سپینوزا کا پرستار۔ آئزک سنگر کے افسانے کی تلخیص اور ترجمہ
( 1 ) ڈاکٹر نیہم فچلسن اپنے کمرے میں چہل قدمی کر رہے تھے۔ وہ کمرہ جس گھرکا حصہ تھا وہ وارسا کی مارکٹ سٹریٹ میں واقع تھا۔ ڈاکٹر فچلسن چھوٹے قد کے کبڑے سے انسان تھے۔ ان کی داڑھی سفید ہو رہی تھی اور سر کے بال غائب ہو رہے تھے۔ ان کی ناک کسی پرندے کی چونچ کی طرح مڑی ہوئی اور آنکھیں کسی جانور کی آنکھوں کی طرح بڑی تھیں۔ اگر چہ وہ گرمی کا موسم تھا لیکن پھر بھی ڈاکٹر فچلسن نے ایک کالا کوٹ اور ٹائی زیب تن کی ہوئی تھی۔ وہ کمرے میں چہل قدمی کرتے ہوئے کبھی کھڑکی کے پاس آتے اور کبھی اس سے دور ہو جاتے۔
وہ کھڑکی اتنی اونچی تھی کہ اس سے باہر دیکھنے کے لیے کسی چیز پر چڑھنے کی ضرورت تھی۔ ان کے کمرے میں ایک شمع بھی جل رہی تھی جس کے گرد بہت سے پروانے طواف کر رہے تھے۔ بعض دفعہ کوئی پروانہ شمع کے اتنے قریب آ جاتا کہ اس کے پر جل جاتے۔ ڈاکٹر فچلسن اس منظر کو دیکھ کر مسکراتے اپنے ہونٹ کاٹتے اور پھر اپنا رومال نکال کر پروانوں کو شمع سے دور کرنے کی کوشش کرتے لیکن وہ پھر واپس آ جاتے۔ یہ دیکھ کر ڈاکٹر فچلسن پروانوں سے کہتے تم کتنے بیوقوف ہو شمع کے بہت قریب آؤ گے تو جل جاؤ گے پھر ڈاکٹر فچلسن نے اپنے ماتھے سے پسینہ پونچھا اور خود کلامی کے انداز میں کہنے لگے یہ پروانے بھی ان انسانوں کی طرح ہیں جو صرف چند لمحوں کی لذت چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر فچلسن کی میز پر ایک دبیز کتاب پڑی تھی جس کے حاشیے پر انہوں نے بہت سے نوٹ لکھ رکھے تھے۔ وہ کتاب سپینوزا کی شہکار کتاب ایتھکس تھی جسے ڈاکٹر فچلسن پچھلے تیس برس سے پڑھ رہے تھے۔ اب وہ اس کتاب کے ہر جملے ہر صفحے اور ہر باب سے واقف ہو چکے تھے۔ جب انہیں کوئی پیراگراف پڑھنا ہوتا تو وہ جلد اس صفحے پر پہنچ جاتے جہاں وہ درج ہوتا۔ انہیں اس کتاب کے بہت سے حصے اب ازبر بھی ہو گئے تھے۔ ان کے پاس ایک محدب عدسہ بھی تھا جسے وہ کتاب پڑھنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ ڈاکٹر فچلسن کے لیے وہ کتاب ایک نیا مسئلہ بن رہی تھے کیونکہ جب وہ اسے بار بار پڑھتے تو وہ اس میں نئے معانی تلاش کر لیتے۔ ڈاکٹر فچلسن اس کتاب کی تحقیق کے بعد اس پر ایک تنقیدی کتاب لکھنا چاہتے تھے اسی لیے انہوں نے اس کتاب کے حوالے سے بہت سے نوٹس بنا رکھے تھے اتنی محنت کے باوجود انہیں خطرہ تھا کہ وہ اپنی کتاب مکمل نہ کر پائیں گے۔
ڈاکٹر فچلسن اس تحقیق میں اتنا الجھے کہ بیمار ہو گئے۔ ان کے پیٹ میں درد رہنے لگا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ جو شخص بھی سپینوزا کا پرستار ہو اسے موت سے نہیں ڈرنا چاہیے کیونکہ وہ شخص مرتا نہیں بلکہ موت کے بعد ایک ازلی کائنات کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ سب کچھ جاننے اور سوچنے کے باوجود ڈاکٹر فچلسن اپنے معدے کی خرابی کی وجہ سے پریشان رہتے تھے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ انہیں معدے کا السر ہے یا کینسر۔ آخر وہ اپنی بیماری سے اتنے تنگ ہوئے کہ انہوں نے سب دوائیں کھانی بند کر دیں۔ ان کے ڈاکٹر کا خیال تھا کہ ان کی بیماری جسمانی نہیں ذہنی ہے حقیقی نہیں تصوراتی ہے اس لیے وہ اس بیماری کے باوجود ایک سو سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔
