ٹیگور کی نوبل انعام یافتہ کتاب: ”گیتانجلی“ (آفاقی محبت کے گیتوں کی مالا) کا تعارف اور تبصرہ
رابندر ناتھ ٹیگور صرف بنگال کے نہیں بلکہ برصغیر کے فکری، ادبی اور روحانی افق کے ایک درخشاں ستارے تھے۔ وہ شاعر، افسانہ نگار، ناول نگار، ڈرامہ نویس، فلسفی، موسیقار، تعلیم دان، مصور، اور سب سے بڑھ کر ایک مفکر تھے۔ انہیں ”گرو دیو“ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، اور اردو میں اکثر رابندر ناتھ ٹھاکر لکھا جاتا ہے۔
ان کی ادبی زندگی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ شاعری، افسانے، ناول، ڈرامے، سفرنامے، مضامین، اور گیت، انہوں نے ادب کی تمام مقبول اصناف میں اپنی انفرادیت قائم کی۔ لیکن ان کو شہرتِ دوام ان کی شاعری سے ملی۔ ان کی مشہور شعری تصنیف ”گیتانجلی“ (Gitanjali) ہے، جس پر انہیں 1913 میں نوبل انعام ملا۔ وہ نوبل انعام پانے والے پہلے ایشیائی ادیب تھے۔ (انہیں 1919 میں برطانوی حکومت سے نائٹ ہڈ کا اعزاز بھی ملا۔ جو انہوں نے جلیانوالہ باغ کے قتل عام پر احتجاجاً واپس کر دیا) مختلف ملکوں کی یونیورسٹیوں نے اعزازی ڈگریاں بھی دیں۔
ٹیگور نے تقریباً 2,000 گیت لکھے جو آج رابندر سنگیت کہلاتے ہیں۔ انہوں نے بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے قومی ترانے بھی لکھے۔ ایک ہی شخص کے تین گیت، تین مختلف ممالک کے قومی ترانے بنے، یہ ایک عالمی ریکارڈ ہے۔
وہ تصویرکشی میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ انہوں نے 60 سال کی عمر میں باقاعدہ مصوری شروع کی۔
ٹیگور کا ذہن فطری، فکری اور روحانی سوالات سے گہرا جڑا ہوا تھا۔ وہ مغرب کی سائنسی اور مشرق کی روحانی فکر کو ایک ساتھ لے کر چلنا چاہتے تھے۔
ان کی تحریریں اردو، ہندی، انگریزی، جرمن، فرانسیسی سمیت درجنوں زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔
انہوں نے خود گیتانجلی کا ترجمہ انگریزی میں کیا تھا، جو بعد میں نوبل انعام کی بنیاد بنا۔ مشہور انگریزی شاعر ولیم بٹلر ییٹس (ڈبلیو بی ییٹس) نے اس ترجمے اور کام کو سراہا تو یہ گیت عالمی سطح پر توجہ حاصل کرنے لگے۔
گیتانجلی کا پورا عنوان: ”گیتانجلی۔ نذرانۂ نغمات“ ہے۔ یہ رابندر ناتھ ٹیگور کے سب سے مشہور 103 گیتوں /نظموں کا مجموعہ ہے، جو 1910 میں بنگالی زبان میں شائع ہوا۔ بعد ازاں ٹیگور نے خود ان کا ترجمہ بنگالی سے انگریزی میں کیا۔ یہ تمام گیت، نغمے اور نظمیں انہوں نے خالص خالق حقیقی اور محبوب ازلی کی محبت میں تحریر کیے۔
گیتانجلی کا مرکزی موضوع آفاقی محبت (عشقِ حقیقی) ، روحانیت، انسانیت، خدا سے ہم کلامی، اور وجدان کا حسن ہے۔ یہ گیت تصوف، محبت، فطرت، آزادی اور انسان دوستی کے گہرے رنگوں میں رنگے ہیں۔ گیتانجلی کا ہر گیت/نظم خدا اور انسان کے تعلق کے ستار کے کسی نئے تار پر ہاتھ رکھتا ہے۔
