بچپن کا سودا: چائلڈ لیبر ڈے پر ایک نوحہ


دنیا بھر میں ہر سال 12 جون کو چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن (World Day Against Child Labour) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد بچوں سے مشقت لینے کے خلاف آواز بلند کرنا، ان کے حقوق کا شعور اجاگر کرنا، اور حکومتوں و معاشروں کو متوجہ کرنا ہے کہ معصوم ہاتھ قلم، کھلونے اور خوابوں کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ محنت، پسینے اور محرومی کے لیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک دن منانے سے چائلڈ لیبر کا خاتمہ ممکن ہے؟ کیا کسی اخبار میں تصویر چھپوانا، کسی سیمینار میں تقریر کرنا، یا کسی اسکول میں بچوں کو چاکلیٹ بانٹنا، اس المیے کا حل ہے جس نے لاکھوں بچوں سے ان کا بچپن چھین لیا ہے؟

چائلڈ لیبر کے پس منظر میں سب سے بڑا سبب غربت کو سمجھا جاتا ہے، جو کہ جزوی طور پر درست ہے۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، نائجیریا جیسے ترقی پذیر ممالک میں جب گھر کے بڑوں کو روزگار نہیں ملتا تو بچے مزدوری پر لگا دیے جاتے ہیں تاکہ چولہا جلتا رہے۔ مگر یہ کہانی کا صرف ایک رخ ہے۔ دوسرا رخ لاعلمی، بے حسی اور غیرمنصفانہ نظام ہے۔ ایسے کئی والدین بھی ہیں جو خود خواندہ ہیں مگر بچوں کو تعلیم دینے کے بجائے دکان، ہوٹل، ورکشاپ یا گھروں میں کام پر لگا دیتے ہیں۔ اس لیے چائلڈ لیبر محض غربت کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک معاشرتی بیماری بھی ہے جس کا علاج صرف معیشت نہیں، سوچ کی تبدیلی سے ممکن ہے۔

کیا آپ نے کبھی کسی ہوٹل میں برتن دھوتے ہاتھ دیکھے ہیں؟ کسی گیراج میں گریس اور چکنائی میں لتھڑے ننھے ہاتھوں کو دیکھا ہے؟ کسی گھر میں نوکرانی بنی 10 سالہ بچی کو دیکھا ہے جو خود بھوکی رہ کر دوسروں کو ناشتہ دے رہی ہوتی ہے؟ یہ سب چائلڈ لیبر کی شکلیں ہیں۔ ان بچوں کی آنکھوں میں وہ خواب نہیں ہوتے جو اسکول کے بچوں کی آنکھوں میں ہوتے ہیں۔ ان کی زبان پر وہ نظمیں نہیں، وہ گالیوں اور گاہکوں کے طعنے سننے کی عادت ہوتی ہے۔ ان کے جسم قبل از وقت جھک جاتے ہیں، اور ان کی روح بچپن میں ہی بوڑھی ہو جاتی ہے۔

پاکستان سمیت کئی ممالک میں چائلڈ لیبر کے خلاف قوانین موجود ہیں۔ پاکستان میں ”Employment of Children Act 1991“ ، اور آئین کا آرٹیکل 11 ( 3 ) بچوں سے خطرناک مشقت لینے کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ چونکہ یہ بچے سب سے کمزور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی آواز بلند کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ نہ تو ان کے پاس وکیل ہوتے ہیں، نہ پلیٹ فارم۔ اس لیے انہیں کوڑے، گالیاں، اور تنخواہ کے بغیر کام پر رکھنا آسان ہے۔ یہ ایک خاموش غلامی ہے جسے ہم روز اپنی نظروں سے دیکھتے ہیں مگر کچھ نہیں کہتے۔

چائلڈ لیبر کے خلاف ایک دن منانا اگرچہ اہم ہے، مگر اصل ضرورت ایک مستقل، مربوط اور سنجیدہ کوشش کی ہے۔ ریاست کی سطح پر ایسے بچوں کی فوری بحالی، تعلیم، اور خاندان کی مالی مدد ہونی چاہیے۔ سماجی سطح پر چائلڈ لیبر کو جرم سمجھنے کی سوچ عام ہونی چاہیے، نہ کہ مجبوری سمجھ کر قبول کیا جائے۔ انفرادی سطح پر ہمیں ایسے بچوں کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے، کم از کم خاموش تماشائی بننے سے انکار تو کریں۔ بچہ مزدور نہیں، خواب دیکھنے کا حق دار ہے۔ چائلڈ لیبر دراصل ایک ایسا جرم ہے جو ہم سب کی خاموشی سے پروان چڑھتا ہے۔ ہر وہ شخص جو کسی بچے کو مزدوری کرتے دیکھ کر خاموش رہتا ہے، اس جرم میں شریک ہوتا ہے۔ چائلڈ لیبر صرف بچوں کا مسئلہ نہیں۔ یہ معاشرے کی غیرانسانی روش، بے حسی اور طبقاتی تفریق کی علامت ہے۔ کیا ہم واقعی بچوں کو کتاب اور کھلونا دینے کے بجائے انہیں ہتھوڑی، برش، اور برتن تھمانا چاہتے ہیں؟

چائلڈ لیبر ڈے کو صرف تقاریر کا دن نہ بنائیں۔ اسے ضمیر جھنجھوڑنے، سوال اٹھانے، اور عملی قدم بڑھانے کا دن بنائیں۔ تاکہ وہ دن آئے جب ہر بچہ قلم تھامے اسکول کی طرف جا رہا ہو، نہ کہ کسی ہوٹل، ورکشاپ یا کوڑے دان کی طرف۔

Facebook Comments HS