دروازہ کھلتا ہے از ابدال بیلا


میں نے اردو کے زیادہ تر شاہکار تو پڑھے ہیں مگر سب نہیں، اس لیے مصنف اور ناشر کے اس دعوے پر کچھ نہیں کہہ سکتا کہ ”دروازہ کھلتا ہے“ اردو کا سب سے ضخیم ناول ہے۔ اس کے کل اٹھارہ سو صفحات پڑھ کر ضخامت کا، احساس تو ضرور ہوتا ہے مگر ناول کہیں بھی بوجھ نہیں بنتا۔

ابدال بیلا کی کتاب ”بندہ“ پڑھی تو اس کی اور کتابیں بھی پڑھنے کا من کیا، آپ جانتے ہیں کہ یہ دنیا تو ہے ہی من چلے کا سودا اور سواد، سنگ میل والوں سے کہا کہ یہ ناول اور کچھ اور کتابیں بھیج دیں۔ کتابیں عید سے پہلے آ گئیں، منہ میں ابھی ”زندہ رود از جاوید اقبال“ کا مزہ اتنا تازہ تھا کہ نہیں لگتا تھا کے ابھی کچھ دیر کوئی اور رنگ چڑھے گا۔ داد دینی چاہیے ناول کو کہ اس نے اتنے گہرے چڑھے ہوئے رنگ میں بھی اپنا رنگ جما لیا۔

ناول کیا ہے ایک جہانِ زندگانی ہے، زندگی بنانے والی کئی زندگیوں کی کہانی ہے۔ ہمارے ہاں کے شاہکار ناولوں کی طرح یہ ناول بھی اٹھارہ سو ستاون کی راکھ سے اٹھ کے سن سنتالیس کی شمع روشن ہونے تک چلتا ہے، بلکہ جلتا ہے۔ اجڑی ہوئی دلی سے ہوتا ہوا براستہ لدھیانہ اور امرتسر لاہور آ کر ختم ہوتا ہے۔ وہ سفر جو ہمارے بادشاہ کی معزولی سے شروع ہوا وہ ہماری آزادی اور بٹوارے پر آ کر ختم نہیں ہوا بلکہ اک نئے سفر کا آغاز بن گیا۔ نہیں معلوم ان بھٹکے ہووں کو منزل کب ملے گی۔

مصنف نے اپنے ماں اور باپ کی جڑوں کی تلاش میں، جو درحقیقت اس کی اپنی شناخت کا سفر ہے، ہمیں کئی زمانوں اور مکانوں کی سیر کروائی ہے۔ میں اس کے ساتھ کہاں کہاں نہیں گیا، میں دلی میں تھا تو دلی والوں کی بولی سنتا رہا، لدھیانہ کے نواحی گاؤں ماؤمینوال میں اور ہیڈ مان پور میں تھا تو ٹھیٹھ پنجابی کے شیرے میں لتھڑا رہا۔ میں اس کے ساتھ بلوچستان کے پہاڑوں میں تھا، میں کلکتہ اور ڈھاکہ سے ہوتا ہوا دوسری عالمی جنگ لڑنے برما پہنچا۔ راستے میں بحری جہاز کی تباہی دیکھی، پرنس، آف ویلز نامی برطانوی بحری جہاز کی جاپانی کے ہاتھوں تباہی کی خبر پڑھی۔

برسوں سے اکٹھے رہتے لوگوں کے دلوں جب میل آیا تو میں مصنف کے ساتھ تھا، پنجاب کے پانیوں میں جب بٹوارے نے زہر ملایا تو میں کہاں دور تھا۔ اتنی پریم کہانیاں سنیں، اتنے بابے دیکھے کہ دل بھرا نہیں۔ ان سب کے بیچوں بیچ مصنف کی اپنی محبوبہ سے ہونے والی گفتگو کہیں کانوں میں رس گھولتی اور کہیں بیزار کرتی رہی۔

کہانی ابھی جاری ہے مگر ناول اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ اتنا بہت سا لکھنا، اتنی کہانیوں کا بوجھ اٹھانا تو بڑے دل گردے کا کام ہے، ہم تو دوچار سطریں کیا لکھیں ہمارا تو سانس پھول جاتا ہے۔ ناول میں کہانیاں اتنی جدا ہیں کہ ہر ایک الگ پھول کی طرح پیش کی جا سکتی ہے، اور اتنی جڑی ہوئی ہیں کہ گلدستہ بن سکتا ہے۔

مجھے سب سے زیادہ تو وہ کہانی پسند آئی جس میں پالتو بندر اپنے مالک کے قاتلوں کو گرفتار کرواتا ہے۔ چنن کور، ہربنس کور اور چند کور کی کہانیاں بھی روپ نگر کا شہکار تھیں۔ مریم میم صاحبہ اور ارمیلا کسی سے تھوڑی تھیں۔

ناول مجھے برطانوی عہد کے پنجابی دیہات اور بڑے ہندی شہروں میں لیے پھرتا رہا، ناول ختم ہو گیا ہے مگر تشنگی باقی ہے۔ سوچتا ہوں اس ناول کو اردو ادب کے شاہکار ناولوں میں شامل کیا جائے گا، اس کو کوئی بین الاقوامی انعام مل پائے گا۔

Facebook Comments HS