کراچی میں آنے والے زلزلوں کی وجوہات، امکانات اور عوامی تربیت
کراچی پاکستان کا ایک بڑا اور گنجان آباد ساحلی شہر ہے جو زلزلے کے خطرے سے دوچار ہے۔ حال ہی میں یہاں محسوس کیے گئے زلزلوں کے چھوٹے جھٹکوں نے شہریوں میں تشویش پیدا کی ہے۔
کراچی میں زلزلوں کی بنیادی وجہ زمینی پلیٹوں کی حرکت اور فعال فالٹ لائنز کی موجودگی ہے۔ پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ٹکراتی ہے، جس کے نتیجے میں زمین میں توانائی جمع ہوتی رہتی ہے۔ کراچی اگرچہ براہ راست کسی بڑی پلیٹ کی حد پر نہیں ہے، لیکن یہ لانڈھی فالٹ لائن اور تھانہ بولا خان کے قریب موجود دیگر فعال فالٹ لائنز کے ذریعے متاثر ہوتا ہے۔ یہ فالٹ لائنز زمین میں وہ دراڑیں ہیں جہاں زمینی ٹکڑوں کی حرکت سے دباؤ بڑھتا اور خارج ہوتا ہے، جس سے زلزلے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کراچی سے تقریباً 400۔ 500 کلومیٹر دور بحیرہ عرب میں واقع مکّران سبڈکشن زون بھی ایک اہم زلزلہ کا خطرہ ہے، جہاں پلیٹوں کی حرکت سے آنے والا کوئی بھی بڑا زلزلہ کراچی کے ساحلی علاقوں میں سونامی کا باعث بن سکتا ہے، جیسا کہ 1945 میں ہوا تھا۔ بعض ماہرین، بورنگ کے ذریعے پانی کے زیادہ استعمال اور صنعتی فضلے کو بھی زیرِ زمین توانائی کے توازن میں خلل ڈالنے کی ممکنہ وجہ قرار دیتے ہیں، تاہم یہ ابھی تحقیق طلب ہے۔
اگرچہ کراچی میں تاریخی طور پر کوئی بہت بڑا تباہ کن زلزلہ نہیں آیا، اسے زلزلے کے خطرے سے مکمل طور پر باہر نہیں سمجھا جا سکتا۔ حالیہ دنوں میں 12 روز کے اندر 37 سے زائد چھوٹے جھٹکے (ریکٹر اسکیل پر 1.8 سے 3.6 شدت کے ) محسوس کیے گئے ہیں جو ”سوورم ارتھ کویکس“ کہلاتے ہیں۔ یہ بتاتے ہیں کہ زیرِ زمین توانائی مسلسل خارج ہو رہی ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ چھوٹے زلزلے بڑے زلزلے کے امکان کو کم کرتے ہیں۔ تاہم، مکّران سبڈکشن زون میں 8.0 یا اس سے زیادہ شدت کا زلزلہ سونامی کا باعث بن سکتا ہے جو کراچی کے ساحلی علاقوں کو شدید متاثر کرے گا۔ کراچی میں زیادہ تر عمارتیں زلزلہ مزاحم نہیں ہیں، جس کی وجہ سے کسی بڑے زلزلے کی صورت میں جانی و مالی نقصان کا اندیشہ ہے۔ 2001 اور 2013 میں بھی کراچی میں درمیانے درجے کے زلزلے آئے تھے جو اس خطرے کی موجودگی کا ثبوت ہیں۔
حکومت اور متعلقہ ادارے زلزلے کی تیاری کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ ان میں UNDP اور جاپان کے تعاون سے ارلی وارننگ سسٹمز کا قیام، عوامی آگاہی اور تربیت، کمیونٹی کی سطح پر رضاکاروں کی تربیت، اور اسکولوں و ہسپتالوں میں یوتھ گروپس کی تشکیل شامل ہے۔ زلزلہ مزاحم تعمیرات کو فروغ دینا اور موجودہ ڈھانچوں کو مضبوط بنانا بھی اہم حفاظتی اقدام ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، جیولوجسٹ اور جغرافیائی معلوماتی نظام کے ماہرین خطرے کا تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ کمزور علاقوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ کراچی ایک فعال زلزلے والے علاقے کے قریب واقع ہے اور بڑے زلزلے کا امکان اگرچہ کم ہے، اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مستقل نگرانی، تیاری اور عوامی آگاہی انتہائی ضروری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال میں نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
عوامی تربیت اور آگاہی کسی بھی قدرتی آفت سے ہونے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ کراچی جیسے شہر میں، جہاں زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے، ان انتظامات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ذیل میں ان انتظامات کو بیان کیا گیا ہے :
1۔ معلوماتی مواد کی اشاعت و تقسیم:
بروشرز اور ہینڈ بکس:
سادہ اور قابل فہم زبان میں زلزلے، سونامی اور دیگر آفات سے متعلق معلوماتی بروشرز، پمفلٹس اور ہینڈ بکس تیار کیے جاتے ہیں اور انہیں عوامی مقامات، سکولوں، کالجوں، اور سرکاری دفاتر میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان میں ایمرجنسی نمبرز، بنیادی حفاظتی تدابیر اور انخلا کے راستے شامل ہوتے ہیں۔
پوسٹرز اور سائن بورڈز:
شہر کے اہم مقامات، بالخصوص ساحلی علاقوں، بلند عمارتوں اور مارکیٹوں میں بڑے سائز کے معلوماتی پوسٹرز اور سائن بورڈز نصب کیے جاتے ہیں جن پر آفات کے دوران کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا، واضح طور پر درج ہوتا ہے۔
2۔ میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم:
ٹی وی اور ریڈیو پروگرامز:
قومی اور مقامی ٹی وی چینلز اور ریڈیو اسٹیشنز پر خصوصی دستاویزی فلمیں، ٹاک شوز اور آگاہی پیغامات نشر کیے جاتے ہیں۔ یہ پروگرام ماہرین کی رائے اور عام شہریوں کے لیے ہدایات پر مشتمل ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا مہم:
فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر آفات سے بچاؤ کے بارے میں مختصر ویڈیوز، انفوگرافکس اور معلوماتی پوسٹس باقاعدگی سے شیئر کی جاتی ہیں۔ ان مہمات میں مشہور شخصیات کو بھی شامل کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی ہو۔
اخبارات اور رسائل:
مقامی اخبارات اور رسائل میں خصوصی مضامین اور ایڈورٹائزمنٹس شائع کیے جاتے ہیں جو قدرتی آفات سے بچاؤ کی حکمت عملیوں پر مبنی ہوتے ہیں۔
3۔ تعلیمی اداروں میں تربیت اور مشقیں :
سکولوں اور کالجوں میں نصابی شمولیت:
نصاب میں آفات سے نمٹنے کے بنیادی اصولوں کو شامل کیا جاتا ہے تاکہ بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی آگاہی دی جا سکے۔
موک ڈرلز اور انخلا کی مشقیں :
سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں باقاعدگی سے زلزلے اور آگ لگنے کی صورت میں ”موک ڈرلز“ اور انخلا کی مشقیں کروائی جاتی ہیں۔ ان مشقوں کا مقصد طلباء اور اساتذہ کو ہنگامی صورتحال میں محفوظ طریقے سے باہر نکلنے کی تربیت دینا ہے۔
یوتھ گروپس کی تشکیل:
تعلیمی اداروں میں ایسے یوتھ گروپس بنائے جاتے ہیں جو آفات کی صورت میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لے سکیں اور دیگر طلباء کو تربیت فراہم کر سکیں۔
4۔ کمیونٹی کی سطح پر سرگرمیاں :
کمیونٹی میٹنگز اور ورکشاپس:
مقامی کمیونٹی رہنماؤں، علماء اور بزرگوں کی مدد سے کمیونٹی سینٹرز اور مساجد میں معلوماتی سیشنز اور ورکشاپس منعقد کی جاتی ہیں۔ ان میں ماہرین آفات سے بچاؤ کے طریقے بتاتے ہیں اور سوال و جواب کے سیشنز بھی ہوتے ہیں۔
رضاکاروں کی تربیت:
مقامی سطح پر رضاکاروں کے گروپس کو ابتدائی طبی امداد (First Aid) ، تلاش اور بچاؤ (Search and Rescue) اور ایمرجنسی کمیونیکیشن کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہ رضاکار کسی بھی آفت کی صورت میں پہلے ریسپانڈرز کے طور پر کام کرتے ہیں۔
نکاسی کے راستوں کی نشاندہی:
کمیونٹی کے ساتھ مل کر انخلا کے محفوظ راستوں کی نشاندہی کی جاتی ہے اور انہیں واضح طور پر نشان زد کیا جاتا ہے۔ ایمرجنسی پناہ گاہوں اور امدادی مراکز کے بارے میں بھی آگاہی دی جاتی ہے۔
5۔ ہنگامی مراکز اور ہاٹ لائنز کا قیام:
ایمرجنسی ہاٹ لائنز:
ایسی ہاٹ لائنز قائم کی جاتی ہیں جہاں شہری ہنگامی صورتحال میں مدد کے لیے رابطہ کر سکیں یا آفات سے متعلق معلومات حاصل کر سکیں۔
ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں :
تربیت یافتہ ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں ہر وقت تیار رہتی ہیں جو کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری کارروائی کر سکیں۔
6۔ بین الاقوامی تعاون اور تجربات کا تبادلہ:
تربیتی پروگرامز:
بین الاقوامی تنظیموں جیسے UNDP اور جاپان کی مدد سے ماہرین کے لیے جدید تربیتی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ وہ دنیا کے بہترین طریقوں سے آگاہی حاصل کر سکیں۔
ڈرلز میں شرکت:
علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی آفات سے نمٹنے کی مشقوں میں شرکت کی جاتی ہے تاکہ تجربات کا تبادلہ ہو اور مشترکہ حکمت عملیاں وضع کی جا سکیں۔
ان تمام انتظامات کا مقصد شہریوں میں زلزلے اور دیگر آفات سے متعلق صحیح معلومات فراہم کرنا، خوف کو کم کرنا اور انہیں ہنگامی صورتحال میں محفوظ رہنے اور ردعمل دینے کے لیے تیار کرنا ہے۔

