کیا آپ کی بیگم کھانا اچھا بناتی ہیں؟


ابھی کچھ عرصہ قبل ہی کی بات ہے ایک تحقیق سامنے آئی کہ حسین بیویوں کے شوہروں کو ہارٹ اٹیک کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں وہ اس دنیا فانی سے جلد کوچ کر جاتے ہیں۔

ابھی عید گزری ہے، قربانی کی عید۔ گوشت سے لت پت ہم پاکستانی مسلسل شدید گرمی میں گوشت ٹھونسے جا رہے ہیں کیوں؟ خوراکی مزاج میں بھی ہوس آ گئی ہے حالانکہ اس گوشت کو بھی ہمارے جسمانی گوشت کے ساتھ قبر کے کیڑے مکوڑوں نے ہی کھا جانا ہے۔ جتنا وزن زیادہ ہونا ہے اتنا جنازہ بھاری ہونا ہے۔ جنازے کے وزنی و کم وزنی ہونے کا تعلق اعمال سے بعد میں ہے، جسم سے پہلے ہے۔ یہ بات ہمیں یاد ہی نہیں رہتی۔

ابھی عید گزرے جتنے دن ہوئے ہیں اتنے ہی دن، روز کی بنیاد پہ بڑھتی اموات کی انا للہ پڑھتے گزر رہے ہیں۔ ہسپتال بھرے پڑے ہیں۔ کچھ افراد ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی آخری سانس لے رہے ہیں۔ اکثریت مردانہ اموات ہیں جو چھٹی ہوتے ہی گھر بیٹھ کر صرف گوشت کھانے میں مصروف ہیں۔ اکثریت بے حد خوش و بد ہوش خوراک کھانے والوں کی ہے جس کو ان کا معدہ ہضم نہیں کر پاتا۔

اکثریت ان مردوں کی ہے جن کی بیگمات کھانا اچھا بناتی بلکہ نشے کی حد تک ذائقہ دار بناتی ہیں۔ خود بھی کھاتی ہیں شوہر کو بھی کھلاتی ہیں اور مرد کے دل کا بدبو دار رستہ گزرتا ہی معدے سے ہو کر ہے۔ معدے کی مجبوری ہے اس نے اپنا گندا مندا کام کرنا ہی ہے تو نظام چلنا ہے۔ مرد کی مجبوری ہے اس نے دل معدے میں رکھنا ہے اور جسم کو حرکت دیے بنا کھانا ہے یا بچوں کی پیدائش پہ توجہ رکھنی ہے جو کمانا ہے وہ بھی کھانے پہ ہی لگانا ہے۔ ایسی عجیب و غریب زندگی میں موت ہی بچتی ہے جو اپنا کام کرتی ہے، فریز کا گوشت شدید گرمی میں مزید کھانے سے انسان کو دبوچ لیتی ہے۔ باقی انسانی اعضا تو ساتھ جلد چھوڑنے لگتے ہیں۔ ہاتھ اٹھا لیتے ہیں کہ اب کام شام کی ہم میں مزید ہمت نہیں رہی۔

ایک روایتی بیوی کو بھی اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ شوہر جانی کے سانس پھولے دل کا رستہ معدے سے ہو کر گزرتا ہے وہ دل پہ فوکس رکھتی ہے۔ مزے دار کھانے بنا بنا کے کھلا کھلا کے اس کا دل جیتتے جیتتے اسے مار دیتی ہے گویا مرد نے تو ایسی صورت میں خود یہ سوچ رکھا ہے ”آ بیل مجھے مار“ یہ آج کل کے مرد تو پچاس برس مشکل سے گزار پاتے ہیں اس سے پہلے ہی الوداعی پیغام آ جاتا ہے۔ بالکل درست وہ گھر سے نکل کر کماتا بھی ہے مگر اپنی صحت کا خیال دل و زبان کے ذائقے سے زیادہ نہیں رکھتا۔ جس کو اپنا خیال نہیں ہے وہ آپ کا کیا ہی خیال رکھے گا؟

قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی رنگ برنگی کھانے اور موٹاپا گنوائی گئی ہے دونوں موت ہیں۔ یہ جو عید کے پاس کی اموات ہیں یہ ہوس خوراک کی نشانی ہے۔ ہوس کیسی بھی ہو اس کا انجام بھی بھیانک ہے۔
خوراک ایک بنیادی ضرورت ہے لیکن ہوس خوراک ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔ جو اس کا شکار ہو گیا وہ کم از کم صحت سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے کیونکہ ہوس خوراک کا عادی مجرم ورزش، چہل قدمی اور محنت سے بھی بھاگتا ہے۔ خوراک کا وزن اس کے دماغ تک رہتا ہے۔ وہ اس کا حل یہ نکالتا ہے ورزش کے لئے چند مشینیں گھر میں رکھ لیتا ہے ان کو دیکھ کر ہی اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس نے ورزش کر لی ہے، چھو لینے کے بعد تو اس کو مزید خوراک کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ یوں وزن بڑھتے بڑھتے دل کی حرکت بند کر دیتا ہے۔ چربی برف کے تودوں کی مانند جسم میں جا بجا پہاڑی سلسلے بنا لیتی ہے اور پہاڑوں کو تو زلزلے یا قدرتی آفات کی اقسام ہی ہلا سکتی ہیں۔ انسان پہ بھی یہ آفت پھر آ ہی جاتی ہے۔ کچھ علامات جو ان سب اموات میں مماثل دکھائی دے رہی ہیں۔ ایسے افراد

1۔ کھانا تیز رفتاری سے کھاتے ہیں۔
2۔ کھانا کھاتے ہوئے پسینہ آ جاتا ہے۔
3۔ سانس پھول جاتا ہے یا سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے
4۔ کھانے کے بعد پانی پینا خاص طور پہ نظام ہضم درست کرنے کے لئے کچھ روایتی بازاری مشروب نوش
فرمائے جاتے ہیں جو مزید تباہی کا سبب بنتے ہیں۔
5۔ ان کو کھانے کے بعد لیٹنے کی طلب ہوتی ہے۔

یوں بس ایک دن دل بند ہو جاتا ہے کہ اس کو حرکت کی جگہ نہیں ملتی۔ آس پاس اتنی چربی ہوتی ہے کہ رستہ زیست دشوار ہو جاتا ہے۔

خواتین کا کیا ہے۔ وہ تو کھانا بنا کھلا کر نئے کھانے کی تیاری میں مصروف ہو جاتی ہیں۔ وہ تو کچھ خوراک جزو جسم کر ہی لیتی ہیں مگر شوہر کو یہ موقع بھی نہیں ملتا۔ اس کے بعد ایک فرمائش جو روایتی عورت کی طرف سے آتی ہے اب گھر کا کھا لیا باہر کا بھی کھانا ہو جائے تو مزا آ جائے۔ معدے کے دل والا شوہر انکار کر ہی نہیں سکتا۔ ایسے مل ملا کر دل پہ سے حسن کا نشہ اتر جاتا ہے اور خوش ذائقی کا نشہ چڑھ جاتا ہے۔

لہذا ان مشاہدات سے ہم اس نتیجے پہ پہنچے ہیں کہ اچھا و خوش ذائقہ کھانا بنانے والی بیوی، حسین بیوی کی طرح ہی مضر صحت ہے۔ جن حضرات کی بیگمات کھانا بہت اچھا بناتی ہیں۔ ان حضرات کو بھی ہارٹ اٹیک ہونے کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں بلکہ حسین بیگمات سے زیادہ ہوتے ہیں۔ وہی مرد زیادہ دیر جی پاتا ہے جس کی بیوی نارمل حسین، نارمل سا کھانا بنانے والی ہو۔ اب دنیا والوں کو خیال آئے گا ہم بیگمات کے خلاف ہیں۔ نہیں ہم تو دل کے مقام کے خلاف ہیں۔ ماں مزے دار کھانا بنا کر کھلاتی ہے تو ساتھ زندگی کی دوڑ بھی لگواتی ہے۔ بیوی تک پہنچتے پہنچتے مردانہ دوڑ سست روی کا شکار ہو جاتی ہے۔

قصہ مختصر صحت کا راز، زندگی کا راز ہر طرح کے توازن میں پوشیدہ ہے۔ فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے۔ گالیاں دینے کو دل کرے تو بھی گھر کے آئینے کے سامنے جانا ہے یا اپنے ہی گریبان میں جھانکنا ہے۔ ورنہ جوان بیوہ کی کفالت تو شاید ہو جائے مگر وہ اپنی ذات میں خاک ہو جاتی ہے۔ اور بے شمار سماجی و نفسیاتی مسائل ایک گھر کے ٹوٹنے سے جنم لے لیتے ہیں۔

عورت نے کھانے کا ہنر ساتھ جینے اور آپ کو خوش کرنے کے لئے سیکھا ہوتا ہے۔ آپ پہ بھی لازم ہے اس کی خوشی کا خیال رکھیں اور صحت مند متوازن زندگی مل کر جئیں۔

Facebook Comments HS