گرمی کی ایک رات ایسی بھی تھی جب ڈاکٹر فچلسن نقاہت محسوس کرنے لگے۔ ان کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ وہ کتاب پڑھنے کے لیے اٹھے تو ان کی آنکھوں کے سامنے دھند سی چھا گئی تھی۔ انہیں صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا اور کتاب کے الفاظ اوپر نیچے ہو رہے تھے۔ انہوں نے ہمت کر کے کمرے میں چہل قدمی کرنی شروع کی اور کھڑکی سے باہر جھانکا تا کہ تازہ ہوا محسوس کر سکیں۔ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے انہیں سپینوزا کا جملہ یاد آ رہا تھا کہ زندگی میں ایسی خوشی حاصل کرنا جو خلاف عقل نہ ہو ایک نیکی کا کام ہے۔ ڈاکٹر فچلسن نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو انہیں آسمان پر ستارے دکھائی دیے انہوں نے سوچا ہماری زمین ہمارا چاند ہمارا سورج یہ سب ہماری کہکشاں کا حصہ ہیں۔ انہیں اپنی دوربین یاد آئی جو انہوں نے سوئٹزرلینڈ سے خریدی تھی اور ایک زمانے میں وہ اس دوربین سے چاند کر دیکھ کر بہت محظوظ ہوا کرتے تھے۔ ڈاکٹر فچلسن کو یاد آیا کہ سپینوزا کہتے تھے کہ ہماری کائنات خدا کی خصوصیات کی عکاسی کرتی ہے اور اگر یہ کائنات خدا ہے تو ہم سب بھی خدا کا حصہ ہیں۔
پھر ڈاکٹر فچلسن نے اپنی گلی کی طرف دیکھا جہاں نانبائی روٹی پکا رہے تھے اور ان کے تنور سے دھواں اوپر اٹھ کر چاروں طرف پھیل رہا تھا۔ گلی میں بہت سے لوگ چہل قدمی کر رہے تھے ان لوگوں میں وہاں کے چور جواری اور طوائفیں بھی شامل تھیں۔ دور سے پولیس افسر بھی دکھائی دے رہے تھے جنہیں لوگ اس لیے رشوت دے رہے تھے تا کہ وہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی کام کر سکیں۔ ڈاکٹر فچلسن کو سپینوزا کا قول یاد آیا کہ ہمیں اپنی زندگی میں زیادہ جذباتی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہمارے جذبات ہمیں اپنی عقل سے دور لے جاتے ہیں۔
( 2 ) ڈاکٹر فچلسن کئی سال پیشتر سوئٹزرلینڈ سے وارسا چلے آئے تھے تا کہ فلسفے کی اعلیٰ تعلیم مکمل کر سکیں۔ ان کے قریبی دوست جانتے تھے کہ وہ سپینوزا پر ایک ضخیم کتاب لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ زمانہ طالب علمی میں ڈاکٹر فچلسن کے دوستوں نے ان کا کئی عورتوں سے تعارف کروایا تھا اور سوچا تھا کہ شاید انہیں کوئی عورت پسند آ جائے اور وہ اس سے شادی کر لیں لیکن وہ سپینوزا کے عشق میں اتنا گرفتار تھے کہ انہوں نے عورتوں سے دور رہنے میں ہی بہتری سمجھی۔ انہیں ڈر تھا کہ کہیں کوئی عورت ان کی سپینوزا پر کتاب لکھنے کے شوق میں مخل نہ ہو جائے۔ ڈاکٹر فچلسن جب کسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے جاتے تو اپنے ساتھ سپینوزا کی کتاب بھی لے جاتے تا کہ کھانے کا انتظار کرتے ہوئے وہ اس کتاب کے چند اور صفحات پڑھ سکیں۔ ڈاکٹر فچلسن اس کیفے میں بھی جاتے تھے جہاں شہر کے نامور شاعر ادیب اور دانشور جمع ہوتے تھے اور سنجیدہ موضوعات پر تبادلہ خیال کرتے تھے۔ لیکن پھر ڈاکٹر فچلسن کا جی ان باتوں سے بھر گیا اور وہ جدید نظریات سے جن میں زاؤنزم سوشلزم اور انارکزم شامل تھے بددل ہو گئے تھے۔ انہیں یہ جان کر بہت دکھ ہوا تھا کہ بہت سے دانشور سپینوزا کے فلسفے کو یا تو جانتے ہی نہیں تھے اور یا اس کی تخلیقات کی غلط تعبیر کرتے تھے۔ ڈاکٹر فچلسن جتنا سپینوزا کے قریب آتے گئے وہ شہر سے دانشوروں سے دور ہوتے گئے۔
( 3 ) ڈاکٹر فچلسن کو ہر تین ماہ بعد حکومت کی طرف سے تھوڑا سا وظیفہ آتا جو ان کا گزارہ کرنے کے لیے کافی تھا۔ ایک وہ دور تھا جب ڈاکٹر فچلسن اپنے مالی اور سماجی مسائل سے بہت پریشان رہتے تھے لیکن پھر انہیں یہ سوچ کر سکون ملا کہ اگر مسائل حد سے بڑھ گئے تو وہ خودکشی کر لیں گے۔ لیکن پھر انہوں نے خود کشی کے بارے میں بھی سوچنا چھوڑ دیا کیونکہ انہوں نے سپینوزا کا یہ بیان پڑھا کہ خودکشی کرنے والے انسان دیوانے ہوتے ہیں۔
( 4 ) ڈاکٹر فچلسن کی ایک ہمسائی بھی تھی جس کا رنگ سیاہ تھا اور وہ باتیں کرتے ہوئے ایک گھوڑی کی طرح ہنہناتی تھی۔ ہمسائے اسے بلیک ڈوبی کے نام سے پکارتے تھے۔ وہ مردوں کے بارے میں زیادہ خوش قسمت واقع نہیں ہوئی تھی۔ اس نے بہت کوشش کی لیکن اسے کوئی شریک حیات نہ مل سکا۔ اسے ایک مرد پسند بھی آیا اور اس مرد کو بھی وہ پسند آئی لیکن بلیک ڈوبی اس دن بہت دکھی ہوئی جس دن اسے پتہ چلا کہ اس کا محبوب ایک شادی شدہ آدمی ہے۔ بلیک ڈوبی دور سے ڈاکٹر فچلسن کو دیکھتی۔ چونکہ وہ عبادت کرنے گرجا یا سناگاگ نہ جاتے تو وہ سمجھتی کہ وہ ایک دہریہ ہیں۔ ایک دن بلیک ڈوبی کو ایک خط آیا جسے وہ پڑھ نہ سکتی تھی۔ اس نے ڈاکٹر فچلسن کے کمرے کا دروازہ کھلا دیکھا تو اندر آ گئی۔ ڈاکٹر فچلسن اپنے بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔ بلیک ڈوبی نے ارد گرد دیکھا تو یہ سوچ کر حیران ہوئی کہ مرد ہونے کے باوجود انہوں نے اپنا کمرہ بہت صاف ستھرا رکھا ہوا ہے۔ بلیک ڈوبی نے کہا کہ کیا آپ مجھے ایک خط پڑھ کر سنا سکتے ہیں جو میرے کزن نے نیویارک سے بھیجا ہے۔ ڈاکٹر فچلسن جب اسے خط پڑھ کر سنا رہے تھے تو ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ ڈاکٹر فچلسن خط سنا چکے تو بلیک ڈوبی نے پوچھا کیا آپ اپنا مذہب چھوڑ چکے ہیں؟ ڈاکٹر فچلسن نے کہا نہیں میں بھی باقی یہودیوں کی طرح ایک عام یہودی ہوں یہ سن کر بلیک ڈوبی کو تسلی ہوئی کیونکہ اس کے خدشات دور ہو گئے۔
