بہت ہی ستھرا پنجاب
رواں برس عید الاضحٰی کے تین دنوں میں پنجاب کے کم و بیش ایک لاکھ بیاسی ہزار ( 1,82,000 ) بلدیاتی کارکنوں نے مل جُل کر تین لاکھ ستاون ہزار چھ سو انہتر ( 3,57,669 ) ٹن آلائشیں پنجاب کے گلی کوچوں سے اٹھائی ہیں۔ عید سے ایک روز پہلے تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ پلاسٹک کی تھیلیاں عوام میں تقسیم کی گئیں تاکہ قربانی کا فضلہ ان میں ڈال کر ویسٹ کلیکشن بوتھ تک پہنچا دیا جائے یا کال سروس کے ذریعے مطلع کر دیا جائے۔ ڈرون اور سیف سٹی کیمروں کے ذریعے علاقوں کو حتی الوسع مانیٹر کیا گیا۔ پورے صوبے میں لگ بھگ گیارہ لاکھ جانور ذبح ہوئے۔ ان کی آلائشیں اٹھانے کے لیے سینتیس ہزار ( 37,000 ) گاڑیاں پنجاب کے گلی محلوں میں گشت کرتی رہیں۔ دو لاکھ بانوے ہزار ( 2,92,000 ) جھاڑو اور دستی ریڑھیاں استعمال ہوئیں۔ ’ستھرا پنجاب‘ کے اس سہ روزہ کمانڈو ایکشن پلان کے لیے تیس ہزار پانچ سو تریسٹھ ( 30,563 ) لٹر عرقِ گلاب اور ایک لاکھ بیالیس ہزار ( 1,42,000 ) فینائل کے یونٹس خریدے گئے۔ اس پورے آپریشن کے لیے لگ بھگ تیس ارب کی مشینری استعمال ہوئی۔ (نجانے اس کا کیا مطلب ہے ) تاکہ پنجاب کی سڑکوں اور گلیوں پر بُو کا شائبہ بھی نہ رہنے پائے۔
صفائی کی اس مہم سے و زیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا جی خوش ہوا اور انہوں نے بلدیہ کے تمام ملازمین کو قومی خزانے سے فی کس دس ہزار روپے انعام دینے کا اعلان کیا۔ پنجاب کے عوام نے بھی صفائی کے اس کارِخیر کو خوب سراہا اور جی کھول کر گلیوں میں اپنے گھر کے عین سامنے اپنی استطاعت کے مطابق جانور ذبح کیے۔ قربانی کا نظارہ دیکھنے والوں سے داد وصولی۔ خون بہایا۔ کھال اتاری۔ گوشت سمیٹا اور قربانی کی باقیات وہیں چھوڑ کر گھروں میں آ گئے اور دروازہ بند کر لیا۔ آگے کا کام سرکار جانے یا خدا جانے۔
پہلے اربوں روپے مالیت کے قربانی کے جانور لائے جائیں اور پھر ان جانوروں کے فضلے کو ٹھکانے لگانے کے لیے اربوں روپے کا ایکشن پلان ترتیب دیا جائے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے بھائی صاحب؟
ہمارا شہری ریاست سے مانگتا تو بہت کچھ ہے پر دیتا کیا ہے؟ آپ کا انفرادی مذہبی فریضہ تو ادا ہو گیا شہری جی۔ مگر جو اجتماعی فرائض آپ پر اس سماج کا شہری ہونے کے ناتے لاگو ہیں۔ ان کا کیا ہوا؟ وہ تو آپ گلی میں کھلے چھوڑ کر آ گئے۔
دنیا میں کہیں بھی جانور کا گھر یا گلی میں ذبح کیا جانا حفظانِ صحت کے اصولوں کے منافی، جرم تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور افغانستان شاید اس اصول سے مستثنیٰ ہیں۔ دیگر ممالک میں یہ کام ذبیحہ خانوں میں پیشہ ور قصائی سر انجام دیتے ہیں۔ آپ کا کام محض پسندیدہ جانور کی بکنگ کرنا اور مقررہ وقت پر ٹوکن کاؤنٹر سے گوشت کی وصولی ہے۔ وہ بھی اگر آپ چاہیں ورنہ اسے مستحقین میں بانٹنے کا بھی پورا سسٹم موجود ہے۔ خلیجی ممالک، ترکی، ملائیشیا یا ایران کی کیا مثال دوں، اپنے ہی وطن کے ایک متنازعہ ٹکڑے کو لے لیجیے۔
ہنزہ میں کوئی ہمسایہ کسی برابر والے کی ٹوہ نہیں لیتا کہ اس نے کون سا جانور کتنے میں خریدا یا وہ قربانی کر بھی رہا ہے یا نہیں۔ کوئی بکرے کے سینگوں پر آرائشی لائٹیں لگا کر گلیوں میں نمائش نہیں کرتا پھرتا یا تپتی دھوپ میں باہر باندھ کر پانی پلانا بھول نہیں جاتا۔ بلکہ قربانی کا جانور سیدھا کمیونٹی سنٹر کے ذبیحہ خانے میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ عید کے دن ہنزہ کے ہر گھر سے دو رضاکار (مرد عورت کی تخصیص سے بالاتر) جاتے ہیں۔ ایک صبح، ایک شام۔ صبح والے سارے سکاؤٹس مل کر جانور ذبح کرتے ہیں۔ ان کا خون پورے ہنزہ کے کھیتوں، پودوں، درختوں کو سینچنے کے کام آتا ہے۔ گوشت صاف کیا جاتا ہے اور پھر ہنزہ کے ہر گھر میں برابر بٹ جاتا ہے۔ یعنی کمیونٹی کے کل گھروں کی تعداد اگر دو سو ہے اور قربانی کے جانور ایک سو دس ہیں تو گوشت کی مساوی تقسیم کے نتیجے میں فی گھر چار سے پانچ کلو گوشت آ جاتا ہے جو اسی رات ہر گھر میں پک کر ختم۔ رضاکاروں کی دوسری ٹیم شام کو پورا میدان ایسے صاف کر دیتی ہے جیسے یہاں سویرے کچھ ہوا ہی نہیں۔ کھالیں اکٹھی کر کے الگ سے سُکھا لی جاتی ہیں۔
اس پورے عمل میں جانور خریدنے پر جو لاگت آتی ہے، بس وہی ہے۔ ڈرونز سے گلی گلی آلائشیں ڈھونڈنا نہیں پڑتیں۔ سیف سٹی کیمروں کا کام کسی جگہ کووں کے جھنڈ سے آنتوں کی موجودگی کا اندازہ لگانا نہیں رہ جاتا۔ جمعدار کی عید کی چھٹیاں نہیں مارنا پڑتیں۔ انہیں شودر بن کر اپنے دیس کے برہمنوں کا گند نہیں اٹھانا پڑتا اور نہ ہی الگ سے کوئی اربوں روپے کا کلین اپ آپریشن درکار ہوتا ہے۔ مگر اس کے لیے چاہیے ہے ”اجتماعی سماجی ذمہ داری کا شعور“ وہ کہاں سے ملے گا؟ اور کتنے کا؟

