ٹیکنالوجی کی جنگ
مشرقِ وسطیٰ کی فضا ایک بار پھر دھواں دھواں ہے۔ ایران اور اسرائیل کے مابین حالیہ جنگ نے دنیا کو نہ صرف خطرناک محاذ آرائیوں کی جھلک دکھائی ہے بلکہ ایک نئے دور کی عسکری حکمتِ عملی کو بھی واضح کیا ہے۔ ایک ایسا دور جہاں بندوق سے زیادہ برتری کا انحصار بٹن پر ہو گا اور سپاہیوں سے بڑھ کر ڈرونز، سیٹلائٹس اور سائبر ہتھیار لڑیں گے۔
اسرائیل نے 2025 کی اس حالیہ جنگ میں جو حکمتِ عملی اپنائی وہ ایک طرح سے مستقبل کی جنگوں کا پائلٹ ماڈل تھی۔ خفیہ سیٹلائٹ تصاویر، مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیاتی سسٹمز اور ہائپرسونک میزائلوں کی مدد سے اسرائیل نے ایران کے حساس عسکری اور ایٹمی مراکز کو نشانے پر لیا اور وہ بھی سو فیصد درستگی کے ساتھ۔ تہران، نطنز، اصفہان اور قم جیسے شہروں میں ایران کے دفاعی نظام کو خاموش کر کے رکھا گیا۔ ایران نے بھی بھرپور جواب دیا۔ اس نے اپنے جدید ترین ڈرونز، میزائل اور سائبر حملوں کے ذریعے اسرائیلی دفاع کو چیلنج کیا مگر دونوں طرف ٹیکنالوجی کی دوڑ ہی اصل میدانِ جنگ بنی رہی۔ یہ ٹکراؤ صرف ہتھیاروں کا نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، معلومات اور رفتار کا تھا۔
آج کے دور میں وہی ملک جنگ میں کامیاب ہو سکتا ہے جس کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی ہو۔
1۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیاتی نظام ہو۔
2۔ ریئل ٹائم سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور جاسوسی کی صلاحیت ہو۔
3۔ سائبر ڈیفنس اور سائبر حملے پکڑنے کی استعداد ہو۔
4۔ ڈرونز اور بغیر پائلٹ طیاروں کی فوج ہو۔
5۔ سپرسونک میزائل موجود ہوں۔
حالیہ جنگ میں یہی دیکھنے میں آیا کہ اسرائیل نے ایران کی ریڈار تنصیبات، زیرِ زمین میزائل بیسز اور فوجی رابطہ نظام کو نشانہ بنایا اور وہ بھی اتنی خاموشی اور درستگی کے ساتھ کہ روایتی دفاعی نظاموں کو متحرک ہونے کا موقع ہی نہ ملا۔ یہ سب ممکن ہوا ”ریموٹ وارفیئر ٹیکنالوجی“ کی بدولت۔
یہ جنگ ایک کڑا پیغام بھی ہے ان ممالک کے لئے جو اب بھی پرانی روایتی دفاعی سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، ان کے لیے یہ ایک وارننگ ہے کہ مستقبل کی جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ڈیٹا، مصنوعی ذہانت، اور ڈیجیٹل مہارت سے جیتی جائے گی۔
ایران اور اسرائیل کی اس جنگ نے عسکری تجزیہ کاروں کو نئی سمت دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگلی دہائی میں روایتی جنگیں ختم ہو جائیں گی اور ان کی جگہ ”بے آواز جنگیں“ لے لیں گی جہاں دشمن کو خبر بھی نہیں ہوگی اور اس کے بنیادی نظام مفلوج ہو چکے ہوں گے۔ دنیا کو اب اس حقیقت کا سامنا کرنا ہو گا کہ جنگیں اب توپوں سے نہیں ٹیکنالوجی سے لڑی جائیں گی۔
پاکستان اور دیگر خطے کے ممالک کو اس جنگ سے سبق سیکھنا ہو گا کہ محض اسلحہ کے ذخیرے کافی نہیں بلکہ جدید ترین ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری، سائبر سیکیورٹی کی مضبوطی، اور مصنوعی ذہانت کی افادیت کو اپنانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن چکی ہے۔

