خربوزہ


Dr Shahid M shahid
خربوزہ کا نباتاتی نام (Cucumis Melo) ہے۔ خربوزہ موسم گرما کا پھل ہے جس کی خاص مہک اور ذائقہ ہے۔ پانی سے بھرپور ہے۔ اس پھل کو استعمال کرنے سے طبیعت ہشاش بشاش رہتی ہے۔ زیادہ تر خربوزے میٹھے، خوشبودار، خوش ذائقہ اور لذیذ ہوتے ہیں۔ البتہ کچھ اقسام کڑوی بھی ہیں۔ اس پھل کو بطور سلاد، آئس کریم اور جوس اور مشروبات کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی جلد موٹی اور سخت ہوتی ہے۔ اس کا چھلکا کھانے سے پہلے اتار دیا جاتا ہے۔ اس میں بیج کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ بیج کی تعداد کچھ خربوزوں میں کم اور بعض میں زیادہ ہوتی ہے۔ بیج کا تعین نسل اور قسموں پر منحصر ہے۔ یہ موسم گرم کا پھل ہے جو گرمی کی شدت سے بچاتا ہے۔ پانی کی کمی پوری کرتا ہے۔ غذائیت سے بھرپور ہے۔ یہ وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹ کا موثر ذریعہ ہے۔ یہ جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ نظام ہاضمہ، جلد، بالوں کی صحت اور ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول رکھنے میں موثر ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق خربوزے کی کاشت قریباً چار ہزار سال سے کی جا رہی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ خربوزہ کی ابتداء افریقہ سے ہوئی۔ تاہم حالیہ مطالعہ سے پتہ چلا ہے کہ یہ جنوب مغربی ایشیائی پھل ہے۔ وہاں سے یہ آہستہ آہستہ براعظم یورپ میں منتقل ہو گیا۔ تاریخ کے مطابق 1350 اور 1120 قبل از مسیح کے درمیان نور گگ مقدس کنویں میں خربوزے کے بیج کے ثبوت ملے تھے۔ بعد ازاں نور گگ اسے یورپ میں لایا تھا۔ خربوزہ پرانی دنیا میں پائے جانے والے ابتدائی پودوں میں سے تھا۔ مغربی لوگوں کی طرف سے نئی دنیا میں لائی جانے والی فصل کی انواع میں اس کی پہلی قسم شامل تھی۔ قریبا 1600 کی دہائی میں یہ یورپی آبادیوں میں بکثرت پیدا ہونے لگا تھا۔ میکسیکو میں بہت سے امریکی قبائل بشمول رکوما،

کوجیٹی، اسلیٹا، ناورجو، سانڈ، ڈومنگو، سون فلیپ خربوزے کی فصل اگانے کی روایت برقرار رکھتے ہیں۔ خربوزہ وسطی ایشیا کا پودا ہے۔ یہ گرم مرطوب علاقوں میں وسیع پیمانے پر پیدا ہوتا ہے۔ تجارتی لحاظ سے خربوزہ اہم پھل ہے۔ تازہ کھایا جاتا ہے۔ یہ مختلف اقسام، سائز، شکل اور رنگت کے ہوتے ہیں۔ ان کا وزن ایک سے چار کلو گرام یا دو سے نو پاؤنڈ تک ہوتا ہے۔

اقسام : ( Types)

خربوزہ کی 40 اقسام ہیں جو سب کھانے کے قابل ہیں۔ ذیل میں چند اقسام کے نام اور خصوصیت درج ذیل ہے۔
ہنی ڈیو ملین : ( Honeyde Melon)

یہ قسم ذائقے کے اعتبار سے ہلکی میٹھی ہوتی ہے۔ جون سے اکتوبر تک مل سکتی ہے۔ اس کا چھلکا کریمی پیلے رنگ کا ہوتا ہے۔ جلد نرم و ملائم اور آسانی سے اتر جاتی ہے۔ اس کی خاص مہک ہوتی ہے جو دل کو بھاتی ہے۔

کاسبا میلن : ( Casaba Melon)

یہ قسم قدرے میٹھی اور خوشبودار ہے۔ کا سبا کا اصل نام قصابہ ہے جو ترکی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اس قسم کو بطور پھل، جوس، شربت اور ناشتے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پرسین میلن : ( Persia Melon )

یہ کستوری خربوزے کے خاندان کی قسم ہے۔ اس کی جلد پیلے رنگ کی پٹی نما ہوتی ہے۔ گودا نارنجی ہوتا ہے۔ یہ قسم لمبی اور ہموار ہوتی ہے۔ اس کا بڑا سائز اسے ذائقے میں ہلکا بناتا ہے۔

گالیا میلن : ( Galia Melon)

یہ قسم ذائقے میں میٹھی اور رس دار ہوتی ہے۔ اسے 1970 کی دہائی میں اسرائیل میں کاشت کیا گیا۔ اس کی جلد جالی دار ہوتی ہے۔ اسے و نیلا آئس کریم میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے کھانے سے تر و تازگی کا احساس حاصل ہوتا ہے۔ یہ قسم بطور سلاد اور پھل دونوں طرح زیر استعمال لائی جا سکتی ہے۔

کنیری میلن : ( Canary Melon)

یہ قسم بھی اپنے ذائقے میں میٹھی اور رس دار ہوتی ہے۔ جلد پیلی ہوتی ہے۔ اس قسم کا ذائقہ شہد کی طرح ہوتا ہے۔ شکل ناشپاتی سے ملتی جلتی ہے۔ اسے ایشیا اور جنوبی امریکہ میں کاشت کیا جاتا ہے۔ اس قسم کو بھی بطور سلاد پھل اور کچا کھایا جا سکتا ہے۔ یہ دیکھنے میں تازہ لیموں کی طرح خوشنما دکھائی دیتا ہے۔

کرین شاہ میلن: ( Craneshaw Melon)

یہ بھی ذائقے دار اور میٹھی قسم ہے۔ یہ دیکھنے میں خوش نما، ساخت میں نرم اور گودے کے اعتبار سے رس دار ہے۔ اس قسم کو بھی بطور پھل اور سلاد استعمال کیا جاتا ہے۔

سانتا کلاز میلن: ( Santaclouse Melon)

یہ قسم بھی اپنے ذائقے میں ہلکی میٹھی ہے۔ اس کا آبائی وطن اسپین ہے۔ اس قسم کو پیل ڈی ساپو بھی کہا جاتا ہے۔ یہ شہد کی طرح میٹھی ہوتی ہے۔ جلد گہری سبز اور اس پر سبز داریاں ہوتی ہیں۔ یہ قسم سردیوں کے آخر میں پک کر تیار ہوتی ہے۔

انناس میلن: ( Ananad Melon)

یہ قسم بھی ذائقے میں میٹھی اور شاندار ہے۔ یہ موروثی خربوزہ قریباً 1800 دہائی کا ہے۔ یہ قسم قدیم فرانسیسی ہے۔ چونکہ یہ بناوٹ کے لحاظ سے سے انناس ملتی جلتی ہے۔ لہذا اس کا نام انناس رکھا گیا ہے۔ یہ رس دار اور گودے سے بھرا ہوتا ہے۔ یہ گودا اندر سے سفید اور پیلا نظر آتا ہے۔ اس کی جلد بھی جالی دار ہوتی ہے۔ جلد پیلی ہونے کے ساتھ ساتھ خوش نما بھی ہوتی ہے۔ اس قسم کو بطور سلاد اور پھل دونوں طرح سے کھایا جا سکتا ہے۔

امبروسیا میلن : ( Ambrosia Melon)

یہ قسم بھی رس دار اور میٹھی ہوتی ہے۔ یہ بہت زیادہ میٹھا ہوتا ہے۔ اس کی جلد پر سفید داریاں ہوتی ہیں۔ اس میں بیچ کم ہوتے ہیں۔ اسے نمکین پنیر، گوشت اور سلاد کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس قسم کو چٹنی، سوپ اور مشروبات کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ہنی گلوب میلن : ( Honey Globe Melon)

یہ قسم بھی میٹھی رس دار اور ذائقہ سے بھرپور ہے۔ یہ قسم سب سے میٹھے خربوزوں کی نسل سے ہے۔ اس کا گودا گھنا، سفید اور سبز دھاری پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کی شکل گلوب سے ملتی جلتی ہے۔ اس کی خاص مہک ہے۔

مجموعی پیداوار : ( Total Gross)

فوسٹ (FOAST) کے مطابق خربوزے کی مجموعی پیداوار 27 ملین ٹن ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین کے پاس پیداوار کا کل حصہ 46 فیصد ہے۔ جبکہ ترکی ایران اور ہندوستان جیسے ممالک میں خربوزے کی سالانہ پیداوار 10 لاکھ ٹن سے زیادہ ہے۔ خربوزے کی پیداوار میں سرفہرست ممالک مندرجہ ذیل ہیں۔

چین۔ 13.83
ترکی۔ 1.72
ہندوستان۔ 1.33
ایران۔ 1.28
افغانستان۔ 0.79
ریاست ہائے متحدہ۔ 0.69
گوئٹے مالا۔ 0.65
برازیل۔ 0.61

غذائی حقائق : ( Nutrition Facts)

یو ایس ڈی اے ( USDA) یونائٹڈ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آف ایگریکلچر کے مطابق خربوزے کے غذائی حقائق مندرجہ ذیل ہیں۔

کیلوریز۔ 36
فیٹ۔ 0.1 گرام
کاربوہائیڈریٹ۔ 9.1 گرام
فائبر۔ 0.8 گرام
شوگر۔ 8.1 گرام
پروٹین۔ 0.5 گرام
پوٹاشیم۔ 228 ملی گرام
سوڈیم۔ 18 ملی گرام
وٹامن سی۔ 18 ملی گرام
پانی۔ 95 %
وٹامن اے۔ 52.08 %
وٹامن بی نائن۔ 29.45 %

دفاعی مرکبات : ( Phytochemical Compound )

خربوزے میں دفاعی مرکبات پائے جاتے ہیں۔ چند کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔

* phenolic Acids
* Flavonoids
* Carotenoids
* Tannins
* Polyphenols
* Ortho- diphenols

طبی فوائد : ( Medical Benefits)

خربوزے کے چند طبی فوائد مندرجہ ذیل ہیں۔

ہائی بلڈ پریشر : ( Hypertension)

خربوزہ کو بھی تربوز کی طرح مختلف بیماریوں میں مفید سمجھا جاتا ہے۔ اس میں موجود وٹامنز اور معدنیات امراض قلب اور بلڈ پریشر جیسے عارضہ سے محفوظ رکھتے ہیں۔

ایسی غذا جس میں سوڈیم کم اور پوٹاشیم زیادہ مقدار میں ہو۔ ہائی بلڈ پریشر مریضوں کے لیے رحمت ایزدی ہے۔ خربوزہ ایسی غذا کا بہترین متبادل ہے جو ہائی بلڈ پریشر کو اعتدال میں رکھتا ہے۔ اگر آپ پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں کھاتے ہیں تو ان میں ایک بہترین پھل خربوزہ ہے جس کے باقاعدہ استعمال سے جسم کو پوٹاشیم کی مطلوبہ مقدار کا 12 فیصد حصہ مل جاتا ہے۔

چہرے کی تر و تازگی : (Facial freshness)

موسم گرما میں اکثر دھوپ تیز پڑتی ہے۔ گرم ہوائیں چلتی ہیں۔ گرمی کے باعث جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے۔ چہرے کی رونق پھیکی پڑ جاتی ہے۔ حسن و جمال میں کمی آ جاتی ہے۔ کسی حد تک رنگت میں تبدیلی بھی آ جاتی ہے۔ ایسے موسم میں چہرے کی رعنائی برقرار رکھنے کے لیے خربوزہ بہترین پھل ہے۔ اس میں موجود پانی کی زیادہ مقدار کے باعث چہرے پر رونق آنا شروع ہو جاتی ہے۔ علاوہ ازیں اس میں موجود پروٹین جلد کی خوبصورتی میں خاطرخواہ اضافہ کرتی ہے۔ چھلکوں کے مساج سے چہرے میں خوبصورتی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اس کے گودے کو بھی چہرے پر لگانے سے نکھار پیدا کیا جا سکتا ہے۔

