آزادی کے نام پر طاقت کا کھیل
دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا میں نو آبادیاتی نظام کا خاتمہ بظاہر آزادی کی جیت تھی، مگر درحقیقت یہ مغربی سرمایہ دار قوتوں کی ایک منظم عالمی حکمتِ عملی تھی۔ جو دنیا کو نئے انداز میں قابو میں رکھنا چاہتی تھیں۔ یورپ نے اگرچہ اپنے جھنڈے واپس سمیٹے، مگر ان کی جگہ ملٹی نیشنل کمپنیاں، فوجی اڈے، اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے آ گئے۔ اس ”آزادی“ کے پس منظر میں امریکی قیادت میں ایک نیا سامراجی نظام ابھرا، جس کا مقصد صرف سابق نو آبادیات کو آزاد کرنا نہیں تھا بلکہ سوویت یونین کے اثر کو روکنا اور مغربی مفادات کا تحفظ کرنا تھا۔ اسرائیل اور پاکستان جیسے دو نظریاتی قلعے اس مقصد کے لیے قائم کیے گئے۔ ایک نے مشرقِ وسطیٰ میں، اور دوسرے نے جنوبی ایشیا میں، سرمایہ دار دنیا کے مفادات کی نگرانی کا کردار ادا کیا۔
اگرچہ سرد جنگ کا خاتمہ 1990 کی دہائی میں ہوا، لیکن عالمی نظام کا بنیادی ڈھانچہ برقرار رہا۔ مغربی بالادستی ختم نہ ہوئی، بلکہ اس نے نئی شکل اختیار کی۔ لیکن تب ایک نئے چیلنجر کے طور پر چین ابھرا۔ جو صرف معیشت ہی نہیں بلکہ عالمی سیاست، اداروں، اور بیانیے کو بھی چیلنج کرنے لگا۔ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے لے کر افریقہ اور ایشیا میں اس کی سرمایہ کاری، اور اقوام متحدہ میں بڑھتے اثر تک، سب کچھ یہ ظاہر کرتا ہے کہ طاقت کا توازن اب مغرب سے مشرق کی جانب جھک رہا ہے۔ اب بحرِ ہند، بحیرہ احمر اور افریقی خطے میں چین اور امریکہ کے درمیان بالادستی کی کشمکش تیز ہو چکی ہے۔ اس تبدیلی نے دنیا کو ایک نئے عالمی نقشے کی طرف دھکیل دیا ہے۔ پرانے اتحاد کمزور پڑ چکے ہیں، نئے بلاک بن رہے ہیں، اور قومی ریاست کا ماڈل جو بیسویں صدی میں عروج پر تھا اب ٹیکنالوجی اور شناختی سیاست کے سامنے غیر یقینی صورت اختیار کر چکا ہے۔
ٹیکنالوجی کے شعبے، بالخصوص سیلیکون ویلی، اب صرف معیشت کا مرکز نہیں بلکہ عالمی سیاست کے اہم کھلاڑی بن چکے ہیں۔ وہ معلومات، رائے، اور بیانیے پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ ایسے میں جمہوریت کا زوال کوئی اتفاق نہیں۔ دنیا بھر میں عوامی نمائندہ نظام زوال کا شکار ہے، اور آمریت پسندانہ رجحانات فروغ پا رہے ہیں۔ ہم آج ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں تاریخ کا نیا باب لکھا جا رہا ہے، مگر ہمارے سامنے کئی سوالات ہیں۔
کیا نظریاتی ریاستیں اب بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنی وہ سرد جنگ کے دور میں تھیں؟
کیا قومی ریاست کا ماڈل اگلی دہائی میں قائم رہ پائے گا؟
کیا سیلیکون ویلی واقعی دنیا کی نئی طاقت بن چکی ہے؟
اور سب سے اہم: کیا آزادی اور جمہوریت اب صرف نعرے بن کر رہ گئے ہیں؟
جواب شاید ابھی ہمارے پاس نہ ہوں، مگر ہمیں یہ ضرور سمجھ لینا چاہیے کہ آنے والے دنوں کی سیاست صرف طاقت کی نہیں، بیانیے کی بھی جنگ ہو گی۔ اور اس میں خاموشی اختیار کرنا سب سے بڑا نقصان ہو گا۔


