پاکستان ایران دوست یا دشمن۔ 1
اگست 1947 کو پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو ایران دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے باضابطہ طور پر پاکستان کے وجود کو تسلیم کیا۔ ایران کے اس قدم نے دونوں ممالک کے مابین دوستی کی بنیاد ڈال دی۔ ایران وہ واحد ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کی تقریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل سرحد پر سنہ 2013 تک کسی قسم کی فوجی تعیناتی نہیں تھی، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور امن کا ایک عملی ثبوت تھا۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ سرحدی سلامتی کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے سنہ 2013 میں ’ڈیفنس پیکٹ‘ کے بعد پہلی بار سکیورٹی کے اقدامات کیے گئے اور باہمی رضامندی سے سرحد کے کچھ حصے پر باڑ بھی لگائی گئی۔
ستمبر 1947 میں دونوں ممالک نے باقاعدہ سفارتی مشن قائم کیے۔ پاکستانی و زیرِ خارجہ سر ظفراللہ خان نے ایران کا دورہ کیا، جبکہ ایران کے وزیر خارجہ نے بھی پاکستان کا دورہ کیا۔ ان دوروں کے نتیجے میں کئی اہم دوطرفہ معاہدے طے پائے، جن میں تجارتی تعاون، تعلیمی تبادلہ، اور ثقافتی روابط شامل تھے۔ اقوام متحدہ اور بعد میں اسلامی کانفرنس تنظیم جیسے بین الاقوامی فورمز پر ایران ہمیشہ پاکستان کے قریب رہا، خصوصاً مسئلہ کشمیر پر ایران کی اصولی حمایت پاکستان کے لیے ایک مضبوط سفارتی پشت پناہی بنی۔
1950 کی دہائی میں ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی معاہدے طے پائے، جن کے تحت پاکستان کو ایرانی تیل، پیٹرولیم مصنوعات، خشک میوہ جات، قالین اور دیگر اشیاء میسر آئیں، جبکہ ایران نے پاکستان سے کپاس، چمڑا، چاول اور ٹیکسٹائل مصنوعات درآمد کیں۔ 1956 میں تجارتی معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کا مقصد دونوں ممالک کی صنعتوں کو مضبوط بنانا اور تجارتی انحصار کو مقامی سطح پر فروغ دینا تھا۔ ایران نے بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں بجلی کی فراہمی کے منصوبوں میں دلچسپی لی، اور پنجگور، تربت اور گوادر کے قریبی دیہی علاقوں کو ایرانی گرڈ سے بجلی فراہم کی گئی، جو کہ علاقائی تعاون کی بہترین مثال تھی۔
سنہ 1950 کی دہائی میں دونوں ممالک نے زائرین کی آسانی اور مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ایک باضابطہ معاہدہ کیا، جس کے تحت پاکستانی زائرین کو ایران کے مقدس مقامات، خصوصاً مشہد اور قم کی زیارت کے لیے سہولیات فراہم کی گئیں، جبکہ ایرانی زائرین کو بھی پاکستان میں واقع صوفیائے کرام کے مزارات تک رسائی دی گئی۔ ہر سال ہزاروں پاکستانی زائرین ایران کا رخ کرتے، جن کے لیے خصوصی ویزہ سہولت، رہائش، اور طبی امداد جیسے انتظامات کیے جاتے رہے۔ اسی طرح ایرانی زائرین کے لیے بھی پاکستان میں مذہبی زیارت کا راستہ کھلا رہا۔
سرد جنگ کے دور میں عالمی طاقتوں کے درمیان کھینچا تانی کے باعث مسلم ممالک بھی بلاک سیاست میں دھکیل دیے گئے۔ ایران اور پاکستان نے سوویت اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے مغربی بلاک میں شمولیت اختیار کی۔ 1955 میں دونوں ممالک نے بغداد پیکٹ میں شامل ہو کر علاقائی دفاعی اتحاد قائم کیا، جس کا مقصد سوویت یونین کے اثر کو روکنا اور خطے میں امریکہ و برطانیہ کی حمایت سے دفاعی استحکام لانا تھا۔ بعد ازاں اس اتحاد کو سینٹو کا نام دیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت ایران اور پاکستان نے دفاعی تعاون کو فروغ دیا، ایرانی افسران پاکستان کے نیشنل ڈیفنس کالج میں تربیت حاصل کرتے رہے، اور پاکستانی افسران نے بھی ایران میں دفاعی کورسز میں شرکت کی۔
شاہِ ایران محمد رضا پہلوی نے 1956، 1962، اور 1964 میں پاکستان کے سرکاری دورے کیے، جن کے دوران مختلف معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں دفاع، تجارت، ثقافت اور تعلیمی تبادلے کے معاہدے شامل تھے۔ ان دوروں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان عوامی اور حکومتی سطح پر تعلقات کو مزید وسعت ملی۔ صدر ایوب خان نے بھی ایران کا دورہ کیا، اور دونوں ممالک نے ”اسلامی یکجہتی“ اور ”علاقائی خودمختاری“ کے اصولوں کو اپنی مشترکہ خارجہ پالیسی کا حصہ بنایا، جو اس وقت کی اسلامی دنیا کے لیے ایک مشترکہ موقف کی حیثیت رکھتا تھا۔
1950 اور 1960 کی دہائی میں ایران اور پاکستان نے زاہدان۔ کوئٹہ ریلوے لائن اور ریلوے اور روڈ نیٹ ورک کو بہتر بنانے پر توجہ دی تاکہ تجارت اور عوامی روابط میں آسانی ہو۔ 1964 میں ایران، پاکستان اور ترکی نے مل کر ”ریجنل کارپوریشن فار ڈویلپمنٹ“ (آر سی ڈی) قائم کی، جس کا مقصد معاشی، صنعتی اور تعلیمی میدانوں میں سہ فریقی تعاون تھا۔ اس تنظیم کے تحت صنعتی نمائشیں، یونیورسٹیوں اور طالبعلموں کے تبادلے، تکنیکی ماہرین کی تربیت، اور مشترکہ شپنگ اور بینکنگ سسٹمز جیسے منصوبوں پر کام کیا گیا۔
جب 1965 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ چھڑی تو ایران نے پاکستان کی کھل کر حمایت کی۔ شاہِ ایران نے جنگ بندی کے لیے ثالثی کی کوششیں کیں اور پاکستان کو اسلحہ، طبی امداد اور پیٹرولیم مصنوعات فراہم کیں۔ اس عمل سے پاکستان میں ایرانی حکومت کے لیے عوامی سطح پر ہمدردی اور قدر دانی میں اضافہ ہوا۔ 1971 میں مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک، بھارتی جارحیت، اور پاکستان کے دو لخت ہونے کے بعد بھی ایران نے پاکستان کی سالمیت کے حق میں آواز بلند کی اور نئی صورتحال میں بھی پاکستان سے سفارتی و برادرانہ تعلقات کو برقرار رکھا۔
ایران اور پاکستان کے تعلقات کی بنیاد 1947 سے 1972 کے درمیان ایک ایسے خوشگوار اور با اعتماد دور پر تھی جس میں دونوں ممالک نے علاقائی اور عالمی سطح پر ایک دوسرے کی بھرپور حمایت کی، ایک دوسرے کے ساتھ سفارتی، دفاعی، صنعتی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون کیا، اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے ایک مشترکہ ویژن پیش کیا۔ یہ دور دونوں ممالک کے تعلقات کی تاریخ میں سنہری باب کی حیثیت رکھتا ہے۔


