سوات کا سیاحتی مقام ٹیپ بانڈا اور کلائمیٹ چینج
ٹیپ بانڈا ایک خوبصورت اور قدرتی سیاحتی مقام ہے، جو حالیہ برسوں میں جیپ ٹریک بننے کے بعد سیاحوں کی خاص توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ مگر اصل مسئلہ یہاں کی قدرتی خوبصورتی کو محفوظ رکھنا ہے۔ یہ مقام مانکیال سے تقریباً 15 کلومیٹر اور بحرین سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں پہنچنے کے لیے درج ذیل راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔
اسلام آباد سے مینگورہ یا کانجو سے ہوتے ہوئے بحرین پھر کالام جاتے ہوئے راستے میں مانکیال، مانکیال سے جیپ کے ذریعے تقریباً ایک گھنٹے کا سفر، جس کا اختتام ”جبہ“ پر ہوتا ہے۔ اسے مقامی طور پر ”مانکیال جبہ“ بھی کہا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے پیدل ٹریک (ٹریکنگ روٹ) کا آغاز ہوتا ہے، جو تقریباً 40 سے 45 منٹ کا آسان سفر ہے۔ یہ علاقہ اپنی فطری خوبصورتی اور سرسبز وادیوں، رنگ برنگے پھولوں اور فلک بوس پہاڑوں کی وجہ سے خاص مقام رکھتا ہے۔ گھومتی ہوئی ندی اور شور مچاتی آبشاریں اس منظر کو اور بھی دلکش بنا دیتی ہیں۔ لیکن کلائمٹ چینج اور انسانی لاپرواہی کے باعث اس خوبصورتی کو برقرار رکھنا دن بدن مشکل ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہاں کے گلیشیئرز کو شدید خطرات لاحق ہیں، بالخصوص مانکیال پیک پر موجود معلق گلیشیئر پشاور اور مردان سے آنے والی گرم ہواؤں کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔ کلاؤڈ برسٹ اور گلیشیئر پھٹنے کے امکانات بھی موجود ہیں، اس لیے ماہرین کی رائے ہے کہ اس علاقے میں مزید احتیاط اور پائیدار اقدامات کی ضرورت ہے۔
سیاحوں اور ٹریکرز سے گزارش ہے کہ وہ یہاں صفائی کا خاص خیال رکھیں، پلاسٹک ریپرز اور فضلہ نہ چھوڑیں، اور ماحول کو اسی طرح محفوظ رکھیں جیسے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ علاقوں میں درختوں کی کٹائی جاری ہے۔ اگرچہ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ قانونی اجازت کے تحت ہو رہی ہے، لیکن اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو ٹمبر مافیا اس خوبصورت علاقے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
یہ علاقہ ریاستِ سوات کے زمانے سے سیاحتی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یہاں گیسٹ ہاؤسز بھی موجود تھے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ سب ختم ہو گئے۔ اب دوبارہ سے جیپ ٹریک بننے کے بعد سیاحوں کی آمد میں تیزی آئی ہے، جو کہ خوش آئند ہے۔ مگر قدرتی حسن سے چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے، یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
یو این ڈی پی کے تحت ”گلاف۔ II“ منصوبے کے تحت یہاں کچھ کام ہوا ہے، لیکن مزید اقدامات کی اشد ضرورت ہے تاکہ یہ حسین وادی ہمیشہ محفوظ اور پرکشش رہے۔
ٹیپ بانڈا میں عید کی چھٹیوں کے دوران اور اب تک ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد یہاں کا رخ کر رہی ہے۔ یہاں کا پیدل ٹریک آسان ہے، اس لیے عام لوگ بھی بغیر کسی مشکل کے یہاں پہنچ رہے ہیں، اور خود اپنے ساتھ کھانے پینے کی اشیاء اور ٹینٹ وغیرہ لے کر آتے ہیں۔
میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں سیاحت کے ہرگز خلاف نہیں ہوں۔ بلکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ سیاحت سے مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع ملتے ہیں، جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ خاص طور پر جیپ ڈرائیورز اس موسم میں اچھا خاصا کما رہے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ اس قدرتی مقام کو صاف ستھرا رکھا جائے۔ غیر ملکی سیاح جہاں بھی جاتے ہیں، اپنی اشیاء اپنے ساتھ واپس لے آتے ہیں، اور کسی قسم کا کچرا نہیں چھوڑتے۔ ہمیں بھی یہی رویہ اپنانا چاہیے، اور یہاں کی مقامی روایات کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ یہاں کی خواتین پردہ کرتی ہیں، اس لیے مناسب یہ ہے کہ اگر آپ ٹینٹ لگانا چاہتے ہیں تو گھروں سے دور لگائیں، ترجیحاً پانی کے قریب کھلی جگہ پر۔
مزید یہ کہ جیپ کرایوں کو اگر مناسب رکھا جائے تو عام سیاح بھی یہاں تک با آسانی پہنچ سکتے ہیں۔ موٹر سائیکلوں کے استعمال پر خاص طور پر پیدل ٹریک پر پابندی ہونی چاہیے، کیونکہ یہ نہ صرف خطرناک ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی اور جنگلی حیات کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ یہاں ریچھ، بندر اور دیگر جنگلی جانور پائے جاتے ہیں، جن کے لیے شور اور آلودگی نقصان دہ ہے۔ لہٰذا ہم سب کو مل کر، انفرادی اور اجتماعی طور پر قدرتی ماحول کا تحفظ اور مقامی ثقافت کا احترام کرنا ہو گا۔


