ویزا: مٹھائی تو پکی ہو گئی


جب ہمارے ہاتھوں پر ہجرت کی ریکھا نمودار ہوئی تو امریکی ایمبیسی سے ویزہ انٹرویو کا اذن جاری ہوا۔ امریکی ویزہ کے حصول کے لیے ویزہ انٹرویو انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس انٹرویو کی دلچسپ بات یہ ہے کہ انٹرویو کے ساتھ ہی نتائج سے آگاہ کر دیا جاتا ہے۔ یعنی ویزہ منظور ہونے کی صورت میں ہلکے نیلے رنگ کی پرچی تھما دی جاتی ہے جبکہ ویزہ مسترد ہونے کی صورت میں پیلے رنگ کی پرچی کے ساتھ پاسپورٹ واپس کر دیا جاتا ہے۔ یہ سارا معاملہ دو ڈھائی منٹ کے انٹرویو میں ہی طے پاتا ہے۔ ویزہ کے خواہشمند افراد ایک زگ زیگ قطار میں اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں جبکہ تین سے پانچ ویزہ افسر اپنے اپنے الگ کاؤنٹر پر مختلف امیدواران کے انٹرویو کر رہے ہوتے ہیں۔

ویزہ افسر عام طور پر امریکی شہری ہی ہوتے ہیں جو مختلف ایمبیسیز میں فرائض انجام دیتے ہیں۔ افسر اور امیدوار کے مابین ایک شیشہ نما کاؤنٹر حائل ہوتا ہے۔ قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کرتے اور انٹرویو دیتے شخص کے درمیان محض چند قدم کا فاصلہ ہوتا ہے۔ کسی بھی شخص کا انٹرویو مکمل ہونے پر پیلے رنگ کی پرچی دیکھ کر حوصلہ افزائی اور نیلی پرچی پر مبارکباد کے کلمات اچھالے جاتے ہیں۔ سو امریکی ایمبیسی میں چہرے کی رنگت کی بجائے ہاتھ میں تھامی پرچی سے نتائج کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

چونکہ قدرت ہمارے سفری ہدایت نامے پر دستخط کر چکی تھی سو ہمیں ایمبیسی نما ڈاکخانے سے فقط اپنا اجازت نامہ ہی وصول کرنا تھا۔ نیلی پرچی وصول ہونے پر چند قطار باندھے لوگوں کی طرف سے داد وصول ہوئی اور پھر اسی دوران احاطہ سے باہر آ گیا جہاں چند چھوٹی بڑی گاڑیاں کھڑی تھی۔ ان گاڑیوں کا مقصد امیدواران کو واپس اسلام آباد ڈپلومیٹک شٹل سروس تک پہنچانا تھا۔ کسی بھی شخص کو کسی بھی غیرملکی ایمبیسی تک رسائی کے لیے یہ شٹل سروس درکار ہوتی ہے۔ میں فوراً ہی باہر آ گیا تھا اس وجہ سے نیلی پرچی فائل میں نہیں ڈال سکا جس کے سبب دور کھڑا کوئی بھی شکاری نتائج بھانپ سکتا تھا۔

چونکہ اب مجھے واپس اسلام آباد ڈپلومیٹک شٹل سروس تک جانا تھا سو سامنے کھڑی گاڑیوں کی جانب بڑھا۔ دو سے تین ڈرائیور میری جانب لپکے اور جانے کا پوچھا۔ میں جو شٹل ایریا سے آتے ہوئے ایک ہائی ایس گاڑی میں آیا تھا جس میں چند اور لوگ بھی سوار تھے، دل ہی دل میں یہی سوچ رہا تھا کہ شاید گاڑی بھر جانے تک انتظار کرنا پڑے لیکن ایسا نہیں تھا۔ اس وقت فائل سے جھانکتی نیلی رسید دیکھ کر شاید وہ ڈرائیور چوکنے ہوچکے تھے۔ سو باریک واردات یہیں سے شروع ہوئی۔

