خواب، محبت اور زندگی (34)


mahnaz rahman

ہوسٹل میں پہلی رات

یوں میری یونیورسٹی کی زندگی کا آغاز ہوا۔ گرلز ہوسٹل کی خوبصورت عمارت اسی سال مکمل ہوئی تھی۔ سفید رنگ کی سنگ مرمر جیسی دو منزلہ عمارت کے درمیان ایک ہرا بھرا لان تھا۔ کھانا حیدرآباد کالج کے مقابلے میں ہزار گنا بہتر تھا مگر پھر بھی مہینے میں ایک آدھ مرتبہ لڑکیوں کے کسی نہ کسی گروپ کا کھانے کی کوالٹی یا مینو کے حوالے سے وارڈن سے جھگڑا ضرور ہوتا تھا۔ ممتاز اور تین چار اور لڑکیاں میس کمیٹی میں شامل تھیں اور ہفتے بھر کا مینو تیار کرتی تھیں اور کچن اسٹاف کی نگرانی کرتی تھیں۔ میں پہلے دن سے ہی ممتاز کے گروپ کا حصہ بن گئی تھی۔ اس گروپ کی لیڈر نزہت سلطان تھی جس کے والد سلطان صاحب چین میں پاکستان کے سفیر تھے اور یہ بات ہمیں مرعوب کرنے کے لئے کافی تھی۔ چین پاکستان کے لئے بے حد اہمیت رکھتا تھا۔ ہمیں چین سے قلبی لگاؤ تھا اور ہم پاک چین دوستی پر فخر کرتے تھے۔ میرے لئے یہ بات دہری اہمیت رکھتی تھی کیونکہ میرے پسندیدہ ادیب اور شاعر ترقی پسند، سوشلسٹ یا کمیونسٹ تھے۔ اور چین بھی ایک سوشلسٹ ملک تھا۔ کچھ ماہ بعد روحی پیرزادہ بھی ہوسٹل میں رہنے آ گئی اور ہمارے گروپ کا حصہ بن گئی۔ اگلے سال اس نے طلبہ یونین کے انتخابات میں حصہ لیا اور جمعیت کے امیدوار کو شکست دے کر جوائنٹ سیکریٹری منتخب ہوئی۔ اس زمانے میں کراچی یونیورسٹی میں جمعیت کے امیدوار کو ہرانا بہت بڑی بات تھی۔

میں ہوسٹل میں اپنی پہلی رات کبھی بھلا نہ پاؤں گی۔ رات کے کھانے کے بعد ہم سب ممتاز کے کمرے میں جمع تھے۔ راشدہ افضال اسٹاف ٹاؤن میں رہتی تھیں، وہ بھی ملنے آ گئیں۔ وہ مشرق اخبار کے صفحہ طلبا میں کالم لکھتی تھیں جو کافی مقبول تھا۔ اس حوالے سے میرا ان سے پہلے سے غائبانہ تعارف تو تھا۔ باتیں کرتے ہوئے کسی نے سیر پر چلنے کی تجویز پیش کی اور ہمارا پورا گروپ سیر کے لئے نکل کھڑا ہوا۔ گرلز ہوسٹل کے قریب ہی واقع ٹیچرز ہوسٹل اس وقت زیر تعمیر تھا۔ اچانک ہی اس عمارت سے ایک لمبا چوڑا سایہ سا نکل کر بیچ سڑک میں آ کر کھڑا ہو گیا اور بھاری اور بھرائی ہوئی آواز میں بولا، ”میری بات سنو“ ۔

ہم سب کی عمریں انیس یا بیس سال رہی ہوں گی۔ خوف کے مارے ہم سب اپنی جگہ جم سے گئے۔ اور تب راشدہ کی آواز گونجی ”بھاگو“ ۔ ہم سب مشینی انداز میں مڑے اور اندھا دھند گرلز ہوسٹل کی طرف دوڑنے لگے۔ اندھیرے میں دوڑتے ہوئے مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ میں کب سڑک سے اتر کر جھاڑیوں سے بھرے کچے راستے پر دوڑنے لگی تھی۔ میں اپنے سامنے آنے والی ایک جھاڑی پر منہ کے بل گرنے والی تھی کہ کسی نا دیدہ قوت نے میرا رخ پلٹ دیا اور میں منہ کی بجائے پشت کے بل جھاڑی پر گری اور پھر فوراً ہی اٹھ کر دوسری لڑکیوں کی سمت میں دوبارہ دوڑنے لگی۔ ہوسٹل پہنچ کر ہم سب کی جان میں جان آئی۔ آج تک یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ جھاڑی پر گرتے ہوئے میرا رخ کس نے پلٹ دیا تھا۔ اس کی کوئی سائنسی توضیح نہیں ہو سکتی۔ یہ نیوٹن کے حرکت کے قوانین کے برعکس تھا۔ یقیناً کسی غیبی طاقت نے میری مدد کی تھی۔

وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ

اب کوئی اس بات کا مشکل سے یقین کرے گا کہ ساٹھ اور ستر کے عشرے کا کراچی صرف اپنے جدید طرز کے کیفے اور کافی ہاؤسز، دکانوں، سینماؤں اور نائٹ کلبوں کی وجہ سے ہی مشہور نہیں تھا بلکہ کراچی اپنی ہواؤں کی وجہ سے بھی مشہور تھا۔ یہاں سارا دن تیز ہوائیں چلتی تھیں۔ فلیٹوں کی تیسری چوتھی منزل پر رہنے والے اپنے کمروں کی کھڑکیاں نہیں کھول پاتے تھے کیونکہ ہوا کے زور سے چیزیں گرنے لگتی تھیں۔ اب کراچی میں ان ہواؤں کی جگہ گھٹن اور حبس نے لے لی ہے۔

ہوا میں اڑتا جائے میرا لال دوپٹہ ململ کا

مجھے اچھی طرح سے یاد ہے یونیورسٹی میں میرا دوسرا یا تیسرا دن تھا۔ میں اکنامکس ڈیپارٹمنٹ میں اپنی ایک دوست کے ساتھ کلرک کے آفس کے سامنے کھڑی تھی۔ ہم سے کچھ فاصلے پر کوریڈور میں لڑکوں کا ایک گروپ کھڑا باتوں میں مشغول تھا۔ اچانک ہوا کا جھونکا آیا اور میرا دوپٹہ اڑا کر لے گیا۔ میرا دوپٹہ اڑتا ہو عین لڑکوں کے گروپ کے پاس جا کے گرا۔ میں اپنی جگہ سکتے کے عالم میں کھڑی تھی۔ خفت اور ندامت کے مارے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کروں۔ لڑکے اپنی جگہ پریشان کھڑے تھے۔ ان کی بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس موقع پر انہیں کیا کرنا چاہیے۔ ہم سب یونیورسٹی میں نئے تھے اور ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں تھے۔ دوپٹہ وہیں زمین پر پڑا تھا اور فریقین میں سے کسی کو بھی اس کو اٹھانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ بالآخر میں نے ہمت مجتمع کی، بوجھل قدموں سے لڑکوں کے گروپ کی طرف بڑھی اور دوپٹہ اٹھا کر تیزی سے واپس پلٹ آئی۔

’ہوا ہوا، دن بھر چلنے والی ہوا، زور سے گیت گانے والی ہوا‘ کہاں کھو گئی؟

Facebook Comments HS