ٹیگور کے گیتوں میں ایک مخصوص نرمی، گہرائی، اور روحانی سکون پایا جاتا ہے۔ وہ مابعدالطبیعاتی (میٹا فزیکل) موضوعات کو انسانی جذبات کی سادہ زبان میں بیان کرتے ہیں۔ ان کے استعارے آسان ہیں، فطرت سے جُڑے ہیں۔ روشنی، درخت، ہوا، پرندے، بارش، ندی جیسے مانوسیت بھرے کردار ان کے نغمات کا حصہ ہیں۔
نظموں میں قدرتی مناظر (بادل، پرندے، ندی) کی تصویر کشی ہے جو الٰہیاتی جمال و روشنی کا استعارہ ہیں۔ روشنی، پانی، کھیل (پلے ) جیسے مناظر اور تاثرات خدا، روح، اور انسانی زندگی (دنیاوی اشغال) کے آپسی تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔
گیتانجلی میں خود شناسی اور خدا شناسی کا سفر متوازی چلتا ہے۔ یہ ایک دل کا محبت سے مغلوب ہو کر اپنے رب کی الہٰیت، اور اپنی بندگی کے اقرار کی شاعری ہے۔ بہت سی نظمیں خدا کو محبوب کی صورت مخاطب کرتی ہیں، جیسا کہ:
”Away from the sight of thy face my heart know no rest…“
ٹیگور کی شاعری اور صوفیانہ روایت میں ایک فکری ربط ہے۔ دونوں میں ’وصل‘ ، ’دیدار‘ ، اور ’محبوب کی طلب‘ نہ صرف مرکزی جذبے ہیں بلکہ دونوں روایتیں موت کو انتہا نہیں، ارتقا سمجھتی ہیں۔ جس طرح پنجابی اور سندھی صوفیا کی شاعری میں موت کو کسی اذیت، اداسی یا اختتام سے جوڑنے کے بجائے خدا سے وصال کا ذریعہ سمجھ کر اس لمحے کی آمد کی آرزو ملتی ہے۔ یوں ہی گیتانجلی میں بھی موت کو زندگی کا ساتھی اور خدا کی جانب واپسی اور اس سے وصل کا راستہ قرار دیا گیا ہے۔
”Thou hast left death for my companion and I shall crown him with my life.“
(حوالہ: گیت 52 )
”twin brothers, life and death, dancing over the wide world.“
(حوالہ: گیت 58 )
خدا سے قرب رکھنے والی ہر روح کے لیے موت وہ دروازہ ہے جو سالک کو ابدی سکون (خالق کے وصال) کے سفر پر روانہ کرتا ہے۔ اس لیے ان کی برسی کو برسی نہیں عرس کہا جاتا ہے۔ عرس یعنی شادی (خوشی) ۔
بعض گیت/نظمیں اپنے وقت کی معاشرتی نا انصافیوں، برطانوی قبضے اور طبقاتی ناہمواریوں کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں۔
گیتانجلی کے گیتوں میں خدا کی رحمتوں، نعمتوں پر اس کا شکر، اس کے دیدار کی طلب، اس کے حضور پیشگی کی چاہت، اس سے دوری کی تڑپ اور انتظار کے کرب کے جذبات کا اظہار ملتا ہے۔
گیتانجلی کی سب سے بڑی خوب صورتی اس کی آفاقیت ہے۔ یہ کسی خاص مذہب یا فرقے کے خدا کی یاد نہیں دلاتی۔ اس میں اللہ، یسوع، بھگوان کی تقسیم نہیں ہے۔ زمین کے کسی ٹکڑے کا باسی اسے پڑھ کر اپنے خدا سے جوڑ سکتا ہے۔ (غالباً یہی وجہ ہے کہ اقبال ٹیگور کے ہم عصر ہونے کے باوجود عالمی افق پر اس طرح نہیں چمک سکے جیسے ٹیگور روشن ہوئے۔ اقبال فکری طور پر زیادہ فلسفیانہ اور تہذیبی مزاحمت کے شاعر تھے، جب کہ ٹیگور کی شاعری میں جمالیاتی نرمی اور کائناتی امن کا رنگ غالب تھا۔ یہی فرق انہیں مغرب میں مختلف طریقے سے قابلِ فہم یا قابلِ قبول بناتا ہے )
کئی گیت تو اتنے آرزو مندانہ اور بے تکلفانہ انداز میں لکھے گئے ہیں کہ لگتا ہے کہ مجازی محبوب کو مخاطب کیا گیا ہے۔ ان گیتوں کی زبان عام فہم ہے۔ استعارے، تشبیہات اور علامات روزمرہ کی ہیں اور انداز بیاں پرکشش ہے۔
نندالال بوس، سریندرناتھ کار، اسیت کمار ہالدار اور ابانیندرناتھ ٹیگور (رابندرناتھ ٹیگور کے بھتیجے ) کی خوب صورت پینٹنگز کی عکسی نقول بھی گیتوں کے ساتھ کتاب کا حصہ ہیں۔ ایک ہی خیال کو اظہار کے دو پیرائے (الفاظ اور رنگ) دے دیے گئے ہیں جو نفس مضمون اور کتاب کی خوب صورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔
ٹیگور کے آفاقی گیتوں کی خوشبو صرف برصغیر تک محدود نہیں رہی۔ اس نے سرحدوں اور ثقافتوں کی رکاوٹوں اور باڑوں کو پھاند کر روحانی مضامین پسند کرنے والوں کو مسحور کیا۔ گیتانجلی نے نہ صرف معاصر مفکرین اور شعراء کو متاثر کیا بلکہ اس نے بنگالی زبان و ادب کو جدت عطا کی۔
ویلز کے شاعر ولیم بٹلر ییٹس نے خاص کر ان گیتوں کے گہرے روحانی جذبات کو سراہا اور انہیں ”روحانی حکمت“ کہا۔ مغرب میں انہیں ”آزادانہ روحانی گلوکار“ سمجھا گیا۔
کچھ مفکرین نے گیتانجلی پر تنقید بھی کی۔ ان کے مطابق ٹیگور نے رموذی اور علامتی انداز بیان اپنا کر مضمون کو گنجلک اور تجریدی بنا دیا ہے۔ امکان غالب ہے کہ یہ ان کی ثقافتی اجنبیت کا نتیجہ تھا کہ جو شاعری مشرق میں وجدانی اور مانوس لگتی ہے، وہ مغرب میں پیچیدہ اور غیر ٹھوس محسوس ہوئی۔ ٹیگور پر دوسری تنقید مسلمان علماء، قائدین اور مفکرین کی جانب سے ہوئی۔ انہوں نے ٹیگور کی ادبی عظمت کا اقرار کیا تاہم ان کے کلام کو غیر عملی اور تہذیبی و قومی شناخت سے متصادم پایا۔ ٹیگور کائناتی ہم آہنگی کے سفیر تھے، وہ قوم پرستی کے مخالف تھے لہذا ان کے خیالات رد کیے گئے۔ علاوہ ازیں ان کے گیتوں میں کہیں کہیں ہندو صنمیات (میتھالوجی) کے حوالے بھی دکھائی دیتے ہیں جو کچھ قارئین کے لیے ناگواری کا سبب ہیں۔
گیتانجلی کا ترجمہ اردو میں بھی موجود ہے۔ سب سے مشہور ترجمہ نیاز فتح پوری کا ہے۔ لیکن لسانی تغیرات کی بنا پر اسے جدید اور تازہ نہیں مانا جاتا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے شعبہ اردو نے ٹیگور ریسرچ اینڈ ٹرانسلیشن اسکیم کے تحت 2013 میں گیتانجلی کو نئے سرے سے ترجمہ کیا۔ مترجم سہیل احمد فاروقی ہیں اور یہ ریختہ پر دستیاب ہے۔
اگر آپ اس تذبذب میں ہیں کہ اردو ترجمہ پڑھنا بہتر ہے یا انگریزی تو اس کا فیصلہ تھوڑا سا مشکل ہے۔ اُردو میں متن کی روح کو سمیٹنے کے ساتھ اسے بہتر ثقافتی ہم آہنگی ملی ہے۔ انگریزی میں ترنم، غنائیت کا عنصر کم ہے۔ مصرعے طویل اور لغت قدیم ہے۔ لیکن ایک کلاسیکی عنصر تو بہرحال موجود ہے۔ دوئم انگریزی ترجمہ شاعر نے خود کیا اس لحاظ سے وہ دیگر مترجمین کی کاوشوں پر فوقیت کا حق دار ہے۔ لہذا آپ اپنی آسانی کے پیش نظر جو ترجمہ منتخب کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔
گیتانجلی ایسی شاعری کا مجموعہ ہے جو محبت، فطرت اور خدا کے بیچ روحانی ہم آہنگی بیان کرتا ہے۔ اس کا اسلوب سادہ لیکن علامتی، شاعرانہ لیکن صوفیانہ ہے۔ ٹیگور نے اختصار میں گہرے فلسفیانہ لمس پیش کیے، جنہوں نے نہ صرف بنگالی بلکہ عالمی ادب کو بھی متاثر کیا۔