ہڈیوں کی مضبوطی : ( Bone strength)

جسم میں فولییٹ اور مگنیشیم کے باعث ہڈیاں بھربھرے پن کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ہڈیوں کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ آسٹیو پروسیس جیسے عوارض پیدا ہو جاتے ہیں۔ لہذا ہڈیوں کو صحت مند رکھنے کے لیے خربوزہ ایک بہترین غذا ہے۔ اس کے استعمال سے ہڈیوں کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ اس میں موجود فولییٹ، وٹامن کے اور مگنیشیم جیسے مفید اجزاء پائے جاتے ہیں جو نہ صرف ہڈیوں کو بہتر بلکہ مضبوط بھی بناتے ہیں۔

کینسر سے بچاؤ : ( Cancer prevention)

خربوزے میں کیروٹنائڈ نامی ایک اہم جز پایا جاتا ہے جو کینسر سے بچانے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر خربوزے کو باقاعدگی کے ساتھ اپنی غذا میں شامل کیا جائے تو پھیپھڑوں کے کینسر میں واضح طور پر کمی آ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ خربوزہ پراسٹیٹ کینسر، آنتوں کے کینسر اور لبلبہ کے کینسر سے بھی تحفظ دیتا ہے۔ یہ جز جراثیم کش بھی ہے جو جراثیموں کے خاتمے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ انسان پر اکثر جراثیم بڑھاپے میں زیادہ حملہ آور ہوتے ہیں۔ لہذا ان جراثیم سے لڑنے کے لیے خربوزہ ایک بہترین غذا اور دوا کے طور پر مفید ہے۔

تیزابیت کی شکایت : (Complaint of irritation)

جو لوگ روز مرہ زندگی میں بہت سے مصالحہ جات، تمباکو نوشی اور الکوحل پینے کے عادی ہیں۔ وہ اکثر معدہ کی تیزابیت اور سینے کی جلن کا شکار رہتے ہیں۔ اکثر مریضوں کو کھانے کے بعد پیٹ درد، گیس کی زیادتی، ڈھول کی طرح پیٹ کا پھول جانا، گندے اور کھٹے ڈکار آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ان تمام وجوہ کے بنیادی اسباب تیزابیت ہے جو روز بروز مریض کی علامات میں اضافہ کرتی ہے۔ چونکہ خربوزے میں 95 فیصد پانی پایا جاتا ہے۔ لہذا یہ پانی تیزابیت اور سینے کی جلن دونوں کو کم کرتا ہے۔ خربوزے کے باقاعدہ استعمال سے کھائی جانے والی غذا آسانی سے ہضم ہو جاتی ہے۔ انسان قبض کا شکار نہیں ہوتا کیونکہ قبض بہت سی بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔

بلڈ شوگر کنٹرول : ( Blood sugar control)

طبی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر پھلوں کو روز مرہ زندگی کا باقاعدہ حصہ بنا لیا جائے تو بلڈ شوگر کی سطح میں کافی حد تک بہتری آ جاتی ہے۔ تاہم خربوزے میں کاربوہائیڈریٹ بھی پائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے عارضی طور پر بلڈ شوگر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اس میں موجود فائبر اور دیگر غذائی اجزاء بلڈ شوگر کو کنٹرول رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

گردوں میں پتھری سے تحفظ : ( Protection against kidney stones)

غیر متوازن غذا کے باعث بہت سے لوگ گردوں کے امراض کا شکار ہوتے ہیں۔ جو لوگ پانی کم پیتے ہیں اکثر ان کے گردوں میں پتھری بننے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ چونکہ خربوزے میں پانی کی مقدار کافی زیادہ پائی جاتی ہے جو پتھری بننے کے عمل کو روک دیتا ہے۔

قلبی امراض سے چھٹکارا : (Get rid of heart disease)

