بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام: بدعنوانی، غیر منصفانہ تقسیم، اور پائیدار متبادل کی ضرورت


syed kashif saleem

پاکستان کی وفاقی حکومت نے مالی سال 2025۔ 26 کے بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام) کے لیے 716 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ یہ پروگرام، جو 2008 میں غربت کے خاتمے کے لیے شروع کیا گیا، ملک کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا پروگرام ہے، جس کا مقصد غریب خاندانوں کو نقد امداد فراہم کرنا ہے۔ تاہم، اس پروگرام پر بدعنوانی، غیر منصفانہ تقسیم، اور اس کی محدود تاثیر کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی 45 فیصد سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ اس صورتحال میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ کیا اس خطیر رقم کو نقد امداد کی بجائے روزگار کے مواقع، گھریلو صنعتی یونٹس، اور چھوٹے کاروباری منصوبوں پر خرچ کر کے قوم کو خودمختار بنایا جا سکتا ہے؟ یہ مضمون بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مسائل کا جائزہ لیتا ہے اور روزگار پر مبنی متبادل حکمت عملیوں کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا پس منظر

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جولائی 2008 میں شروع کیا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد کم آمدنی والے خاندانوں کو ماہانہ یا سہ ماہی نقد امداد فراہم کرنا تھا۔ ابتدائی طور پر اس پروگرام کے تحت کم آمدنی والے خاندانوں کو 1,000 روپے ماہانہ دیے جاتے تھے، جو اب بڑھ کر 3,000 روپے فی دو ماہ ہو چکے ہیں۔ 2016 میں اس پروگرام نے 5.4 ملین مستحقین کو 90 ارب روپے تقسیم کیے، اور مالی سال 2024۔ 25 تک اس کا بجٹ 593 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا۔ اب 716 ارب روپے کی تجویز اسے مزید وسعت دینے کی کوشش ہے۔ پروگرام کا مقصد غریب خاندانوں کی قوت خرید بڑھانا تھا، لیکن ورلڈ بینک کی رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ غربت کی شرح کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی ہے، جو اس پروگرام کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

بدعنوانی اور غیر منصفانہ تقسیم کے مسائل

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر بدعنوانی کے الزامات اس کی ابتدا سے ہی عائد ہوتے رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، صرف 50۔ 60 فیصد مستحقین کو ہی امداد ملتی ہے، جبکہ باقی رقم غیر مستحق افراد یا بدعنوانی کے ذریعے ضائع ہو جاتی ہے۔ 2011 سے 2019 تک غیر اہل افراد کو ادائیگیوں کا سلسلہ جاری رہا، جسے 2019 میں نئی پالیسی کے بعد روکا گیا۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی رپورٹس کے مطابق، 57 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں اور 2025 میں 141 ارب روپے کی بدعنوانی رپورٹ ہوئی، جس میں شناختی کارڈز کے بغیر ادائیگیاں اور تعلیمی وظائف کا غلط استعمال شامل ہے۔

پروگرام کے ابتدائی دنوں میں مستحقین کا انتخاب ارکان پارلیمنٹ کی سفارشات سے ہوتا تھا، جس سے سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر امداد کی تقسیم کے الزامات لگے۔ مثال کے طور پر، حکمران جماعت کے مضبوط علاقوں جیسے ملتان اور سندھ میں امداد وصول کرنے والوں کی تعداد اپوزیشن کے زیر اثر علاقوں جیسے لاہور کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ دیہی علاقوں میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مراکز پر رشوت خوری کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے، جہاں غریب خواتین سے 1,000 سے 1,500 روپے کی کٹوتی کی جاتی ہے، اور رشوت نہ دینے والوں کو امداد سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ یہ مسائل پروگرام کی شفافیت اور منصفانہ تقسیم پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔

غربت کی شرح اور پروگرام کی ناکامی

ورلڈ بینک کے مطابق، پاکستان کی 45 فیصد سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نقد امداد کے پروگرام عارضی ریلیف تو فراہم کر سکتے ہیں، لیکن یہ غربت کے خاتمے کا مستقل حل نہیں ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ یہ غیر مشروط نقد امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ لاطینی امریکا کے ممالک میں مشروط نقد امداد پروگراموں نے تعلیم اور صحت سے متعلق شرائط کے ساتھ بہتر نتائج دیے ہیں۔ مزید برآں، ماہانہ 1,500 روپے یا دو ماہ میں 3,000 روپے کی امداد غربت کی لکیر سے اوپر لانے کے لیے ناکافی ہے، کیونکہ اس کے لیے کم از کم 2,550 روپے ماہانہ درکار ہیں۔

ڈاکٹر قیصر بنگالی، جنہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ڈیزائن کیا، نے تسلیم کیا کہ 2008 سے 2024 تک اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود غربت کی سطح میں کمی نہیں آئی۔ یہ پروگرام کی ناکامی اور روزگار پر مبنی پائیدار حل کی ضرورت کو واضح کرتا ہے۔

روزگار اور صنعتی یونٹس: ایک پائیدار حل

716 ارب روپے کی خطیر رقم کو اگر روزگار کے مواقع، گھریلو صنعتی یونٹس، اور چھوٹے کاروباری منصوبوں پر خرچ کیا جائے تو لاکھوں افراد کو خودکفیل بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف غربت میں کمی آئے گی بلکہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکتا ہے۔ درج ذیل نکات اس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں :

روزگار کے مواقع: نقد امداد کی بجائے فنڈز کو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کے لیے قرضوں، تربیتی پروگراموں، اور مارکیٹ تک رسائی پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور تربیت کے ذریعے دیہی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، جہاں غربت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

گھریلو صنعتی یونٹس: ہینڈی کرافٹس، ٹیکسٹائل، اور فوڈ پروسیسنگ جیسے گھریلو صنعتی یونٹس خواتین اور دیہی علاقوں کے افراد کے لیے روزگار کا اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز کا ایک حصہ ان یونٹس کے قیام اور ترویج پر خرچ کرنے سے خواتین کی معاشی خودمختاری بڑھے گی اور مقامی معیشت مضبوط ہوگی۔

چھوٹے کاروباری منصوبے : مائیکرو فنانس پروگراموں کے ذریعے خواتین اور نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے قرضے دیے جا سکتے ہیں۔ یہ طویل مدتی خودکفالت کا باعث بن سکتے ہیں۔

معاشی استحکام: فیکٹریوں اور صنعتی یونٹس کے قیام سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ملکی معیشت مستحکم ہوگی۔ X پر ایک صارف نے درست کہا کہ یہ رقم کارخانوں کے قیام پر خرچ کر کے قوم کو معاشی طور پر مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

حکومتی ذمہ داری اور اصلاحات

ورلڈ بینک کی رپورٹ ایک تشویشناک صورتحال کو ظاہر کرتی ہے، اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پائیدار حل پیش کرے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے پروگراموں پر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود غربت کی شرح بڑھ رہی ہے، جو موجودہ حکمت عملی کی ناکامی کو عیاں کرتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فنڈز کو روزگار پر مبنی پروگراموں، تربیتی مراکز، اور صنعتی ترقی کے منصوبوں میں لگائے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا بیس کو شفاف بنانے، ادائیگیوں کو ڈیجیٹل کرنے، اور تیسرے فریق کی نگرانی کے ذریعے بدعنوانی کو روکا جا سکتا ہے۔

اختتام

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک اہم اقدام تھا، لیکن اس کی بدعنوانی، غیر منصفانہ تقسیم، اور محدود اثرپذیری نے اسے ناکام بنا دیا ہے۔ 716 ارب روپے کو روزگار کے مواقع، گھریلو صنعتی یونٹس، اور چھوٹے کاروباری منصوبوں پر خرچ کر کے لاکھوں افراد کو خودکفیل بنایا جا سکتا ہے۔ جب 45 فیصد سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے ہے، تو حکومت کو نقد امداد کے بجائے خودمختاری اور روزگار پر توجہ دینی چاہیے۔ شفاف نظام اور روزگار کے مواقع سے ہی پاکستان غربت سے نکل کر خوشحال مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام: بدعنوانی، غیر منصفانہ تقسیم، اور پائیدار متبادل کی ضرورت

  • 15/06/2025 at 11:19 صبح
    Permalink

    جب کسی ادارے کا نام ہی بددیانتی کی وجہ سے رکھا گیا ہو تو اس شر سے کیا خیر نکلے گا۔
    امجد ثاقب جیسے ہیروں کی جگہ فرزانہ راجہ، شازیہ مری، ماروی میمن جیسے نمونے ہی اس ادارے کو زیب دیتے ہیں۔ آج فرزانہ راجہ اور ماروی میمن کس حال میں ہیں کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔

    اتنا پیسہ اگر سرکار اخوت فاؤنڈیشن کے ذریعے مستحقین تک پہنچائے تو وہ ڈنڈے کے زور پر ان سے کام بھی کروائیں گے اور پیسہ واپس بھی آجائے گا۔ یعنی کسی کو مفت مچھلی دینے کی بجائے مچھلی پکڑنے کی تربیت دینا۔
    خان صاحب کے کٹوں اور مرغوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا لیکن غربت کم کرنے کا وہ ایک بہترین ذریعہ تھے۔

    لوگوں کو چھوٹے چھوٹے زرعی رقبے دیکر بھی ان سے کام کرایا جاسکتا ہے کم از کم وہ اپنے لئے اتنا اناج اور سبزیاں تو اگالیں گے کہ چار پانچ مہینے کام چلالیں اسی طرح بانس جیسے تیزی سے اگنے والے درخت اگاکر ان کی لکڑی سے بھی بہت کچھ کماسکتے ہیں۔ کارخانوں سے زیادہ زراعت اور گلہ بانی غربت کو کم کرنے میں کام آتے ہیں۔

Comments are closed.