ابتدائی وارننگ سسٹم اور آفات


گزشتہ کئی صدیوں سے انسانوں نے اپنے مشاہدے، تجربے اور مقامی روایتی علم (Indigenous Knowledge) کی بنیاد پر قدرتی آفات سے بچاؤ کے طریقے سیکھے اور ابتدائی وارننگ سسٹمز کو فروغ دیا۔ ان روایتی طریقوں نے زندگی اور معیشت کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا، اور آج بھی کئی علاقوں میں ان کی افادیت برقرار ہے۔ انسانوں نے صدیوں قبل ہی فطری نشانیوں، جانوروں کے برتاؤ، ہوا کے رخ، اور دیگر علامات سے خطرات کی پیشگی اطلاع دینے کے طریقے سیکھ لیے تھے۔ آج بھی پاکستان کے مختلف علاقوں جیسے بلوچستان اور سندھ کے کاچھو، کوہستانی اور صحرائی خطوں میں مقامی چرواہے اور بزرگ بغیر بادل یا پانی دیکھے برساتی ندیوں کے بہاؤ یا بارش کی درست پیش گوئی کرتے ہیں۔ ساحلی ماہی گیر ہوا کی شدت اور سمت سے طوفانوں کی آمد بھانپ لیتے ہیں۔ اسی طرح، افریقہ اور امریکہ کی مقامی اقوام بھی صدیوں سے ایسے علم پر انحصار کرتی آ رہی ہیں۔ جدید سائنس، ٹیکنالوجی، موسمیاتی ماڈلنگ، اور آلات نے ان روایتی علوم کو سائنسی بنیاد فراہم کی ہے۔

حالیہ دہائیوں میں دنیا نے موسم سے متعلق خطرات جیسے بارش، سیلاب، طوفان، سائیکلون اور ہیٹ ویوز کی درست پیش گوئی کے شعبے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ اب یہ ممکن ہو چکا ہے کہ بارش کی مقدار اور اس کی جغرافیائی تقسیم کی درست پیش گوئی کی جائے، اور اسی طرح سائیکلون کی شدت اور راستے کے بارے میں بروقت معلومات حاصل کی جا سکے۔ یہ جدید ”ابتدائی وارننگ سسٹم“ انسانی جانیں بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

تاہم، سائنسی ترقی اور کمپیوٹیشنل ماڈلنگ کے باوجود پاکستان اور اس کے تمام صوبے، بشمول سندھ، اب بھی مطلوبہ سطح پر نہیں پہنچ سکے۔ پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (پی ایم ڈی) کچھ مقامی ریڈارز اور سسٹم ڈیٹا کے ذریعے پیش گوئیاں کرتا ہے، مگر اس کی بڑا انحصار بین الاقوامی اداروں کی جانب سے فراہم کردہ ماڈلز اور ڈیٹا پر ہوتا ہے، جو عالمی معاہدوں کے تحت وسائل کی کمی والے ممالک کو معلومات فراہم کرتے ہیں۔

بدقسمتی سے، پاکستان کے نشریاتی ادارے، بڑے ٹی وی چینلز اور ان سے وابستہ صحافی اس ضمن میں کئی مواقع پر ناکام رہے ہیں۔ 1999 کے A 2 سائیکلون سے لے کر 2022 کے تباہ کن سیلابوں تک، ہم نے دیکھا کہ ایسے حالات کو، جنہیں ”زندگی اور موت“ کا مسئلہ ہونا چاہیے تھا، قومی میڈیا کوریج میں پیچھے ڈال دیا گیا۔

آفات کی بڑھتی ہوئی شدت، تکرار اور اثرات کے پیش نظر، پاکستان اور اس کے تمام صوبوں کے لیے ایک موثر اور منظم ابتدائی وارننگ سسٹم ناگزیر ہو چکا ہے۔

ابتدائی وارننگ محض وقت سے پہلے اطلاع دینا نہیں، بلکہ خطرات کی درست شناخت، متعلقہ معلومات کی فوری اور واضح ترسیل، اور عوام کی اس معلومات پر سمجھ بوجھ کے ساتھ عمل درآمد کی صلاحیت پر مشتمل ایک جامع نظام ہے۔ ماضی کے تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ متاثرہ افراد اکثر خطرے کو کم تر سمجھتے ہیں اور گھروں یا مویشیوں کو چھوڑنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں : انخلاء کے دوران چوری کا اندیشہ، عارضی پناہ گاہوں میں غیرانسانی حالات، اور بے بسی کا احساس۔ اس لیے ضلعی انتظامیہ، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، اور مقامی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ خطرناک علاقوں سے محفوظ، وقتی انخلاء کے لیے مناسب بندوبست کریں۔

2022 کے سیلابوں نے واضح کر دیا کہ اگرچہ سیاسی حکومتیں فوری فیصلے اور وسائل کی فراہمی میں متحرک ہوتی ہیں، لیکن ضلعی سطح پر انتظامیہ کی صلاحیت کی کمی کی وجہ سے عملی اقدامات میں تاخیر ہوتی ہے، جس سے متاثرین کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ یہ انتظامی کمزوری بدعنوانی، اقرباپروری، اور نا اہلی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے، جسے سدھارنے کے لیے سنجیدہ اصلاحات درکار ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آفات کے خطرات میں کمی (UNDRR) کے مطابق، ابتدائی وارننگ سسٹم ایک مربوط نظام ہے جو خطرات کی شناخت، نگرانی، بروقت اطلاع رسانی، اور تیاری کے اقدامات کو ممکن بناتا ہے تاکہ لوگ، ادارے، اور حکومتیں بروقت عمل کر کے نقصانات کو کم کر سکیں۔

