرح چونکا۔ اس نے زور سے پانی کے چھینٹے اپنے منہ پر مارے اور پھر آئینے کی طرف دیکھا۔ اب اس کا تھکا ہوا چہرہ آئینے میں موجود تھا۔
”شاید ان دنوں میں زیادہ کام کر رہا ہوں۔ کام کی زیادتی نے میرے ذہن کو متاثر کیا ہے“ ۔ اس نے سوچا اور ہال کی طرف چل دیا۔
وہ رات دیر تک کام کرتا رہا۔ اسائنمنٹ مکمل ہونے کے احساس نے اس میں نیند کی شدت پیدا کر دی تھی۔ وہ بیڈ روم میں آیا اور سو گیا۔
دیوار پر لگے چھوٹے بلب کی روشنی نے اندھیرے کو چیرتے ہوئے پورے کمرے کو منور کر دیا۔ کمرے میں ایک بستر اور دو سائیڈ ٹیبلز تھیں۔ دونوں میزیں عموماً کتابوں کے بوجھ تلے دبی رہتی تھیں۔ وہ کئی گھنٹوں سے منہ کے بل لیٹا گہری نیند سو رہا تھا۔ دفتر سے وہ پانچ بجے فارغ ہو جاتا، مگر نو یا دس بجے ہی گھر پہنچ پاتا۔ آج دفتر میں چونکہ کام زیادہ تھا، اس لیے تھکن بھی شدید تھی۔
دیوار پر لگی گھڑی نے دو بجے دکھائے۔ وہ خواب میں ایک دوشیزہ کو دیکھ رہا تھا۔ دوشیزہ رنگین لباس میں ملبوس تھی۔ وہ اس کی خوبصورتی میں اس قدر کھو گیا کہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا۔ وہ اس کے قریب ہوتا گیا۔ چہرہ مزید واضح ہوتا گیا۔ وہ حسن میں بے مثال تھی۔ جب وہ بالکل قریب پہنچا تو اس کے گال چھونے کی خواہش ہوئی۔ اچانک اسے محسوس ہوا کہ وہ کچھ کہہ رہی ہے، مگر آواز سنائی نہ دے رہی تھی۔ اس نے پوری توجہ سے سننے کی کوشش کی۔ اب آواز تو آ رہی تھی، مگر الفاظ سمجھ میں نہ آتے تھے۔ وہ غور سے سننے لگا کہ اچانک وہ خوبصورت دوشیزہ کرخت اور بھاری آواز میں بولی:
”فون اُٹھا، کمینے!“
وہ اچانک اٹھ بیٹھا۔ نیند اُڑ گئی۔ دل اس تیزی سے دھڑکا کہ لگا سینے سے نکل جائے گا۔ اس نے سانس لے کر خود کو سنبھالا۔ دوبارہ سونے کی کوشش کی تو نیند فضول محسوس ہونے لگی۔ وقت گزارنے کے لیے اس نے سائیڈ ٹیبل پر پڑا فون اُٹھایا۔ اسکرین آن ہوتے ہی اس کے ہوش اُڑ گئے۔ پانچ منٹ پہلے ایک نامعلوم نمبر سے دو مسڈ کالز آئی تھیں۔ کال ہسٹری چیک کی تو پتا چلا کہ پچھلے سال اپریل میں اسی نمبر سے ایک کال آئی تھی۔ وہ سہم گیا۔ اُس تاریخ کو تو اس کا دوست کار حادثے میں انتقال کر گیا تھا۔
یہ کون ہو سکتا ہے؟ اس نے ماتھے کا پسینہ پونچھا۔ وہ بستر سے اٹھا اور کچن میں گیا۔ گلاس میں پانی انڈیل کر ایک سانس میں پی لیا۔ وہ شدید اضطراب میں تھا۔ وہ کچن سے سیدھا ہال میں گیا اور صوفے پر دراز ہو گیا۔ گھڑی کی ٹک ٹک صاف سنائی دے رہی تھی۔
”مجھے کال واپس کرنی چاہیے“ ۔ اس نے بے ساختہ کہا۔
وہ بیڈروم میں لوٹا، فون اُٹھایا اور نمبر ڈائل کر دیا۔ کچھ دیر فون کی گھنٹی بجتی رہی، پھر کال کنیکٹ ہو گئی۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہو چکی تھیں۔ دوسری طرف سے ”ہیلو“ کی آواز آئی۔ وہ چلا اٹھا:
”کون؟“
”ارسلان“
”ارسلان کون؟“
”تم مجھے نہیں جانتے؟“
دل نے ایسا دھڑکا مارا کہ لگا چھلانگ لگا دے گا۔ آواز بالکل اس کی اپنی آواز جیسی تھی۔
”تم ارسلان کیسے ہو سکتے ہو؟ میری آواز کی نقل کرنا بند کرو! ورنہ پولیس کو اطلاع کر دوں گا!“
”پولیس کو فون کرنے کی ضرورت نہیں۔ میرا یقین کرو۔ تم ابھی بیڈروم میں مجھ سے بات کر رہے ہو۔ تم نے لال رنگ کی قمیض پہن رکھی ہے۔ تھوڑی دیر پہلے کچن سے پانی پی کر آئے ہو۔“
گھڑی کی ٹک ٹک اب سنائی نہیں دے رہی تھی۔ صرف دھڑکنیں گونج رہی تھیں۔ اس نے فوراً کال کاٹ دی اور فون بند کر دیا۔

