تخلیق کا کرب
تیز ہوا کا ایسا جھونکا آیا کہ ننھی کلی کی باغ عدن میں آنکھ کھلی۔ اُسکے پیر ٹہنی پر جم نہیں رہے تھے۔ کبھی دائیں اور کبھی ہائیں گرتی پڑتی۔ تیز ہوا میں سورج کی کرن ایک طرف پتوں کی اوٹ سے کیاری میں داخل ہو رہی تھی۔ سب پودے اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ جیسے ہی شعاع ان کے وجود سے ٹکراتی پھول تو انگڑائیاں لیتے کھل جاتے اور ہوا میں جھومنے لگتے۔ یہ کلی ابھی چھوٹی اور کمزور تھی اس لیے باقی پھولوں سے مقابلہ نہ کر پائی۔ باغ کے اس حصے میں مالی نے سارے سفید پھول ہی اگائے ہوئے تھے۔ اسے سفید پھولوں سے محبت تھی۔ موتیا، چنبیلی، گل داؤدی سب قطار در قطار اپنی پیشانی پر پڑی شبنم کو بادل بنتے دیکھ رہے تھے۔ دور پرندے اُونچے درختوں پر پھدک پھدک کر شرارتیں کرتے رہتے اور مالی سویرے ہی سب کو دانا پانی ڈال کر اپنے دفتر میں جا بیٹھتا جہاں ایک بڑا سا صبح کا اخبار اُسکی راہ دیکھ رہا ہوتا۔ لیکن پودوں، پھولوں اور پرندوں کو اگر کوئی شکایت ہوتی تو وہ بوڑھی انا سے ہی کہتے۔
کسی کو نیا گھونسلا چاہیے، کسی کو فلاں شاخ پر ٹوکری لٹکانی ہے۔ خوراک کی ترسیل میں مسئلہ ہے تو اُنکے پیروں کے نیچے بچھی زمین ان کے سارے مسائل حل کرتی یا باغبان تک ان کا پیغام ضرور پہنچا دیتی۔ گویا یہ زمین اُن سب کی مشترکہ ماں تھی۔ درخت ہمیشہ خاموشی کی زبان میں اسے اشارہ کرتے تو وہ سمجھ جاتی، ان کی لمبی اور مضبوط جڑیں مٹی میں دور تک پیوست تھیں پھر باقی مخلوقات بھی تو اپنا کھانا اسی سے لیتی تھیں۔ اسی زمین کے بیچوں بیچ ایک نہر نما کھالا گزرتا جو ہر کیاری کو پانی سپلائی کرتا۔ مالی نے باغ کے ایک سرے پر ایک حوض کے ساتھ دستی پمپ لگایا ہوا تھا۔ وہ روزانہ صبح و شام ”کھڑچو کھڑچو“ کی صداؤں کے ساتھ ان سب کو پانی دیتا۔ غرض اِک مسرت دوام کا دور تھا کہ ختم نہ ہوتا تھا۔
لیکن دھرتی ماں بتاتی تھیں کہ باغبان کو رنگوں کا بہت شوق تھا۔ جس کے لیے وہ کافی عرصے مختلف رنگوں کے شیڈ بنانے کے تجربات بھی کے رہا تھا۔ دھرتی ماں سب بچوں کو سلا دیتی تو دیکھتی کہ باغبان ساری ساری رات کام کرتا رہتا گویا اس پر ایک جنون سوار تھا۔ وہ دور اپنے کینوس پر نت نئے ڈیزائن بناتا اور پھاڑ دیتا۔ اُس کی اس بے چینی پر وہ خاموش ہو جاتی۔ وہ جانتی تھی کہ اُس کی گود میں جو یہ ساری زندگی بکھری پڑی ہے۔ اس کے پار کچھ اور بھی ہے۔ کچھ نئے رنگوں کے پھول یا کوئی پودے۔ لیکن گیلی مٹی اور پانی سے تو وہ بنانا ناممکن تھا جو مالی کو بے چین کیے بوئے تھا۔ اس کے لیے تو خاص محبت کی کھاد چاہیے تھی۔ سو دونوں نے ایک رات جب سارے بچے سو رہے تھے خوب بحث کی۔ دھرتی ماں باغبان کا پلان سن کر پریشان تو تھی مگر سب سے چھپا کر رکھتی تھی۔
اور انہوں نے اس نئی تخلیق کا فیصلہ کر لیا تھا۔ بادل چونکہ بڑا بھائی تھا اس لیے اُس کی ذمہ داری لگائی کہ سب بہن بھائیوں کا خیال رکھے۔
اور باغبان کندھے پر کدال رکھ کر نکل کھڑا ہوا۔ ایک انجانی مسافت طے کرنے کے بعد اس نے جو کرنا تھا کیا۔ وہ کئی سالوں تک دشت دشت دیوانہ وار پھرتا رہا۔ تپسیا اور جوگ نے اس کے سارے بال سفید کر دیے۔ آنکھیں دھنس گئیں اور ہڈیاں نکل آئیں۔ دھرتی ماں اب جانتی تھی کہ جس لمحے کا انتظار تھا، وہ اب قریب ہی ہے۔ لیکن باغبان کے لوٹ آنے میں تو ابھی کافی سمے باقی تھا۔ دھرتی ماں سب پھولوں اور پرندوں اور درختوں کو بتاتی کہ تمہارے گھر میں کوئی آنے والا ہے۔ اُس کا کیسے خیر مقدم کرنا ہے۔
ایسے ہی ایک شام جب فضا میں سکوت تھا۔ پرندے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ آسمان پر سرخی پھیلنے لگی۔ دھرتی ماں کی بے چینی بھی بڑھنے لگی۔ بادل نے جب ماں کے یہ احوال دیکھے سب بہن بھائیوں کا بلا بھیجا اور سب کو تسلی دینے لگا۔ سرخی تیزی سے پھیلتی جا رہی تھی اور اب تو آسمان تیل کی تلچھٹ کی طرح لال ہو رہا تھا۔ ایک گمنام سا درد جو دھرتی کی کوکھ سے جاگا اور آسمان تک پھیل گیا۔ اس کی شدت سے سارے پھولوں نے اپنے سر چھپا لیے۔ ماں نے دیکھا دور پہاڑ پر باغبان تیزی سے قدم اٹھاتا آ رہا ہے۔ اُسکی چال پژمردہ تھی اور وہ گرتا پڑتا بس دوڑے چلا آ رہا تھا۔ ایسے میں ایک زبردست زلزلہ آیا اور زمین کا کلیجہ چیر کر ایک چیخ نکلی اور آسمان پر پھیل گئی۔ باغبان گرتا پڑتا آن پہنچا۔ ایک شگاف سے گویا لہو کی نہر بہہ نکلی تھی۔ یہ لمحہ پیدائش تھا۔ باغبان نے دھندلائے ہوئے منظر میں اِدھر اُدھر ہاتھ مارے اور مٹی جمع کی اور اس نو مولود کونپل کو گود میں اٹھا لیا۔ دھرتی اپنی بے بسی پہ آنسو ہی بہا سکتی تھی۔ ماں لہو کے چھینٹوں میں گھری گویا ہوئی ”کیا نام رکھیں گے اُس کا؟“
باغبان رو رہا تھا ”مومیتا، کیسا رہے گا ’۔ پورے باغ عدن میں یہ پہلی کلی تھی جس کی پنکھڑیاں سرخ تھیں، لال سرخ۔


