احساسِ کمتری سے انتقام تک: نوجوانوں کی نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ کی داستان


ہمارا معاشرہ اس وقت ایک ایسے المیے کی زد میں ہے جو صرف غربت، بدامنی یا سیاسی بحرانوں تک محدود نہیں بلکہ اس کی جڑیں ہمارے معاشرتی اور نفسیاتی ڈھانچے میں پیوست ہیں۔ ہم آئے روز کسی نہ کسی دل دہلا دینے والے سانحے کا سامنا کرتے ہیں، اور ہر واقعہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم کہیں نہ کہیں اپنی نئی نسل کی ذہنی و جذباتی تربیت میں ناکام ہو چکے ہیں۔ حالیہ واقعہ، جس میں ثنا یوسف نامی ایک نوجوان سوشل میڈیا شخصیت کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا، اسی ذہنی و نفسیاتی بحران کی ایک خوفناک جھلک ہے۔ یہ سانحہ محض ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے نوجوانوں کی ذہنی حالت کا آئینہ ہے، جو ہمیں بار بار یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو کہاں لے جا رہے ہیں۔

یہی پس منظر فلم ایڈولیسینس میں بھی نہایت شدت اور گہرائی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس فلم میں ایک نوجوان کی زندگی کے وہ گوشے دکھائے گئے ہیں جو بظاہر ہماری نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں، لیکن درحقیقت یہی گوشے اس کی شخصیت کی بنیاد بناتے ہیں۔ فلم کا مرکزی کردار ایک ایسا نوجوان ہے جو محبت، قبولیت اور سکون کی تلاش میں دربدر بھٹکتا ہے۔ وہ اسکول میں روز یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے دوست اور ہم جماعت لڑکیاں اسے بالکل پسند نہیں کرتیں۔ وہ اپنے ہی ذہن میں یہ تاثر بنا لیتا ہے کہ وہ ہینڈسم نہیں بلکہ بدصورت انسان ہے۔ یہی احساسِ کمتری اس کے دل و دماغ پر چھا جاتا ہے، اور اس کی منفی سوچیں پروان چڑھتی ہیں۔ والدین، خاص طور پر باپ، کی محبت، توجہ اور موثر کمیونیکیشن کا فقدان اس کے اندر کی خالی جگہ کو اور گہرا کر دیتا ہے۔ وہ گھر میں اپنے دل کی بات کہنے کے بجائے اپنے درد کو چھپاتا رہتا ہے اور اس کی تنہائی اسے اندر ہی اندر کھوکھلا کرتی رہتی ہے۔

اگر ہم ثنا یوسف کے قتل کے محرکات کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ یہ محض ایک لڑکے کی ناسمجھی یا وقتی اشتعال کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک طویل نفسیاتی اور جذباتی عمل کا شاخسانہ تھا۔ قاتل کا ذہن برسوں کی محرومیوں، محبت میں ناکامیوں اور بار بار سماجی ریجیکشن کے زخموں سے لہولہان تھا۔ اس کا احساسِ کمتری اس کی خود اعتمادی کو چاٹ چکا تھا، اور وہ بچپن سے خود کو کمتر اور بدصورت سمجھنے کے زخموں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس کی انا بار بار کی شکست سے اس قدر مجروح ہو چکی تھی کہ اس نے اپنی محرومیوں اور ناکامیوں کا بدلہ ایک معصوم جان سے لینے کی ٹھان لی۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ جب نوجوان کی جذباتی تربیت نہ ہو، جب والدین خاص طور پر باپ اپنے بیٹے کے دل کی آواز نہ سن سکے، جب اسکول اور معاشرہ صرف کامیاب اور مقبول بچوں کو ہی اہمیت دے، تو پھر نوجوان انتقام کی راہ پر چل نکلتا ہے۔

یہ سوال ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے کہ کیا محبت میں ناکامی یا کسی رشتے میں ریجیکشن کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی انسانیت کھو بیٹھے؟ کیا اب ہمارے نوجوانوں کی برداشت کا دامن اتنا تنگ ہو چکا ہے کہ وہ ذرا سی ٹھوکر کھا کر دوسروں کی زندگیوں کا چراغ گل کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں؟ فلم ایڈولیسینس ہمیں یہی سوالات سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس فلم میں نہایت درد مندی کے ساتھ دکھایا گیا ہے کہ جب نوجوان کو گھر میں محبت نہ ملے، جب والدین (خاص طور پر باپ) کے ساتھ دل کی بات کہنے کا موقع نہ ملے، جب وہ اپنی ظاہری شکل و صورت اور شخصیت پر شرمندگی محسوس کرے، اور جب سماج اسے بار بار مسترد کرتا رہے، تو وہ اندر ہی اندر ٹوٹنے لگتا ہے۔ اس کی انا اسے قیدی بنا لیتی ہے اور وہ نفسیاتی طور پر اس مقام تک پہنچ جاتا ہے جہاں یا تو وہ خود کو برباد کرتا ہے یا کسی اور کو۔