اس کے بعد بلیک ڈوبی روز آ کر ان سے ملتی اور ان کا خیال رکھتی۔ ڈاکٹر فچلسن کی بیماری بڑھی تو انہیں یوں محسوس ہوا جیسے وہ کسی دن بھی مر جائیں گے۔ انہوں نے وصیت بھی لکھ دی انہوں نے اپنے کپڑے اور فرنیچر بلیک ڈوبی کے نام لکھ دیے کیونکہ وہ اس کی خدمت سے بہت متاثر تھے۔ ایک دن ڈاکٹر فچلسن نے بلیک ڈوبی سے اس کے بچپن اور جوانی کے بارے میں بہت سے سوال پوچھے اور یہ بھی پوچھا کہ اس نے شادی کیوں نہ کی۔ بلیک ڈوبی ان کے ان سوالوں سے بہت متاثر ہوئی کیونکہ اس سے ساری زندگی کسی نے ایسے سوال نہ پوچھے تھے۔ ان سوالوں نے اسے ڈاکٹر فچلسن کے بہت قریب کر دیا۔ دھیرے دھیرے ان کا رشتہ پہلے دوستی اور پھر محبت میں بدل گیا۔ آخر ایک دن بلیک ڈوبی نے اپنے دل میں چھپا سوال پوچھ ہی لیا کیا آپ خدا پر ایمان رکھتے ہیں؟ میں نہیں جانتا اور آپ؟ ڈاکٹر فچلسن نے اپنے جواب میں ایک سوال بھی ڈال دیا میں تو خدا پر پکا ایمان رکھتی ہوں پھر ڈاکٹر فچلسن نے کہا خدا ہر جگہ موجود ہے وہ ہر چیز میں موجود ہے ہم سب خدا کا حصہ ہیں بلیک ڈوبی نے انہیں روک کر کہا آپ ایسی باتیں نہ کریں ایسی باتوں سے مجھے گھبراہٹ ہوتی ہے پھر وہ اٹھ کر کمرے سے باہر چلی گئی۔ ڈاکٹر فچلسن سمجھے کہ وہ ان کی فلسفیانہ باتوں سے گھبرا کر چلی گئی ہے اور شاید کبھی نہ لوٹے۔ لیکن وہ تھوڑی دیر کے بعد اپنے نئے کپڑے انہیں دکھانے واپس آ گئی۔
( 5 ) ایک دن بلیک ڈوبی نے اپنے پادری سے کہا کہ میں ڈاکٹر فچلسن سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔ یہ بات سن کر پادری کی بیوی ہنسی اسے یوں لگا جیسے بلیک ڈوبی دیوانی ہو گئی ہو۔ بلیک ڈوبی کے چند دوست خوش تھے کہ اس نے ایک ڈاکٹر سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور بعض دوست پریشان ہو گئے کہ اس نے ایک سنکی دیوانے سے شادی کا کیوں فیصلہ کیا ہے۔ بلیک ڈوبی اور ڈاکٹر فچلسن دونوں شادی کے دن زرق برق لباسوں میں ملبوس تھے۔ اور بہت خوش تھے۔ شادی کے بعد پہلی رات ایک معجزہ ہوا۔ ڈاکٹر فچلسن کے برسوں کے خوابیدہ جذبات بیدار ہو گئے۔ انہوں نے بلیک ڈوبی کو نہ صرف بوسہ دیا بلکہ اس کے کان میں محبت بھری باتوں کی سرگوشی بھی کی۔ محبت کرنے کے بعد ڈاکٹر فچلسن ایک نوجوان کی طرح سو گئے۔ آدھی رات کو ان کی آنکھ کھلی تو بلیک ڈوبی ان کی آغوش میں بڑے سکون سے سو رہی تھی۔ وہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس گئے ْ باہر دیکھا تو انہیں محسوس ہوا کہ ساری کائنات میں خدا کا دل دھڑک رہا ہے پھر انہیں سپینوزا یاد آیا اور انہوں نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا اے الوہی سپینوزا تو جہاں بھی ہے مجھے معاف کر دے میں اس رات تیرے سامنے یہ اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے نادانی میں ایک بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔


