چاند سی دلہن
”چاند کے اوپر جاؤں گا چاند سی دلہن لاؤں گا“
یہ وہ مشہور جملہ ہے جو عموماً ماؤں، دادیوں اور نانیوں کو بولنا سیکھتے بیٹوں، پوتوں اور نواسوں کو گود میں اٹھا کر ترنم سے گنگنانا یا بولنا سکھاتے ہم میں سے اکثر نے دیکھا ہے۔ دوسرا مشہور جملہ ”میں اپنے لال کے لئے چاند سی دلہن لاؤں گی“ تو اب بھی رائج الوقت ہے جو بیٹے کے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے سے بھی پہلے اس کی سماعتوں کے راستے نفسیات میں انڈیلا جا رہا ہوتا ہے۔
کیا ہوتی ہے یہ چاند سی دلہن؟
اور کہیں کوئی ”چاند سا دولہا“ کیوں نہیں ہوتا جس کی تلاش میں چاند تک جانے کی بات نہیں کی جاتی؟
صدیوں اور نسلوں سے ہم اپنے بیٹوں کو زوجہ کے معاملے میں ”بہترین“ کا ”حقدار“ قرار دیتے آرہے ہیں۔ کہیں ایسا کوئی بندوبست ہمیں دیکھنے کو آخر کیوں نہیں ملتا جس میں بیٹے کو صبر و شکر کرنا اور گھریلو ذمہ داریوں کے لئے تیار ہونا سکھایا جاتا ہو؟ یہ سبق بیٹی کو ہی کیوں پڑھایا جاتا کہ دنیا میں کوئی ”ایک“ ہے جو اس کے ”نصیب“ میں لکھ دیا گیا ہے اب خواہ اچھا ہو یا برا اسے صبر و شکر سے قبول کرنا ہو گا۔ ضد منوانے کا حق صرف بیٹے کو ہی ہو گا وہ چاہے تو والدین کی پسند کردہ لڑکی سے رشتہ شادی سے ایک دن پہلے بھی توڑ سکتا ہے۔ وہ شادی کے اگلے دن نوبیاہتا دلہن کو طلاق دے کر بھی فارغ کر سکتا ہے۔ اپنا نصیب خود لکھنے کا اختیار صرف بیٹے کو ہی کیوں ہے۔
عرصہ ہوا ہمارے ایک دوست جو ان دنوں ہماری طرح کنوارے ہوا کرتے تھے اور ہفتہ وار چھٹی کا پورا دن ہمارے ساتھ گزارتے تھے، انہوں نے ایک بار ہفتہ وار چھٹی سے ایک دن قبل ہم سے چھٹی پر ملنے سے پیشگی معذرت کرلی۔ وجہ پوچھنے پر بولے ”کل ایک لڑکی والے میرے لئے اپنی بیٹی کا رشتہ لے کر ہمارے ہاں آرہے ہیں۔ والدین نے گھر پر ہی رہنے کی تاکید کی ہے۔
”لڑکی والے؟“ میں نے یقین نہ آنے والے انداز میں پوچھا۔
جی ”دوست نے جواب دیا“
یہ جواب میرے لئے حیران کن تھا۔ ”یعنی لڑکی والے خود آرہے ہیں تمہارے گھر؟ رشتہ لیکر؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟“
واقعی ہمارے معاشرے میں یہ کیسے ممکن ہے کہ لڑکی والے خود اپنی بیٹی کا رشتہ لے کر جائیں۔ یہ تو بہت شرم کی بات ہے کہ لڑکی یا اس کے گھر والے کسی لڑکے کا انتخاب کریں۔
دوست نے چونکا دینے والا انکشاف کیا۔
یار ہمارے ہاں برادری سے باہر شادی نہیں کی جاتی اور رواج ہے کہ لڑکی والے اپنی بیٹی کے لئے رشتہ لے کر خود بھی کسی لڑکے کے گھر جا سکتے ہیں۔ اسے نارمل سمجھا جاتا ہے ہمارے ہاں
اور اگر تم انہیں پسند نہ آئے تو؟ میں نے حیرت سے پوچھا
تو وہ انکار کروا دیں گے دوست نے اطمینان سے جواب دیا۔
زندگی میں اس سے قبل یا بعد میں پھر کبھی کسی برادری یا خاندان میں اس طرح کے انہونے رسم و رواج کی بات دیکھنے سننے کو نہ ملی۔
تو یہ ہوتا ہے آغاز ہمارے ہاں بیٹے اور بیٹی کی ازدواجی تربیت کا جس میں گھر داری صرف بیٹی کو ہی سکھائی جاتی ہے۔
یہ کیوں ممکن نہیں کہ بیٹے کو بھی چائے بنانے کے لئے کہا جائے؟
مہمانوں کے سامنے چائے کی ٹرے بیٹا کیوں لا کر نہیں رکھ سکتا؟
تنہائی میں بیٹی کو موبائل یا لیپ ٹاپ پر اجنبی لڑکے سے بات کرتا دیکھ کر سب کی غیرت جاگ جاتی ہے لیکن یہی رویہ بیٹے کا ہو تو باآسانی ہضم ہو جاتا ہے۔ فخر کا اظہار کیا جاتا ہے کہ میرا بیٹا ہے اتنا حسین کہ کمبخت لڑکیاں میرے بچے کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتی ہیں
غیرت میں بھی ہمیشہ بیٹی ہی قتل ہوتی ہے۔ کوئی اپنے بیٹے یا بھائی کو اس وجہ سے قتل نہیں کرتا کہ اس نے اجنبی لڑکی کو بھگا کر کورٹ میرج کیوں کی۔
ٹک ٹاکر لڑکیاں تو بے حیاء اور واہیات ٹھہرائی جاتی ہیں مگر انہیں لاکھوں ویوز دینے والے؟ کوئی ان کا اتا پتہ تک نہیں پوچھتا۔
بے حیائی پھیلانے ”والیوں“ کے خلاف تو فتوے خوب وائرل ہوتے ہیں مگر بے حیائی دیکھنے ”والوں“ ، اسے شیئر کرنے والوں اور لاکھوں ویوز دینے ”والوں“ کے خلاف کوئی پوسٹ یا وڈیو دیکھنے کو نہیں ملتی۔
بے حیاء ٹک ٹاکر کو دیکھنے ”والا“ کوئی قتل نہیں ہوتا اور ثناء یوسف کے قتل پر ستائشی پوسٹس کا تانتا بندھ جاتا ہے اور ہم اظہار فخر کرتے نہیں تھکتے کہ ہماری دینی اور سماجی روایات میں مرد و عورت دونوں برابر ہیں۔
یہ کیسی اور کون سی برابری؟
کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ ہم ایک قوم یا سماج نہیں تضادات کا بہت بڑا بنڈل ہیں۔