ابتدائی وارننگ سسٹم کے چار کلیدی اجزاء درج ذیل ہیں :

1۔ خطرات کی معلومات: کسی موجودہ یا ممکنہ خطرے (مثلاً سائیکلون) کی نوعیت، شدت اور ممکنہ اثرات سے متعلق آگاہی۔

2۔ نگرانی اور تشخیص: خطرے کی لمحہ بہ لمحہ سائنسی نگرانی اور ماڈلنگ؛ جیسے کہ ماہرین سائیکلون کے راستے، رفتار اور شدت کے بارے میں مسلسل معلومات فراہم کرتے ہیں۔

3۔ عمل درآمد کی صلاحیت: وارننگ کے بعد اداروں، افراد، اور حکومتوں کی فوری اور موثر ردعمل کی صلاحیت۔ بعض اوقات سیاسی قیادت فعال ہوتی ہے، مگر ضلعی سطح پر انتظامیہ کی صلاحیت متحرک نہیں ہو پاتی۔

4۔ ابلاغ اور ترسیل: وارننگز کو درست، سادہ، اور فوری طور پر عوام اور متعلقہ اداروں تک پہنچانا۔

پاکستان میں صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ضلعی، تحصیل، اور یونین کونسل کی سطح پر مقامی اداروں اور سماجی تنظیموں کو ساتھ ملا کر ایک نیٹ ورک قائم کریں تاکہ ابتدائی وارننگ کے بعد عملی اقدامات ہو سکیں۔ مقامی نظامِ حکومت اور ادارے جو وقت کے ساتھ کمزور ہو چکے ہیں، ان کی بحالی نہایت ضروری ہے۔ 2022 کے سیلاب، پانی کی قلت، اور حالیہ بحران جیسے بحران واضح کرتے ہیں کہ ایک شفاف، منصفانہ اور موثر نظامِ انتظام ناگزیر ہے۔

محدود وسائل کے باوجود، پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ ایک بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ سندھ سمیت دیگر صوبوں کی حکومتیں بھی مختلف پالیسیوں اور منصوبوں کے تحت، جیسے کہ ورلڈ بینک کا سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ، مقامی سطح پر ابتدائی وارننگ سسٹم قائم کر رہی ہیں، جو پانی اور زراعت سے متعلق حقیقی وقت میں ڈیٹا جمع کر کے اسے عام افراد اور اداروں تک پہنچائیں گے۔ تاہم یہ نظام ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں، اور دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک (جیسے بنگلہ دیش، تھائی لینڈ) کے تجربات سے رہنمائی لینے کی ضرورت ہے۔ بنگلادیش کے ماہرین اس پراجیکٹ میں حکومت سندھ کی مدد کر رہے ہیں۔

اس کام کو بڑھانے کے لیے میرٹ پر ماہرین کی تقرری اور تربیت ضروری ہے۔

کئی ترقی پذیر ممالک میں کمیونٹی بیسڈ ابتدائی وارننگ سسٹمز نہایت موثر ثابت ہوئے ہیں، جہاں دیہی علاقوں اور چھوٹے قصبوں میں مقامی سوشل آرگنائزیشنز بھی حکومت کے ساتھ مل کر خطرات کی شناخت اور معلومات کی ترسیل میں فعال کردار ادا کرتی ہیں۔

آج کے دور میں انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، ایف ایم ریڈیو اور ٹی وی معلومات کی فوری ترسیل کے موثر ذرائع ہیں۔ تاہم، پاکستان میں موبائل نیٹ ورک کوریج کم ہو رہی ہے اور ٹیلی کام کمپنیاں انفراسٹرکچر کی ترقی میں سنجیدہ نظر نہیں آتیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی خاموش ہے، گویا اسلام آباد تک محدود ہو کر رہ گئی ہو۔ عوام ٹیکس دینے کے باوجود معیاری سہولیات سے محروم ہیں۔ ایک مستحکم، ہمہ گیر اور قابلِ اعتماد مواصلاتی نظام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

حکومتِ سندھ سمیت تمام صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ معلوماتی ٹی وی چینل، ایف ایم ریڈیو سسٹم، اور موبائل نیٹ ورک سے محروم علاقوں میں متبادل ذرائع سے ایس ایم ایس الرٹس اور وارننگز کے نظام قائم کریں، تاکہ ہر کونے تک بروقت اطلاع پہنچے۔

اداروں کی استعداد کار اور شفافیت کو بڑھانا، میرٹ پر تقرریاں، اور مقامی سطح پر سیاسی و سماجی شراکت داروں کو متحرک کرنا ضروری ہے۔ صرف خطرے سے آگاہی کافی نہیں، بلکہ محفوظ انخلاء کا موثر بندوبست بھی ناگزیر ہے۔ آفات کے وقت سب سے پہلا ردعمل مقامی لوگ ہی دیتے ہیں، اس لیے ابتدائی وارننگ سسٹم کو موثر بنانے کے لیے عوام، ضلعی انتظامیہ، محکمہ آبپاشی، صوبائی و قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے، سماجی تنظیمیں، بین الاقوامی ایجنسیاں، نجی شعبہ، تحقیقی ادارے اور میڈیا سب کو شامل کرنا ہو گا۔

آج کے غیر یقینی دور، موسمیاتی تبدیلی کے خطرات، اور آفات سے پیدا ہونے والے انسانی، معاشی، سماجی و ثقافتی نقصانات کے پیش نظر، ایک موثر ابتدائی وارننگ سسٹم کا قیام پاکستان کے تمام صوبوں کے لیے ناگزیر ہے۔

Facebook Comments HS