فطرت روٹھ گئی ہے
کہا جاتا ہے کہ انسان فطرت کا حصہ ہے، مگر جب انسان خود کو فطرت سے ماورا سمجھنے لگے تو بگاڑ جنم لیتا ہے۔ درختوں کی چھاؤں، پہاڑوں کی خاموشی، ندیوں کا بہاؤ، ہواؤں کا نرماہٹ بھرا لمس۔ یہ سب کبھی ہمارے ماحول کا حسن ہوا کرتے تھے۔ آج یہی فطرت اجنبی ہو چکی ہے، جیسے کوئی ناراض ماں، جو اپنے بچوں کی نافرمانی پر خاموش احتجاج کر رہی ہو۔
ہم نے زمین کو صرف ایک ”وسیلہ“ سمجھا، محبت کا نہیں۔ کبھی اس کے سینے کو چیر کر معدنیات نکالے، کبھی اس کے جنگلات کو جلا کر ترقی کے مینار کھڑے کیے۔ صنعتی دھواں، گاڑیوں کا شور، بے ہنگم کنکریٹ کے جنگل، یہ سب اُس فطرت پر تھوپا گیا بوجھ ہے جو اب جواب دے چکی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی تازہ ترین ماحولیاتی رپورٹ (IPCC) ایک سنگین انتباہ ہے : زمین کا درجہ حرارت خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے۔ 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد کے قریب پہنچنا اُس دہانے کا پتہ دیتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ صرف پچھلے بیس سال میں قدرتی آفات۔ سیلاب، ہیٹ ویوز، طوفان۔ میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان کا معاملہ اور بھی تشویشناک ہے۔ گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس کے مطابق، ہمارا ملک اُن دس ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے ملک کے 33 ملین افراد کو متاثر کیا۔ اس کے بعد بھی ہم نہیں جاگے۔
فضا میں آلودگی کا عالم یہ ہے کہ لاہور اور کراچی جیسے شہر دنیا کے خطرناک ترین شہروں میں شامل ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں ہر سال 30,000 سے زائد اموات صرف فضائی آلودگی کے باعث ہوتی ہیں۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف (WWF) کی رپورٹ بتاتی ہے کہ دنیا بھر میں جنگلی حیات کی آبادی میں 69 فیصد تک کمی ہو چکی ہے۔ یہ محض جانوروں کا خاتمہ نہیں، ایک ماحولیاتی نظام کی تباہی ہے۔ ہم جس توازن کو بگاڑ رہے ہیں، وہی توازن ہماری زندگی کی ضمانت ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم فطرت کو کیسے منائیں؟ کیا محض ”درخت لگاؤ“ مہمیں کافی ہیں؟ نہیں۔ یہ معاملہ صرف شجرکاری کا نہیں، یہ طرزِ زندگی بدلنے کا ہے۔
ہمیں پلاسٹک کا استعمال ترک کرنا ہو گا۔
پانی کے ضیاع پر قابو پانا ہو گا۔
شہری منصوبہ بندی کو ماحولیاتی بنیادوں پر استوار کرنا ہو گا۔
تعلیم کے نصاب میں ماحولیات کو بنیادی حیثیت دینی ہوگی۔
حکومت کو گرین پالیسیز کو صرف کاغذوں تک نہیں، زمین پر لاگو کرنا ہو گا۔
فطرت کی ناراضی ہمیں اُس مقام پر لے آئی ہے جہاں اب محض دعائیں کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ہمیں اپنے گھروں، اسکولوں، دفاتر، فیکٹریوں۔ ہر جگہ فطرت کی قدر و قیمت سکھانی ہوگی۔
کیا ہم اپنی آئندہ نسلوں کے لیے سانس لینے کے قابل ہوا چھوڑ کر جائیں گے؟ یا زہریلا دھواں، آلودہ پانی اور خشک میدان؟
فطرت کا جواب ہمارے رویوں میں ہے۔ اگر ہم نے آج معافی مانگ کر بہتری کی راہ نہ اپنائی، تو کل ہمارے بچے ہمیں معاف نہیں کریں گے۔