کچھ چنیدہ اشعار:
”I shall ever try to keep all untruths out from my thoughts, knowing that thou art that truth which has Kindled the light of reason in my mind.“
I shall ever try to drive all evils away from my heart and keep my love in flower, knowing that thou hast thy seat in the inmost shrine of my heart. ”
(گیت نمبر 4 سے منتخب کیا گیا)
ترجمہ:
میں ہمیشہ کوشش کروں گا کہ جھوٹ کو اپنے خیالات سے دور رکھوں،
کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تو ہی وہ سچ ہے جس نے میرے ذہن میں عقل کی روشنی جلائی ہے۔
میں ہمیشہ دل سے برائیوں کو نکالنے کی سعی کروں گا
اور اپنی محبت کو پھول کی طرح تازہ رکھوں گا،
کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تیرا مقام میرے دل کے سب سے گہرے اور پاک گوشے میں ہے۔
——————-
”Misery Knocks at the door and her message is that thy lord is wakeful.“
(گیت نمبر 27 سے منتخب کیا گیا)
ترجمہ:
مصیبت جب دروازہ کھٹکھٹاتی ہے،
تو اس کا پیغام یہ ہوتا ہے کہ تیرا رب بیدار ہے۔
——————-
”Let only that little be left of me whereby I may name thee my all.“
(گیت نمبر 34 سے منتخب کیا گیا)
ترجمہ:
میرا وجود بس اتنا ہی تو باقی رہنے دے کہ اپنا سب کچھ تمہیں کہہ سکوں۔
——————
”Give me the strength to raise my mind high above daily trifles.“
”And give me the strength to surrender my strength to thy will with love.“
(گیت نمبر 36 سے منتخب کیا گیا)
ترجمہ:
مجھے یہ قوت دے کہ میں اپنے ذہن کو روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے بلند رکھ سکوں۔
اور مجھے یہ طاقت بھی دے کہ میں اپنی تمام تر طاقت تیری رضا کے سپرد، محبت کے ساتھ کر سکوں۔
——————-
Where the mind is without fear and the head is held high;
Where knowledge is free;
Where the world has not been broken up into fragments by narrow domestic walls;
Where the words come out from the death of truth;
Where tireless striving stretches it ’s arms towards perfection;
Where the clear stream of reason has not lost its way into the dreary desert sand of dead habit;
Where the mind is led forward by thee into ever-widening thought and action_
into that heaven of freedom, my Father, le
(گیت نمبر 35 )
ترجمہ:
جہاں ذہن خوف سے آزاد ہو اور سر فخر سے بلند،
جہاں علم ہر کسی کے لیے مفت ہو۔
جہاں دنیا تنگ مقامی دیواروں میں ٹکڑوں میں نہ بٹی ہو؛
جہاں الفاظ سچ کی گہرائی سے نکلتے ہوں ؛
جہاں تھکاوٹ سے بے نیاز کوشش کمال کی طرف اپنے بازو پھیلائے ہو؛
جہاں عقل کی شفاف ندی مردہ روایتوں کے بے آب و گیاہ ریگستان میں راستہ نہ کھو بیٹھی ہو؛
جہاں ذہن کو تُو ہر لمحہ وسعتِ فکر و عمل کی جانب لے جا رہا ہو
اے میرے رب! میرے ملک کو اُس آزادی کی جنت میں بیدار کر۔

