معروف پنجابی شاعر تجمل کلیم کا سانحہ ارتحال
معروف پنجابی شاعر تجمل کلیم 22 مئی 2025 کو جناح ہسپتال لاہور میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 65 برس تھی۔ تقریباً زیادہ تر شاعر، فن کار اور ادا کار زندگی کے آخری برسوں میں معیشت کی تنگی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی زندگی مشکلات میں گزرتی ہے اور موت کسمپرسی کی حالت میں ہوتی ہے۔ ہر ایسے شاعر اور فن کار کی موت پر یہ ہی تعزیتی پیغام دیا جاتا ہے کہ ان کی موت کسمپرسی کی حالت میں سرکاری شفا خانے میں ہوئی۔ اس پیغام میں دو نکات بہت اہم ہیں، ایک کسمپرسی اور دوسرا سرکاری شفا خانہ۔ کسمپرسی کی تو سمجھ آتی ہے کہ عیال داری زیادہ تھی، آمدنی اور وسائل کم تھے، جو جمع پونجی تھی وہ بیماری پر اٹھ گئی۔ لیکن کسمپرسی کے ساتھ جب سرکاری شفا خانے کا نام لگتا ہے تو بہت دکھ ہوتا ہے کہ سرکاری شفا خانے کی شہرت اس قدر بری کیوں ہے، لوگ وہاں علاج کرانے کو غریبی پر کیوں محمول کرلیتے ہیں، کیا وہاں مریض کی اچھی دیکھ بھال نہیں ہوتی، اچھا علاج معالجہ نہیں ہوتا، اچھی تشخیصی جانچ پڑتال نہیں ہوتی یا اچھی ادویات میسر نہیں ہوتیں یہ متعلقہ ذمہ داران کے لیے بہت اہم سوالات ہیں کہ لوگوں کا سرکاری شفا خانوں پر اعتماد اور بھروسا کیوں نہیں ہوتا ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ تمام حکمران اور حکام زیادہ تر اپنا اور اپنے اہل خانہ کا علاج برطانیہ اور امریکہ کے شفاخانوں میں کراتے ہیں۔
تجمل کلیم 26 مارچ 1960 کو ضلع قصور کی تحصیل چونیاں میں پیدا ہوئے۔ بچپن یتیمی میں گزرا۔ ابتدا میں اردو غزل اور شاعری سے آغاز کیا لیکن پھر 1992 میں جدید پنجابی شاعری میں نام اور مقام پیدا کرنا شروع کر دیا۔ پاکستانی پنجاب میں ان کی وہی اہمیت تھی جو بھارتی پنجاب میں شیو کمار بٹالوی کی تھی۔ ایک پوڈ کاسٹ میں انہوں نے اپنی پنجابی شاعری کے آغاز کی وجہ بیان کرتے ہوئے بیان کیا کہ مشہور شاعر منیر نیازی نے ایک بالمشافہ گفتگو میں کہا تھا کہ پنجابی زبان میں اتنی وسعت نہیں ہے کہ اس میں جدید غزل کہی جا سکے۔ تجمل کلیم کو اس بات سے بہت دکھ پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ اگر منیر نیازی پنجابی زبان میں جدید غزل کہنے سے قاصر ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ پنجابی زبان میں جدید غزل نہیں کہی جا سکتی۔ میں اپنی ماں بولی کی یہ توہین برداشت نہیں کر سکا اور اس کے بعد میں نے پنجابی زبان کو ہی اپنی شاعری کا ذریعہ بنایا اور اسی میں سب کچھ کہا۔ ایسی ہی ایک فرمائش بابائے پنجابی ڈاکٹر فقیر محمد فقیر نے علامہ اقبال سے بھی کی تھی اور اقبال نے بھی کم و بیش یہی جواب دیا تھا کہ پنجابی زبان کی وسعت اردو کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ انہوں نے اپنا ایک اردو مصرعہ، گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر، انہیں پنجابی میں ترجمہ کرنے کو کہا، جو انہوں نے ایسا کمال کا کیا کہ اقبال کو بھی وعدہ کرنا پڑا کہ وہ پنجابی زبان میں ضرور کچھ لکھیں گے، ترجمہ شعر یہ تھا، لشکن والی زلفاں تائیں ہور وی لشکاندا جائنی
