تہذیبوں کا تصادم ایران اور چین
تہذیبوں کا تصادم ایک امریکن پولیٹیکل سائنٹسٹ سیموئل فلپ ہنگٹن کی تھیوری ہے جو اس نے 1993 میں پیش کی وہ کہتا ہے کہ افراد کے مابین تفریق کی بڑی وجہ نظریات سیاست و معیشت ہے وہ کہتا ہے دنیا میں اگلا بڑا تصادم تہذیبوں کے ٹکراوٴ کی وجہ ہو گا اس کے خیال کے مطابق روس کے ٹوٹنے کے بعد کمیونزم کی کہانی ختم ہو گئی نظریات کا دور ختم ہوا اب آنے والے وقت میں مختلف تہذیبوں کا ٹکراوٴ ہو گا وہ پوری دنیا کو آٹھ مختلف تہذیبوں میں تقسیم کرتا ہے جس میں وہ چین ویت نام اور کوریا کو ایک تہذیب مانتا ہے اسے وہ ”سائنک“ تہذیب کا نام دیتا ہے جبکہ دوسری تہذیب کو وہ اسلامک تہذیب کہتا ہے اپنی تھیوری کا آغاز وہ پندرہویں صدی سے کرتا ہے جب یورپ اپنے صنعتی انقلاب کی وجہ سے اپنی تہذیب کو برتر ثابت کر کے اپنا ریاستی دائرہ کار پھیلا رہا تھا وہ کہتا ہے کہ مختلف تدریجی تاریخی ارتقائی عمل سے گزرنے کے بعد مغربی تہذیب پوری دنیا پر مسلط ہو چکی تھی رد عمل کے طور پر دیگر تہذیبوں کے اندر بھی بیداری کی لہر پھوٹ رہی تھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دیگر تہذیبیں اب اپنا اپنا مقام بنا چکی ہیں مغربی تہذیب نے دنیا پر لمبا عرصہ قبضہ کیے رکھا ہے لیکن اب مغربی تہذیب دنیا پر اپنا کنٹرول کھو رہی ہے لوگ مذہب کی طرف رجوع کر رہے ہیں اور اسلام انہیں سست روی کے ساتھ ایک فکر کے تحت متحد کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے
اس کے خیال کے مطابق آنے والا دور اسلامک اور سائنک (چینی ) تہذیب کا گٹھ جوڑ ہو گا وہ کہتا ہے کہ اسلام اور مغرب میں تضاد بڑھیں گے اسے وہ ”سمال فالٹ لائن وار“ کا نام دیتا ہے اور اس کے ساتھ امریکہ اور چائنا کے درمیان تصادم کو وہ ”انٹر سویلائزیشن وار آف کور سٹیٹ“ کا نام دیتا ہے اور ساتھ وہ یہ بھی کہتا نظر آتا ہے کہ اسلامک اور سائنک تہذیب مل کر مغربی تہذیب کے خلاف ایک مضبوط اتحاد بناٰئیں گی وہ مزید کہتا ہے کہ مغربی تہذیب مختلف اندرونی اور بیرونی خطرات کی وجہ سے سے رو بہ زوال ہے یہ سب کچھ دنیا کے امن کے لئے بہت بڑا خطرہ ہو گا اس لئے مغرب کو اسے روکنا ہو گا اس کے لئے ہر حربہ استعمال کیا جا سکتا ہے
یہ تو تہذیبوں کے ٹکراوٴ کا ایک مختصر تعارف تھا اب ہم چلتے ہیں کہ تہذیبوں کے اس تصادم کے برعکس کون سی تھیوری پیش کی گئی شاید یہ کچھ قارئین کے لئے نئی بات ہو کہ تہذیبوں کے تصادم کے بجائے تہذیبوں کے درمیان ”بات چیت کا نظریہ“ پیش کیا گیا۔
دنیا میں بہت سے لوگوں نے تہذیبوں کے تصادم کے مقابل مختلف نظریات پیش کیے ان میں ایران کے سابق اصلاح پسند صدر محمد خامنائی کا نظریہ ہے جس میں اس نے ”تہذیبوں کے مابین بات چیت“ کی بات کی ہے اور کہا آئیں تہذیبوں کے درمیان تصادم کی بجائے بات چیت کو فروغ دیں۔
اس کے بعد چینی صدر زی چن پنگ نے اس نظریہ کی آبیاری کی یونیسکو کے تحت مارچ 2014 میں ہونے والی کانفرنس میں وہ کہتے ہیں تمام تہذیبیں برابر ہیں اور یہی مساوات ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے اور قریب لانے کا باعث ہو گی وہ کہتا ہے کہ تہذیبوں میں تصادم کی ضرورت نہیں ہے ہمیں آنکھیں چاہئیں تاکہ ہم ایک دوسرے کی خوبصورتی دیکھ سکیں اگر ہم نے اپنے دروازے ایک دوسرے پر بند کر دیے تو پھر ہم تہذیبوں کی خوبصورتی سے محروم رہ جائیں گے۔
مغربی تہذیب جس کا حصہ امریکہ بھی ہے ڈائیلاگ کرنا چاہ رہی ہے لیکن اس ڈائیلاگ میں وہ خود کو اعلیٰ اور دیگر تہذیبوں کو گھٹیا سمجھ کر بات بڑھانا چاہ رہی ہے ہر تہذیب اپنا تاریخی اور تمدنی ورثہ رکھتی ہے اور یہ بہت ہی خوبصورت ہے اس لئے اب اگر بات چیت ہو گی تو برابری کی سطح پر ہو گی۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ چینی صدر نے حالیہ بیان میں کس پیارے خوبصورت اور نرم انداز میں امریکہ کو اس کی اوقات یاد دلائی ہے تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ بڑی سے بڑی ریاست بڑی سے بڑی تہذیب جو اپنے دور میں کمال عروج پر تھی اب ان کی داستان ہم قصے کہانیوں میں سنتے ہیں امریکہ اب بھی سفر میں ہے لیکن اب اس کا یہ سفر چوٹی سے اترائی کی طرف ہے اور اترائی کا سفر زوال کا ہوتا ہے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ امریکہ ختم ہو جائے گا ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کی مداخلت بیرونی دنیا میں ختم ہو جائے گی۔
چین اور ایران کے معاشی مفادات مشترک ہو چکے ہیں۔ چین ایران کا کاروباری شراکت دار بن چکا ہے اب شاید چین اپنے مفادات ترک نہی کرے گا اگر ایران پر مسلط جنگ ختم نہی ہو گی تو ایران کا نقصان ہونا ہی ہے لیکن امریکہ کا رعب اور دبدبہ بھی ختم ہو جائے گا۔