بعض اوقات خون کے سیلز جمنے کی وجہ سے دل کے دائمی اور پیچیدہ مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ خربوزے میں اڈینو سین نامی ایک جز پایا جاتا ہے جو خون کو جمنے سے روکتا ہے۔ اس جز کی بدولت خون نالیوں میں رواں دواں رہتا ہے۔ اگر خون کی روانی متاثر نہ ہو تو بلڈ پریشر جیسے عارضے سے لڑا جا سکتا ہے۔ ہارٹ اٹیک سے بچا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں خربوزے کا استعمال دل کے امراض سے تحفظ دیتا ہے۔

قوت مدافعت بڑھانے کے لیے : (To boost immunity)

وٹامن سی کو مدافعتی نظام کی مضبوطی کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ خربوزے میں وٹامن سی کافی مقدار میں پایا جاتا ہے جو انفیکشنز اور دیگر بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ طبی تحقیق سے اس بات کا پتہ چلا ہے کہ وٹامن سی کی وجہ سے سانس کی نالی کے انفیکشن کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

فوری توانائی کا متبادل : (Instant energy alternative)

خربوزے میں وٹامن سی کے علاوہ کئی اہم منرلز اور معدنیات پائی جاتی ہیں جو جسم کو فوری طور پر توانائی فراہم کرتی ہیں۔ مثلاً تھکاوٹ سے بچاتی ہیں۔ کھوئی ہوئی توانائی فوری طور پر بحال ہو جاتی ہے۔ سستی بھاگ جاتی ہے۔ جسم و ذہن حالت صحت میں آ جاتے ہیں۔ لہذا گرمیوں کے شروع ہوتے ہی ہر انسان کو خربوزے کا استعمال شروع کر دینا چاہیے۔

وزن میں بتدریج کمی : (Gradual weight loss)

خربوزہ کم کیلوریز اور زیادہ فائبر والا پھل ہے۔ اس کے باقاعدہ استعمال سے وزن میں بتدریج کمی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ لہذا گرمیوں کے موسم میں خربوزے کا استعمال وزن میں کمی کا باعث بنتا ہے۔

بینائی میں بہتری : (Improvement in vision)

چونکہ خربوزہ وٹامن اے کا اچھا ذریعہ ہے جو بینائی کو بہتر بنانے میں مددگار ہے۔ اس میں بیٹا کیروٹین جیسے اہم اجزا پائے جاتے ہیں جو دھند، موتیا اور آنکھوں کے کئی پیچیدہ امراض سے بچاتے ہیں۔

تناؤ میں کمی : (Stress reduction)

خربوزہ کھانے سے دماغ کی طرف آکسیجن کا دباؤ بڑھتا ہے جس سے دماغی تناؤ میں کافی حد تک کمی آ جاتی ہے۔ طبیعت ہشاش بشاش ہو جاتی ہے۔ مریض پرسکون ہو جاتا ہے۔ اسے چڑچڑے پن سے نجات مل جاتی ہے۔ مزاج میں تبدیلی آ جاتی ہے۔

احتیاطی تدابیر : ( Precautions)

طبی ماہرین کے مطابق خربوزہ اگرچہ صحت کے لیے بہت مفید پھل ہے تاہم اسے استعمال کرتے وقت چند احتیاطی تدابیر کو سامنے ضرور رکھنا چاہیے۔

* کچا خربوزہ کھانے سے ہاضمہ کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ پیٹ میں گیس تناؤ اور درد کی شکایت پیدا ہو سکتی ہے۔

* خربوزے کو شوگر کے مریضوں کو اعتدال کے ساتھ کھانا چاہیے۔
* دو سال سے کم عمر کے بچوں کو زیادہ خربوزہ کھلانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
* جن لوگوں کو خربوزہ کھانے سے الرجی ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اسے کھانے سے پرہیز کریں۔
* خربوزہ زیادہ مقدار میں کھانے سے اسہال یا پیٹ درد ہو سکتا ہے۔
اسے کھانے سے پہلے مکمل طور پر پانی سے دھو لیں تاکہ مٹی اور بیکٹیریا اتر جائیں۔

* ثابت خربوزے کو فریج میں 15 دن تک اسٹور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن کٹے خربوزے کو تین سے چار دن میں استعمال کر لیں ورنہ بیکٹیریا کے نشو و نما شروع ہو جاتی ہے۔

Facebook Comments HS