ہاں! میں پیرونائیڈ ہوں
آپ کا تو نہیں معلوم اپنا بتائے دیتی ہوں۔ قندیل بلوچ کے قتل میں جب اس کا اپنا بھائی وسیلہ بنا تو میں کئی دنوں تک اپنے سگے بھائی سے نظریں نہ ملا پائی۔ مجھے کسی اور بھائی کے کرموں کے کارن اپنے بھائی سے اس قدر خوف لاحق ہو گیا کہ اگر کبھی گھر پہ ہم دونوں اکیلے ہوتے تو میں ڈر کے مارے کمرہ اندر سے لاک کر لیتی۔
پھر نور مقدم کے بہیمانہ قتل پر تو میں اندر سے ٹوٹ گئی تھی۔ ہر رشتہ میرے لیے مشکوک ہو گیا تھا۔ ہر رات اس کا کٹا ہوا سر میرے خوابوں میں کسی ڈریکولا کے اڑن کھٹولے کی مانند منڈلاتا رہتا۔ میرے اندر ڈر اور خوف کا یہ عالم تھا کہ نجانے کتنا عرصہ میں نے اپنے بندے سے بات بھی نہ کی۔ وہ جب بھی میرے آس پاس ہوتا۔ کچھ پوچھتا۔ کچھ کہنے کی کوشش کرتا تو میرا دھیان اس کی موجودی سے زیادہ کچن میں پڑے چھری چاقو پر ہوتا کہ یہ دونوں ہتھیار مجھ سے کتنے فاصلے پر ہیں؟ ہنگامی صورت میں اپنے بچاؤ کے لیے ان تک کیسے پہنچنا ہے؟ اور یہاں سے بھاگنا کیسے ہے؟ کیا پتہ؟ کس کے اندر سے کب، کس وقت وحشت پھوٹ پڑے۔ احتیاط پوری ہونی چاہیے۔
میرے اردگرد کے حبس زدہ ماحول میں ایسے واقعات کی کبھی کمی نہیں رہی۔ سو، میں نے سیلف ڈیفنس کی تربیت لینا شروع کی۔ کیونکہ مجھے کسی نفسیاتی مریض کے ہاتھوں مرنا قطعاً پسند نہیں۔ تب تک میں نے علم، ذہانت، محبت جیسے شبدوں سے آگے کچھ سوچا نہیں تھا مگر پھر یہ سب اصطلاحات میرے لیے کھوکھلی ہونے لگیں۔
زندگی میں پہلی بار میں نے ایک چاقو خرید لیا تاکہ ہر وقت ابتدائی طبی امداد کی کٹ کی مانند بیگ میں رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔ گھر کے مردوں سے تو میں الرٹ تھی ہی۔ مگر اب گھر سے باہر بھی ہر وقت چوکنا۔ ہر دم ہوشیار۔ ہم عورتوں کے سینسرز اتنے ایکٹو ہو چکے ہیں جتنے شاید ہی کسی انٹیلی جنس ادارے کے ہوں۔ اِدھر ہم نے پلکیں جھپکیں نہیں، اُدھر دوسرا اپنی اوقات دکھا گیا۔
میرا تعلق وسطی پنجاب کے ایک ایسے شہر سے ہے جہاں میں تنہا، بے فکری کے ساتھ اپنے گھر سے بیکری تک بریڈ کے لیے پیدل جانے کے بارے میں دس بار سوچتی ہوں۔ تاڑنا، گھورنا، جملے کسنا، پیچھا کرنا تو کوئی بات ہی نہیں۔ اگلا آرام سے آپ کی چٹکی بھر کے بائیک پر یہ جا۔ وہ جا۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو اور یہ ایک معمول کی بات ہو۔ ایسی حرکت کرنے والا خود تو اگلے ہی لمحے میں بھول بھال جاتا ہے مگر آپ کو بہت پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ میں سویرے چہل قدمی کرنے جاؤں تو بھی ہاتھ میں ٹیزر یا پیپر سپرے تھام کر ہمہ وقت چوکنا رہتی ہوں۔ بطور سولو ٹریولر میں نے تقریباً پورا پاکستان دیکھا ہے سوائے پنجاب کے۔ یہاں آ کر میری ہمت جواب دے جاتی ہے۔
بدین کے ایک گاؤں میں مقیم چاچا جی مجھے اپنی لاہور یاترا سنا رہے تھے اور لاہوریوں سے بہت نالاں نظر آ رہے تھے۔ بات کرتے کرتے انہوں نے روانی میں کہا؛ ’ہم مینارِ پاکستان دیکھنے گئے۔ وہاں ہماری عورتوں کی بے حرمتی ہوئی۔‘ عورت کی بے حرمتی کا یہ تصور میرے لیے بہت نیا تھا۔ میں نے تو بمشکل زیادتی یا ہراسمنٹ کے لفظ ہی سنے تھے۔ چاچا کے دل اور تربیت میں عورت کا دیوی استھان دیکھ کر میرے آنسو میرے اندر گرنے لگے۔
ہندی فلم ”اینیمل“ تو آپ میں سے بہت سوں نے دیکھی ہوگی۔ اس کے ایک منظر میں ہیرو ہیروئن کے بریزیر کا سٹریپ غلیل کی طرح کھینچ کر اس کی ہی کمر پر مارتا ہے جس سے رشمیکا کی کمر پر لاسیں (نشانات) پڑ جاتی ہیں۔ یہ کیسا رومانس ہے؟
اس ’اِن سیکیور ہائپر‘ مردانگی سے جوجتے لوگ اپنی عورت کو گھر کی چار دیواری سے باہر نہیں نکلنے دیتے اور اگر کوئی دوسری بغاوت کر کے نکل جائے تو وہی ان کو اچھی بھی لگنے لگتی ہے۔ اس کے پیچھے ریں ریں کرتے بھی یہی بھائی صاحب دکھائی دیتے ہیں۔ اس لڑکی کے پاس زیادہ آپشنز ہیں نہیں۔ آفر قبولے یا ٹھکرا دے۔ دونوں صورتوں میں اس کو ان کے اندر پلنے والی ایگو کی تسکین کا سامان بننا ہی بننا ہے۔
کیا ہی کہنے۔ کسی کو اچھی لگ جاؤں تو بھی مسئلہ۔ زہر لگوں تو بھی مسئلہ۔ گھر سے نکلتے ہوئے گاڑی میں پستول، بیگ میں ٹیزر، پیپر سپرے۔ ڈگی میں ڈنڈا۔ الغرض پورا دفاعی سامان ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنا ضروری ہو گیا ہے۔ گویا ہم عورتیں اپنے سروں پہ تصوراتی کفن باندھے گھروں سے کام پہ جانے کے لیے یوں نکلتی ہیں جیسے کوئی پاکستانی احمدی ہر جمعے کو نہا دھو کر عبادت کی خواہش لیے اپنے گھر سے نکلتا ہے۔
نجانے کب کس کی باری آ جائے۔

