پاکستان ہے فقط مومن جانباز کی میراث
’ ہر مذہبی گروہ اور اس کے ہر فرقے کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے، برقرار رکھنے اور ان کا انتظام کرنے کا حق ہو گا‘ ۔ ’ہر شہری کو مذہب کی پیروی کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق ہو گا‘ (آرٹیکل 20 شق الف اور ب۔ دستور پاکستان 1973 )
دو برس قبل آئین پاکستان 1973 کی 50 ویں سالگرہ منائی گئی۔ قومی نشریاتی ادارے پر خاص پروگرام منعقد ہوئے، طویل نشستوں میں اہل علم گفتگو کرتے رہے کہ کس طرح 1973 کی اس دستاویز نے پاکستان میں انسانی حقوق کی بالادستی کی ضمانت دی اسی اثنا میں عیدالاضحیٰ کی آمد ہوتی ہے اور تھانہ روشن والا ضلع فیصل آباد میں ایک ایف آئی آر درج کروائی جاتی ہے کہ حکومت پنجاب کے مراسلہ کے مطابق خصوصی ہدایت ہے کہ صرف مسلمانوں کو قربانی کی اجازت ہے لیکن اس کے باوجود مبشر احمد (فرضی نام) نے اپنے ڈیرے میں عید کے موقع پر جانور قربان کیا۔ مبشر احمد کا تعلق قادیانی جماعت سے ہے لہذا ان صاحب کی گرفتاری عمل میں لائی جائے اور معاملہ کی تفتیش شروع کی جائے۔
قانون حرکت میں آتا ہے اور مندرجہ بالا اور ایسی دیگر ایف آئی آر کے نتیجے میں ان مجرمانہ خصلت کے قادیانی افراد کو واقعی گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ اور یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا۔ اس سے قبل بھی احمدی جماعت سے وابستہ افراد کو قربانی سے منع کیا گیا کیونکہ یہ امن عامہ کے لیے خطرہ کا باعث بن سکتا ہے۔
رواں سال بھی لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے حکومت پنجاب کو تنبیہ خط لکھا کہ پنجاب حکومت صوبے بھر میں قادیانیوں کو عید کی نماز ادا کرنے اور قربانی کے جانور ذبح کرنے سے روکے۔ لہذا بعض احمدی عبادت گاہوں کے اردگرد باقاعدہ طور پر پولیس تعینات کی گئی کہ گہری نظر رکھی جا سکے اور جہاں قادیانی شعائر اسلامی ادا کرتے نظر آئیں ان کو فوراً روکا جائے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ فیصل آباد میں جن قادیانی افراد نے گھروں میں چھپ کر قربانی کی ان کے ہمسایوں نے چھتوں پر چڑھ کر ان کے اس فعل کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا تا کہ سند رہے اور بوقت ضرورت ثبوت کے طور پر کام آ سکے۔ اسلام جب ہمسایہ سے حسن ظن کی تلقین کرتا ہے تو ساتھ کبھی بھی مسلمان ہمسایہ نہیں لکھتا کیونکہ ہمسایہ کا تعلق کسی بھی مذہب، رنگ، نسل اور فرقے سے ہو سکتا ہے کجا یہ کہ آپ ہمسایہ کے گھر کی حرمت کا استحصال کرتے ہوئے چھپ کر تصاویر اور ویڈیوز بنائیں کہ وہ دیکھو مبشر احمد مرزائی بکرا ذبح کرتے کرتے آئین پاکستان کی گردن پر بھی چھری چلا گیا۔
اس عید الاضحیٰ پر ملک بھر میں مقامی اور علاقائی حکام نے احمدیوں کو عید کا تہوار منانے سے روکنے کے لیے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اقدامات کیے۔ جن میں لوگوں کو عید کی نماز اور رسومات سے باز رہنے کے لیے حلف ناموں پر دستخط کرنے پر مجبور کرنا بھی شامل ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 15 سے زیادہ حلف ناموں، یا ضمانتی بانڈز کا جائزہ لیا۔ دستخط شدہ دستاویزات میں لکھا گیا کہ شرائط کی خلاف ورزی پر پانچ لاکھ تک جرمانہ ہو گا اور فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔ اپریل کے وسط سے، احمدیہ برادری کے خلاف تشدد کے متعدد واقعات سامنے آئے۔ جیسا کہ فیصل آباد میں تحریک لبیک کے غیرت مند کارکنان نے احمدیوں کی عبادت گاہ میں گھس کر فائرنگ کی اور اندر موجود افراد کو یرغمال بنا لیا۔ کہ تم لوگ ہماری نقل کیوں اتارتے ہو؟
پھر کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں تحریک لبیک پاکستان کے حساس کارکن کی شکایت پر پولیس نے احمدیہ برادری کے دو درجن سے زائد افراد کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کر کے ان میں سے 6 کو گرفتار کر لیا کہ یہ قادیانی ہماری طرح صف بندی کر کے ہمارے مذہبی جذبات کو مجروح کر رہے ہیں۔
مسلمان اگر ہولی کھیلیں یا ’میری کرسمس‘ کے پیغام بھیجیں تو پھر بھی کچھ اعتراض کرنا بنتا ہے مگر نا چیز یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم شعائر اسلامی پر عمل کرنے پر مصر ہے تو اس کی مذمت کیوں؟

