ایران اسرائیل تصادم


sultan ayaz

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اسرائیل نے ایران کے خلاف براہِ راست اور بھرپور عسکری کارروائی کرتے ہوئے تہران میں حساس تنصیبات اور اہم شخصیات کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں نے پورے خطے میں ہلچل مچا دی ہے اور عالمی امن کو نئے خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

اسرائیلی حملوں کے بعد ایران میں شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے۔ سرکاری سطح پر سخت بیانات دینے کے چند ہی گھنٹوں میں ایران نے جوابی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ تہران نے درجنوں بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کے ذریعے اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں عسکری اڈے، انٹیلی جنس مراکز اور دیگر اسٹریٹجک مقامات شامل تھے۔ تل ابیب، حیفا، اشدود اور دیگر شہروں میں خطرے کے سائرن بج رہے ہیں۔

یہ صورتِ حال اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ ایران اور اسرائیل کی دیرینہ کشیدگی اب مکمل جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے اور اس کے اثرات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ یہ تصادم محض دو ممالک کا باہمی تنازع نہیں بلکہ ایک بڑے جغرافیائی اور نظریاتی تصادم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیاں، خطے میں عسکری برتری قائم رکھنے کی کوششیں اور ایران کو کمزور کرنے کی مسلسل سازشیں اس بحران کو جنم دے رہی ہیں۔ دوسری جانب ایران بھی ایک منظم ریاستی طاقت کے طور پر اپنا دفاع کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ مسلم دنیا کی قیادت اب بھی خاموش ہے۔ فلسطین پر جاری بمباری ہو یا ایران پر براہِ راست حملے، بیشتر مسلم ممالک رسمی بیانات سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں۔ یہ خاموشی دشمنوں کے حوصلے بلند کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ عالمی طاقتوں کا کردار بھی سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک کھل کر اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل محض اجلاسوں اور مذمتی بیانات تک محدود ہیں۔ اگر فوری جنگ بندی کے لیے عملی اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

ایران اسرائیل تصادم اب صرف دو ریاستوں کا معاملہ نہیں رہا بلکہ ایک بین الاقوامی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ عالمی طاقتوں، علاقائی قیادت اور خصوصاً مسلم دنیا کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ وہ خواب غفلت سے بیدار ہو کر سنجیدہ اقدامات کرے۔ بصورتِ دیگر مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کا خواب ہمیشہ کے لیے ایک سراب بن کر رہ جائے گا۔

Facebook Comments HS