تجمل کلیم پنجابی شاعری اور بولی کا ایک ایسا ہیرا تھے جن کی زندگی میں قدر نہ ہو سکی۔ بہت پرانا مقولہ ہے کہ موت انسان کی عظمت کو بڑھا دیتی ہے اور یہ مقولہ تجمل کلیم پر بہت صادق آتا ہے۔ جو انہیں 65 کی عمر میں نہ جان سکا، وہ راتوں رات ان کی حیات و خدمات سے واقف ہو گیا۔ اہل پنجاب نے 2025 میں ایک اور شیو کمار بٹالوی کھو دیا ہے۔ تجمل کلیم نے اگر اپنا کچھ کلام گائیکی کے حوالے سے بھی لکھا ہوتا تو ان کو تشہیر بھی ملتی اور مالی مشکلات بھی کم ہو جاتیں۔
شاعر لوگ آزاد منش ہوتے ہیں، وہ کوئی لگی بندھی ملازمت نہیں کر سکتے ہیں۔ ان کا ذریعہ معاش ان کی شاعری اور تحاریر ہوتی ہیں۔ اگر ان کو ان کی تخلیقات کا معقول معاوضہ ملے اور کچھ حکومتی توجہ اور تعاون مل جائے تو ان کی زندگی کافی آسان ہو جائے۔ ملک میں کافی سرکاری اور نجی ادبی تنظیمات موجود ہیں لیکن وہ اس طریقے سے ادباء اور شعراء کی مالی معاونت اور ان کی تخلیقات کو زیور طباعت سے آراستہ کرنے میں مدد فراہم نہیں کر سکیں ہیں جس سے ان کی زندگی آسان ہو سکے۔
چھوٹی بحروں میں جدید پنجابی غزل کہنے والا یہ نابغہ روز گار شاعر بھی ہمیں داغ مفارقت دے کر جانیاں شاہ قبرستان چونیاں میں دفن ہو کر زندگی کے دکھوں سے آزاد ہو گیا ہے۔ رب کریم ان کی کامل مغفرت کر کے بلندی درجات کرے۔
تجمل کلیم کے مجموعہ کلام
برفاں ہیٹھ تنور 1996 (برفوں کے نیچے تنور)
ویہڑے دا رکھ 2010 (صحن کا درخت)
بان دی سولی 2012 ( بان کی سولی)
چیکدا منظر 2017 (چیختا منظر)
تجمل کلیم نے بہت چھوٹی بحروں میں پنجابی غزل کہی۔ انہوں نے پنجابی غزل میں ان تشبیہات، استعارات اور اصطلاحات کو استعمال کیا جو اردو اور فارسی غزل کا خاصہ تھیں۔ ان کی شاعری عام فہم، سادہ اور غربت کے مسائل کی عکاس ہے۔ ان کے کلام کے کچھ اشعار
کمال کر دے او بادشاہو
مرن توں ڈر دے او بادشاہو
کسے نوں مارن دا سوچ دے او
کسے تے مر دے او بادشاہو
(جناب آپ بھی کمال کرتے ہیں،
مرنے سے کیوں ڈر رہے ہیں
کسی کو مارنے کا سوچ رہے ہیں
اور خود کسی اور پر مر رہے ہیں )
ٹبہ ٹویا اک برابر (اونچی اور نیچی جگہ ایک جیسی ہوتی ہے )
کریا ہویا اک برابر (جو کیا اور جو ہوا، ایک جیسا ہی ہے )
قسماں سن کے نیندر اڈی ( قسمیں سن کر نیند ہی اڑ گئی ہے ) ۔
ستا مویا اک برابر ( سویا ہوا اور مرا ہوا شخص ایک جیسے ہوتے ہیں )
ماڑے گھر نوں بوہا کاہدا ( غریب کے گھر کے دروازے کی کوئی اہمیت نہیں ہے )
کھلا ڈھویا اک برابر (یہ کھلا ہو یا بند ہو، ایک جیسے ہی ہیں )
سارے گھر دا سُکھ اے نا
پیو ویہڑے دا رُکھ اے نا (والد کی گھر میں ایسی حیثیت ہوتی ہے جیسے صحن کا بڑا درخت ہوتا ہے )
میں ایہہ قید وی کٹ لاں گا
تیرا مطلب بُھکھ اے نا ( مجھے بھوک سے نہ ڈراؤ، میں، اس کو بھی برداشت کر سکتا ہوں )
جنہوں چن پئے کہندے نیں
ایہہ تیرا ای مُکھ اے نا (جس کو لوگ چاند کہتے ہیں، محبوب وہ تمہارا ہی رخ زیبا ہے )
نوٹ اُبال کے لے آواں
تیری دولت بُھکھ اے نا (اگر دولت سے تمہاری بھوک ختم ہو سکتی ہے تو میں نوٹ بھی پکا کے لے آؤں گا)
اوہ ہن گل وی نہیں کر دا
ایسے گل دا دُکھ اے نا (محبوب ناراضگی کی وجہ سے مجھ سے کوئی بات بھی نہیں کرتا ہے۔ بس اسی بات کا مجھے بہت دکھ ہے )