وہیں کھڑے ایک نوجوان ڈرائیور نے جانے کا پوچھا جس پر میں نے حامی بھر لی۔ میں نے اس کی ٹیوٹا کرولا کی پچھلی نشست پر بیٹھنے کے لیے دروازہ کھولا تو آواز آئی، بھائی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ جائیں۔ میں ابھی اس حیرت انگیز سلوک کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ ڈرائیور بھی جھٹ سے بیٹھ گیا اور گاڑی اسٹارٹ کر دی۔ میں خوش ہوا کہ چلو جلدی ہو گئی۔ نومبر کے آخری ایام یا دسمبر کا آغاز تھا سو سردیاں آ چکی تھیں۔ اس نوجوان ڈرائیور نے چترالی ٹوپی پہنی ہوئی تھی اور مونچھ کچھ ایسے بڑھائی ہوئی تھی کہ وہ جب بھی ان پر ہاتھ پھیرتا یا مسکراتا تو مونچھیں نمایاں نمایاں سی ہو جاتیں۔

ڈرائیور نے روایتی سلام کلام کیا اور ویزہ کی بابت دریافت کرنے لگا حالانکہ کہ وہ ادراک کر چکا تھا۔ خیر پوچھنے پر بتایا سٹڈی ویزہ اپروو/منظور ہوا ہے۔ جس پر اس نے خوشی کا اظہار کیا، ایک لمحے کے لیے مجھے لگا شاید اس کو اس بات کی مجھ سے زیادہ خوشی ہے۔ بولا ”امریکہ کا سٹڈی ویزہ پچانوے فیصد ریجیکٹ ہوتا ہے بہت بڑی بات ہے اب تو بھائی سے مٹھائی کھائیں گے“ ۔ یہ سن کر میں کھسیانی ہنسی ہنسا، میں سمجھ گیا یہ مٹھائی کے نام پر بھتہ وصول کرنا چاہتا ہے۔ مجھے وہ چار پانچ منٹ کا سفر ٹال مٹول میں نکالنا تھا سو میں نے کہا جی جی بھائی ضرور کبھی چکر لگائیں۔ اسے لگا شاید میں اس کی بات سمجھا نہیں، پھر بولا ”بھائی مٹھائی تو پکی ہو گئی“ ۔ میں نے بات گول کرتے ہوئے ”جی جی“ کر دیا۔ اسے سمجھ آ گئی ہوگی کہ یہ گھی سیدھی انگلی سے نکلنے والا نہیں۔ اب کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔

سامنے سے ایک موٹر سائیکل سوار نے کراس کیا۔ خاموشی کا قفل توڑنے کی غرض سے میں نے دریافت کرنا چاہا کہ اتنے زیادہ سیکیورٹی رسک علاقے میں موٹرسائیکل سوار کیسے؟ اس پر تو کوئی خاطر خواہ جواب نہ ملا البتہ ڈرائیور بھائی نے ایک بار پھر امریکی ویزہ کی اہمیت پر زور دیا، اس کٹھن مرحلے میں آنے والی مشکلات سامنے رکھیں اور مجھے خوش نصیب قرار دے کر ایک بار پھر گویا ہوا ”بھائی آج مٹھائی تو پکی ہو گئی“ ۔ میں اس جملے سے اکتا سا گیا اور میں نے اس کا حصار کچھ یوں توڑنے کی ٹھان لی۔ ”میں آج اپنے ساتھ زیادہ پیسے نہیں لا سکا اور شٹل والوں نے بھی جیب پر چھری چلائی ہے بڑے مہنگے ہیں بھائی، آپ رابطہ رکھیں انشا ءاللہ آپ کو مٹھائی کھلاؤں گا“ ۔ جس پر یہی جواب ملا، ”مرضی ہے بھائی“ ۔ اسی اثنا میں گاڑی گیٹ تک پہنچ آئی، میں نے سوچا گاڑی سے نکل کر پیچھے نہیں دیکھوں گا۔ لیکن ڈرائیور اب فرنٹ فٹ پر آ چکا تھا ”بھائی کچھ بھی دے دو مرضی سے“ میں نے گاڑی سے نکلتے ہوئے اس کی یہ بات ان سنی کر دی اور شکریہ ادا کرتے ہوئے نکل پڑا۔ معلوم نہیں اس پر وہ کیا بڑبڑا رہا تھا۔ البتہ ڈرائیور کو اس بات کی داد دینی پڑے گی کہ اس نے ایک لمحے کے لیے مجھے باور کروایا کہ وہ اس کا مستحق ہے اور میں نے مٹھائی نہ دے کر اس کی حق تلفی کردی۔

