موہنجودڑو کی بیٹی کا رقصِ احتجاج


چوک کے ایک کنارے پر وہ مشہور تصویر نصب تھی۔ شاہِ ایران اور ذوالفقار علی بھٹو کی جو گل جی نے تانبے پر کندہ کی تھی۔ سورج کی تیز کرنیں تصویر پر پڑتی تھیں، مگر اس پر اداسی کی ایک گرد جمی تھی۔ وہ تصویر اب موہنجودڑو کے داخلی دروازے کے قریب لگائی گئی تھی، جیسے تاریخ نے اس مقام پر بھی وقت کو روک دیا ہو۔ کبھی یہ تصویر اس وقت کی علامت تھی جب مہمان بادشاہوں کو یہاں لایا جاتا تھا۔ آج زرداری صاحب، بلاول صاحب، آصفہ صاحبہ کبھی اپنے مہمانوں کو یہاں کیوں نہیں لاتے؟ تاکہ وہ بھی دیکھ سکیں کہ جس سرزمین کے نیچے سے تیل نہیں نکلتا، وہاں گرمی میں لوگوں کے پکوڑے کیسے بنتے ہیں۔

زرد مٹی پر ایک نوجوان لڑکی کھڑی تھی۔ سمبارا، وہی مٹی کی بیٹی جسے صدیوں پہلے سنگتراش نے تراشا تھا۔ اب وہ محض افسانوی مجسمہ نہیں رہی، بلکہ سانس لیتی، چلتی پھرتی، اور احتجاج کرتی بیٹی بن چکی تھی۔ اُس کے ہاتھوں کی چوڑیاں، جو کبھی تہذیب کا فخر تھیں، اب ڈاکو چھین لے گئے تھے۔ اور اب وہ احتجاج کی علامت بن چکی تھیں۔

”موہنجودڑو کی بیٹی کی چوڑیاں بھی محفوظ نہیں رہیں!“

ایک صحافی نے یہ جملہ کیمرے کے سامنے کہا، تو آس پاس کے کچھ لوگ ہنس پڑے۔ مگر سمبارا کے چہرے پر ہنسی نہیں تھی۔ صرف ایک گہری چپ، جو ہزاروں سوالوں سے بھری ہوئی تھی۔

شہر میں سنسنی تھی۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ فل سوٹ میں چمکتی گاڑی سے اترے، ساتھ پروٹوکول، آگے پیچھے پولیس، دور تک بیریئرز۔ ایک اور صحافی نے دھیرے سے کہا:

”ڈانسنگ گرل کی چوڑیاں بھی چھن گئیں، اور ہمیں صرف فوٹو چاہیے؟“

سیاسی قیادت بھی آئی۔ بلاول، آصفہ، آصف زرداری، اور پوسٹروں پر بی بی کی مسکراہٹ، جو اب صرف دیواروں میں زندہ تھی۔ ان سب کی آمد پر پھول نچھاور کیے گئے، مگر سمبارا کے پاؤں میں وہی مٹی جمی تھی۔ موہنجودڑو کی مٹی، جو گواہ تھی کہ تہذیبیں مر تو جاتی ہیں، مگر ان کا نوحہ کوئی نہیں پڑھتا۔

پھر وہ چلی، پرانے رُخ پر بگی بنڈی کی طرف جو کبھی ”رابندرناتھ ٹیگور کا شانتی نکیتن“ کہلاتا تھا۔ وہ وہاں پہنچی، جہاں سوبھو گیان چندانی رہا کرتے تھے۔ جنہوں نے پوری زندگی غریب اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے لڑتے، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور آمریت کو للکارتے ہوئے گزاری۔ جنہیں روکنے اور دبانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ وہ مزاحمت کی سندھی آواز تھے۔ جو کسانوں، ہاریوں، محنت کشوں کی زبان تھے۔ گلیاں اب ویران تھیں، دیواروں پر لال رنگ کی ماند پڑ چکی تحریریں تھیں :

”انقلاب زندہ باد!“
ایک بزرگ ملے، چہرے پر صدیوں کی شکستگی اور دانشمندی۔ سمبارا نے پوچھا:
”کامریڈ سوبھو؟“
بزرگ نے آہ بھری،
”وہ تو بہت پہلے جا چکے۔ اب کون بولے گا ان جاگیرداروں کے خلاف؟“

سمبارا نے دیوار کے ایک کونے پر کامریڈ کی تصویر دیکھی۔ جس پر کسی نے سیاہی پھیر دی تھی۔ سچ بولنے والوں کا مقدر ہمیشہ مٹایا جانا ہی کیوں ہوتا ہے؟

سمبارا کو دیکھتے ہی مائی جانی بولی:

”اُڑی موہن کی بیٹی، اب نہ حسن واہن ہے، نہ ہی مشہور تالاب کہاٹ، نہ ہی پلا مچھلی، نہ ہی تیرنے والی ملاحوں کی جل پریاں۔ نہ ملاح رہے، نہ ہی منجھدار۔ تالابوں، دریاؤں، جنگلوں پر طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں۔ قبضہ ہے، اور سب حصہ دار بن چکے ہیں۔“

سمبارا واپس آئی۔ موہنجودڑو میں، جہاں چوک پر ایک نیا اسٹیج لگ چکا تھا۔ کچھ نوجوان چِلّا رہے تھے :
”ہماری تہذیب، ہماری پہچان!“
”ظلم کے خلاف سمبارا کا رقص!“

پھر اچانک خاموشی چھا گئی۔ سمبارا اسٹیج پر چڑھی، چوڑیوں کے بغیر ہاتھ بلند کیے، اور ایک پرسوز رقص شروع کیا۔ نہ طبلہ، نہ ساز۔ صرف قدموں کی دھمک، اور آنکھوں میں صدیوں کا احتجاج۔

اسی لمحے، کسی نے وہی پرانی تصویر پر دوبارہ ایک سطر لکھ دی:
”تم نے ہمارے خواب چرائے، ہم نے تمہاری نیندیں چھین لیں!“
سمبارا اب صرف ایک مجسمہ نہیں رہی۔
وہ مٹی سے بنی وہ آواز ہے،
جو ہر اُس وقت گونجتی ہے،
جب کوئی غریب کا حق مارے،
جب کوئی ظلم کو ترقی کا نام دے،
اور جب کوئی اقتدار کی تصویر پر ”خواب“ لکھنے کی جرات کرے۔
وہ اب بھی رقص کرتی ہے۔
موہنجودڑو کی ویران گلیوں میں،
جہاں تہذیبیں مٹی میں سو رہی ہیں،
مگر ان کی بیٹی جاگ چکی ہے۔

Facebook Comments HS