ثنا یوسف کا واقعہ محض ایک فرد کا المیہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذہنی صحت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ آج کا نوجوان سوشل میڈیا پر مقبولیت، محبت اور پذیرائی کی تلاش میں اپنی خوشیاں گنوا چکا ہے۔ وہ اپنے جذبات اور احساسات کا پیمانہ فالوورز، لائکس اور تبصروں میں تلاش کرتا ہے۔ وہ پہلے ہی خود کو ظاہری طور پر کمتر سمجھتا ہے، اور جب سوشل میڈیا پر بھی اسے وہ محبت اور قبولیت نہ ملے، تو اس کا دل مزید شکستہ ہو جاتا ہے۔ محبت اب خلوص کا نام نہیں رہی بلکہ ایک مقابلہ بن چکی ہے۔ جب اس مقابلے میں شکست ہوتی ہے، جب ریجیکشن کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو اس کا ردِعمل اس قدر شدید ہوتا ہے کہ نوجوان نہ اپنی عزت کا خیال رکھتا ہے اور نہ دوسروں کی حرمت کا۔

یہ صورت حال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم اپنی گھریلو تربیت، تعلیمی نظام اور سماجی ڈھانچے پر نظرِثانی کریں۔ ہم اپنے بچوں کو ڈگریوں کی دوڑ میں تو لگا دیتے ہیں مگر انہیں یہ نہیں سکھاتے کہ ناکامی کا سامنا کیسے کرنا ہے، محبت کے نام پر پیش آنے والی ناکامیوں کو برداشت کیسے کرنا ہے، اور زندگی کے نشیب و فراز میں خود کو سنبھالنے کا طریقہ کیا ہے۔ ہم انہیں یہ شعور دینے میں ناکام رہے ہیں کہ محبت میں ناکامی یا کسی کی جانب سے مسترد کیے جانے کا مطلب زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک نئے سفر کی شروعات ہے۔ ہمیں والدین بالخصوص باپ کے کردار کو مضبوط بنانا ہو گا کہ وہ اپنی اولاد کے دوست بنیں، ان کی ظاہری اور باطنی خوبیوں کو سراہیں، اور ان کی انا کو ٹوٹنے سے بچائیں۔

فلم ایڈولیسینس کا بنیادی پیغام بھی یہی ہے کہ اگر نوجوانوں کے جذبات کو وقت پر سنبھال نہ لیا جائے تو وہ خود کو یا دوسروں کو برباد کر بیٹھتے ہیں۔ ان کے دل میں پلنے والے زخم ایک دن لاوے کی صورت پھٹ پڑتے ہیں۔ ثنا یوسف کے قاتل کے دل میں بھی یہی لاوا پک رہا تھا، جو ایک دن اس قدر شدت سے پھٹا کہ ایک معصوم جان ضائع ہو گئی اور ایک اور نوجوان خود بھی اپنی زندگی کے سنہرے خوابوں کو مٹی میں ملا بیٹھا۔

ہمیں اب یہ سوچنا ہو گا کہ ہم اپنے نوجوانوں کو کہاں لے جا رہے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے دوست بنیں، ان کے دل کی بات سنیں، ان کے دکھ درد کو سمجھیں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ چاہے زندگی میں کتنی ہی ناکامیاں ہوں، وہ ان کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ نصاب میں ذہنی صحت اور جذباتی تربیت کو شامل کریں، تاکہ نوجوان جذباتی بلوغت حاصل کر سکیں اور زندگی کی حقیقتوں کا شعور پا سکیں۔ انہیں یہ سکھایا جائے کہ اصل محبت اپنے آپ سے محبت ہے، اصل کامیابی اپنی ذات کو بہتر بنانا ہے، اور اصل خوشی دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں ہے۔

سوشل میڈیا کو بھی اس جدوجہد کا حصہ بننا ہو گا۔ وہ پلیٹ فارم جہاں نوجوان اپنا زیادہ وقت گزارتے ہیں، وہیں سے اگر انہیں مثبت پیغامات ملیں، برداشت، محبت، صبر اور خود اعتمادی کا درس ملے تو ان کی سوچ اور عمل کی سمت بہتر ہو سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم محبت، ناکامی، کامیابی اور ریجیکشن جیسے موضوعات پر کھل کر مکالمہ کریں، نوجوانوں کو اپنی بات کہنے کا موقع دیں، ان کی سنیں اور ان کے مسائل کو سمجھیں تاکہ کوئی اور ثنا یوسف کسی نفسیاتی طور پر بیمار فرد کے ہاتھوں اپنی جان نہ گنوائے اور کوئی اور نوجوان اپنی محرومیوں کا بدلہ کسی معصوم جان سے نہ لے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ایڈولیسینس صرف ایک فلم نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے جو ہمیں اپنے معاشرے کی تلخ حقیقتیں دکھا رہا ہے۔ ثنا یوسف کا واقعہ اس آئینے کی وہ کرچی ہے جو ہمارے دل پر چبھتی ہے اور ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کے زخموں پر مرہم رکھیں، انہیں سنبھالیں اور انہیں محبت اور زندگی کی تعمیر کا درس دیں۔ اگر ہم نے یہ نہ کیا تو ہمیں آنے والے دنوں میں مزید دلخراش سانحات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Facebook Comments HS