گاڑی سے اتر کر میں نے ٹرانسپیرینٹ فائل سے وہ نیلی رسید نکال کر فائل کے درمیان رکھنے کی کوشش کی تاکہ اگلے کسی بھی متوقع حملے سے بچا جا سکے۔ اسی دوران میں شٹل ایریا کہ اندرونی سیکیورٹی دروازے سے داخل ہوا تو وہاں کھڑے گارڈ نے جھٹ سے پوچھا کیا بنا سر؟

میں بوکھلا گیا اور کہہ بیٹھا، ”کام ہو گیا“ ۔ مجھے فوراً اس چیز کا احساس ہو گیا لہذا رکا نہیں پیچھے سے گارڈ نے آوازیں کسی ”مبارک ہو سر، مٹھائی پکی ہو گئی، پکی ہو گئی سر؟“

میں فیصلہ کرچکا تھا پیچھے نہیں دیکھنا اور اگر اب کسی کے نرغے میں آ گیا تو بٹوا کھل سکتا ہے۔ چونکہ میں حالات بھانپ چکا تھا سو اب میں نے فیصلہ کر لیا کہ اگر کسی نے بھی دریافت کیا تو صاف صاف کہنا ہے ”بات نہیں بنی“ ۔

شٹل ایریا کے اندر ہی فون جمع کر لیے جاتے ہیں، مجھے وہاں سے اپنے فون لینے تھے۔ دن کا وقت تھا اس لیے کاؤنٹر پر رش نہیں تھا۔ میں نے ٹوکن دیا اور فون طلب کیے۔ تب ایک فون ذاتی اور ایک آفس کا تھا۔ کاؤنٹر پر ایک ادھیڑ عمر کا شخص تھا جس نے عینک ناک پر رکھی تھی، دو فونز پر سے ربڑ اتارتے ہوئے کرخت لہجے میں پوچھتا ہے ”کی بنڑیا ای (کیا بنا) ؟“ میں نے نوٹ کیا کہ سوال کے ساتھ ہی اس کا ہاتھ رک گیا، کہیں وہ بھی مٹھائی کا رسیا تو نہیں؟ میں پہلے ہی ایسی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار تھا۔ ہلکے افسردہ لہجے میں بتایا ”نہیں ہو سکا“ ۔ یہ سن کر اس نے تسلی دی جو میں نے ”جو اللہ کو منظور“ کہہ کر قبول کر لی۔

اب اگلی منزل ہاسٹل تھی سو پارکنگ سے اپنی بائیک نکالی۔ پارکنگ کا ٹوکن ہوتا ہے جو میں نے جیب سے نکال کر پاس رکھ لیا۔ اسلام آباد ڈپلومیٹک شٹل سروس کے خارجی دروازے پر ٹوکن وصول کیے جاتے ہیں۔ میں نے بائیک کو دھیمی رفتار میں رکھا تاکہ کھڑکی کے اندرونی کیبن میں بیٹھے اہلکار کو چلتے چلتے ہی ٹوکن تھما سکوں لیکن صورتحال مختلف تھی۔ اہلکار نے دور سے ہی ہاتھ گھما گھما کر اشارے شروع کر دیے، کیا بنا؟ میں ٹوکن تھماؤں وہ ہاتھ گھمائے۔ میں سمجھ گیا کہ اسے بھی مٹھائی آئی ہوئی ہے۔ میں رکا اور بتایا ”آج قسمت ساتھ نہیں تھی“ ۔ میں وہیں کھڑا تھا کہ ایک اور گارڈ سر پہ آ پہنچا۔ ہاں ہاں کیا بنا، کیا بنا؟ بتایا ”بس لک نہیں چل سکی“ ۔ یہ سن کر ٹوکن جمع کرنے والے نے مایوسی سے پرچی پھاڑی اور کام میں لگ گیا اور گارڈ انکل نے خوب تسلی دی اور اگلی بار کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا جس پر میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔

اس سارے مرحلے کو سر کرنے کے بعد میں نکلنے کو تیار ہی تھا کہ ساتھ والی لین سے واپسی کے لیے ایک گاڑی گزر رہی تھی، ممکن ہے دوسری طرف کھڑے کچھ گارڈز کے جاننے والے ہوں، دور سے ہی ایک گارڈ نے گاڑی والے کو آوازیں لگائیں ”سر مٹھائی پکی ہو گئی؟ مٹھائی، مٹھائی پکی ہو گئی؟ معلوم نہیں شاید وہ اس غریب سے حال احوال پوچھنا چاہتا ہو۔

Facebook Comments HS