زبانیں جو دریا بن گئیں


 

شام کے سات بج رہے تھے، لیکن کراچی کا آسمان اب بھی سورج کے کچھ ذرے تھامے ہوئے تھا۔ باہر سڑک پر چائے والے کی کیتلی سے بھاپ اٹھ رہی تھی، اور اندر سارہ ندیم کے لیپ ٹاپ کی اسکرین پر دنیا سمٹ آئی تھی۔ نیویارک، برلن اور کراچی ایک ساتھ سانس لے رہے تھے۔

زوم میٹنگ میں تین چوکٹھے تھے، تین وقت، تین زبانیں، لیکن ایک ہی دھڑکن۔ ایک ہی سوال سب کے ذہن میں گونج رہا تھا: ہم شاعری سے کیا تلاش کرتے ہیں؟

نیویارک سے زوئی لی نے مسکراتے ہوئے کہا، ”جانتی ہو، میں آج بھی ’محبت‘ کا تلفظ ویسے نہیں کر پاتی جیسے تم کرتی ہو۔“

سارہ نے مسکرا کر جواب دیا، ”تم محبت کہتی ہو، ہم جیتے ہیں۔ فرق بس اتنا ہے۔“

برلین سے ژان ہنریش نے اپنی کافی کا مگ نیچے رکھا اور بولا، ”محبت کے لیے ہمارے پاس صرف ’Lieb‘ ہے۔ لیکن وہ لفظ کہیں کم محسوس ہوتا ہے۔ جیسے اس میں نمی نہ ہو۔“

سارہ نے کراچی کی کھڑکی کے باہر ایک پرندے کو پھڑپھڑاتے دیکھا اور آہستہ سے کہا، ”اور اردو میں محبت کبھی صرف لفظ نہیں ہوتی۔ اس میں قربانیاں، خواب اور اکثر ایک دریا چھپا ہوتا ہے۔“

ایک لمحہ خاموشی کا تھا۔ ایسا لمحہ جس میں سب نے سانس روکی، اور شاید محسوس کیا کہ زبانیں بولنے کے بعد بھی کچھ کہتی ہیں۔

سارہ ندیم اردو، انگریزی، سندھی اور فارسی کی تہوں میں پلی بڑھی تھی۔ لیاری کی گلیوں سے لے کر کلفٹن کی کتابوں تک، اس کی شخصیت کئی لہجوں میں بٹی ہوئی تھی۔ وہ اس وقت کراچی کی ایک ادبی تنظیم کی سربراہ تھی اور بین الاقوامی شاعری اینتھولوجی کے لیے مشاورتی نشست کی میزبان تھی۔

زوئی لی نیویارک یونیورسٹی میں پڑھاتی تھی اور چینی دیاسپورا پر شاعری کرتی تھی۔ ایسی زبانوں میں جو کبھی خوابوں میں بولی جاتی تھیں، کبھی صرف خامشی میں۔

ژان ہنریش، برلن سے، سندھی ادب کا مترجم اور فلسفی تھا۔ وہ سندھ کے دریا پر کتاب لکھ رہا تھا جس کا عنوان تھا ”سرحدوں سے ماورا دریا“ ۔ اس کا تعلق اسی جرمن علمی روایت سے تھا جس نے برسوں پہلے این میری شمل جیسے اسکالر پیدا کیے، جنہوں نے تصوف اور صوفی شاعری پر تحقیق کی، خاص طور پر شاہ لطیف بھٹائی جیسے شعرا پر۔

ژان نے ذکر کیا، ”شاہ جو رسالو پہلی بار انگریزوں کی ایماء پر جرمنی ہی سے شائع ہوا تھا۔ اسی سے سندھی شاعری اور زبان کا گرامر دنیائے انگریزی میں متعارف ہوا۔“

سارہ نے اثبات میں سر ہلایا، ”اور آج سندھی ان زبانوں میں شامل ہے جو گوگل ترجمہ کر سکتا ہے۔ وہ زبان جو ایک وقت میں کاتب ہاتھ سے حرف جوڑ کر تیار کرتے تھے، اب کمپیوٹر پر ٹائپ ہوتی ہے۔“

زوئی نے کہا، ”یہ سب کچھ ٹیکنالوجی کی دین ہے، یہی ویڈیو کانفرنس، یہی ہمارے درمیان یہ لمحے۔“

سارہ نے مسکرا کر کہا، ”سندھی زبان کا ڈیجیٹل کی بورڈ بھی تو گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے تیار ہوا تھا۔ یہ سب محض ترقی نہیں، زبانوں کی حفاظت اور تسلسل کا عمل ہے۔“

پھر اس نے کہا، ”میں ایک نظم سناتی ہوں جو میری نانی کے لیے ہے۔ وہ صرف سندھی بولتی تھیں، لیکن اُن کی خامشی سب زبانوں سے زیادہ واضح تھی۔“ اس نے نظم پڑھی:

بارش کی زبان میں، ماں کی دُعا بھیگتی ہے
اور چولہے کی راکھ میں پرانا وقت سانس لیتا ہے
دریا جو مٹی میں اترتا ہے، وہ فقط پانی نہیں ہوتا
وہ درد ہوتا ہے، قربانی، اور وہ سچ
جسے صرف ماں کے ہاتھ چھو سکتے ہیں

ژان  نے آہستہ سے کہا، ”یہ محض ترجمہ نہیں، بلکہ ایک یاد ہے جو ہجرت کر رہی ہے۔“
زوئی نے اثبات میں سر ہلایا، ”ہم ترجمہ نہیں کرتے، ہم لمحے منتقل کرتے ہیں۔“

سارہ نے آسمان کی طرف دیکھا۔ سورج کا آخری ذرہ افق پر تھرک رہا تھا، جیسے وہ بھی کسی زبان میں آخری حرف بول رہا ہو۔

پھر اس نے کہا، ”زبانیں دراصل ایک ہی دھرتی کا سنگیت ہیں۔ ایک ہی ساز کے مختلف سُر، جو جب بہتے ہیں تو دریا بن جاتے ہیں۔“

”وہ دریا جو مٹی میں نہیں، جذبات میں بہتے ہیں۔ اور جب ہم شاعری کرتے ہیں، تو ہم انہی دریاؤں کی لہروں پر تیرتے ہیں۔“

ژان نے کہا، ”تم نے کبھی سوچا؟ یہ زوم میٹنگ جیسے کوئی پرزم ہو۔ ہم سب اپنی زبانوں کے رنگ اس میں ڈال رہے ہیں، اور ایک نئی روشنی جنم لے رہی ہے۔“

زوئی نے کہا، ”رنگ الگ ہیں، مگر روشنی ایک ہے۔“
سارہ نے مسکرا کر کہا، ”اور وہ روشنی شاید شاعری ہے۔“

Facebook Comments HS