سانجھ: جہاں کتابیں بکتی نہیں، بانٹی جاتی ہیں

کتابوں کی دکانوں کا تذکرہ ہو تو ذہن میں اکثر وہی روایتی منظر ابھرتا ہے۔ شیلفوں پر سجی کتابیں، بے رونق چہروں والے دکاندار، اور ایک سودا سا، جیسے الفاظ کو ترازو میں تولا جا رہا ہو۔ اگر آپ لاہور کی ٹیمپل روڈ سے صفاں والے چوک سے گزر کر مزنگ اڈے کی طرف مڑیں، تو بائیں ہاتھ ایک گلی میں ’سانجھ‘ نام کی ایسی کتابوں کی دکان واقع ہے جو دکان سے کہیں زیادہ ایک تہذیبی بیٹھک ہے، ایک علمی تھڑّا ہے، ایک ایسی جگہ جہاں کتابیں محض اشیائے تجارت نہیں بلکہ روح کی غذا بن کر آپ کا استقبال کرتی ہیں۔ یہ ایک چھوٹی سی دکان ہے۔ باہر سے دیکھنے پر شاید معمولی لگے، مگر جیسے ہی آپ اندر قدم رکھتے ہیں، کتابوں کی خوشبو اور حرف کی حرارت آپ کو لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ سامنے کمپیوٹر کے پیچھے ایک دھان پان سا شخص دکھائی دیتا ہے۔ بکھرے بال، چہرے پر چشمہ، اور آنکھوں میں ایک ایسی چمک جس میں کئی کہانیاں سمٹی ہوئی ہیں۔ یہی ہیں امجد سلیم منہاس ’سانجھ‘ کے روح رواں، دکان کے مالک، اور درحقیقت علم کے خادم۔
آپ کو دکان میں داخل ہوتا دیکھ کر وہ کچھ یوں مخاطب ہوتے ہیں، گویا برسوں کا یار ملا ہو گپ شپ کے آغاز میں پوچھ لیں گے چاء تے پیو گے ناں؟ اور پھر کسی ملازم کو آواز دیتے ہیں کہ چائے بنا لاؤ یا پاس والی دکان سے لے آؤ۔ چائے کا دور چلتا ہے اور ساتھ ہی باتوں کا سلسلہ بھی۔ آپ کتاب لینے آئے ہوں یا محض جھانکنے، امجد صاحب پہلے آپ کی طبیعت کو پرکھیں گے، آپ کی دلچسپیوں کو سمجھیں گے، اور پھر اپنی الماریوں کے خزانے کھول دیں گے۔ ان کے ہاں ادیبوں دانشوروں صحافیوں اور سیاست میدان سے وابستہ افراد بھی بیٹھے ملیں گے۔ امجد صاحب کتاب کا تعارف کچھ یوں کراتے ہیں۔
”ایہہ و یکھو، ایہہ نویں آئی اے، فلاں صاحب دی اے۔ تُسیں پڑھو گے تے مزہ آ جائے گا۔“
امجد سلیم بڑی خاموشی سے ماں بولی پنجابی کی خدمت بھی کرتے آرہے ہیں۔ سب سے پہلے پنجابی بولتے اور دوسروں کو بڑے ارادی انداز میں اپنی زبان میں بات کرنے پر ذہنی طور پر آمادہ کرلیتے ہیں۔ سانجھ نام رکھنے کے پیچھے بھی شاید یہی سوچ کار فرما تھی۔ ان کے پبلیکیشن ہاؤس نے زیادہ کتابیں بھی پنجابی میں شائع کیں۔
سانجھ پر اردو اور پنجابی کی درجنوں کتابیں ایسی ملتی ہیں جو کہیں اور نایاب ہو چکی ہیں۔ یہاں تک کہ بعض ادبی جرائد تو ایسے ہیں جو اب صرف یہیں دستیاب ہیں۔ کتاب کی عدم دستیابی کا اعتراف کرتے ہی اس کے حصول پر گفتگو شروع کر دیتے ہیں۔ وہاں موجود کچھ امجد سلیم منہاس کی اپنی شائع کردہ مطبوعات بھی ہوتی ہیں، جن پر تیس سے چالیس فیصد تک رعایت دی جاتی ہے اور یہ رعایت محض قیمت کی نہیں بلکہ خلوص کی ہے، اُس علمی رشتے کی ہے جو وہ ہر گاہک سے جوڑتے ہیں۔ کوئی اگر پوچھے کہ کیا سانجھ کوئی فلاحی ادارہ ہے؟ تو جواب صاف ہے : نہیں، یہ ایک کاروبار ہے۔ مگر ایک ایسا کاروبار جو محبت سے چلتا ہے، ایک ایسی تجارت جس کا سرمایہ کتابیں نہیں، قاری کا اعتبار ہے۔ امجد صاحب کتاب بیچنے سے پہلے قاری کو جیتنے کا فن جانتے ہیں۔
کتاب دوستوں کے لئے مشورہ ہے اگر لاہور میں ہیں اور کتاب خریدنی ہو، تو سیدھا سانجھ چلے جانا۔ کتاب خریدو یا نہ خریدو، مگر امجد سلیم منہاس سے کتابوں کی بات ضرور کرنا۔ وہ تمہیں کتابوں کے پیچھے چھپے زمانے دکھائیں گے، وہ سطر در سطر تمہیں ایسے مصنفین سے ملوائیں گے جن کے لفظ دھڑکتے ہیں۔
سانجھ ایک دکان نہیں، ایک تجربہ ہے۔ یہ ان گنی چنی جگہوں میں سے ہے جہاں لفظ آج بھی زندہ ہیں، اور جہاں قاری کا اب بھی پرتپاک انداز میں استقبال ہوتا ہے۔

