شٹل کاک برقعے میں لپٹی کتابوں کی خوشبو : ایک امید یا نوحہ


بنوں، وہی بنوں جو برسوں سے بندوق، رسم و رواج، قبائلی جبر، اور مردانہ حاکمیت کی گونج سے پہچانا جاتا رہا ہے، جب وہاں پہلی بار کتاب میلے کا انعقاد ہوا، تو یہ کسی معجزے سے کم نہیں۔ اور اس معجزے کی سب سے دل دہلا دینے والی اور ساتھ ہی دل چھو لینے والی تصویر وہ تھی، جس میں دو خواتین مکمل شٹل کاک برقعہ پہنے کتابوں کے اسٹال پر کھڑی ہیں، علم کی دنیا میں قدم رکھتی، اپنی شناخت میں لپٹی ہوئی۔
یہ تصویر، بظاہر ایک عام سا منظر ہو سکتا ہے، مگر اصل میں یہ ایک تہذیبی کشمکش کی گواہی ہے، امید اور محرومی کا ملا جلا نقش، علم کی روشنی اور روایتوں کی تاریکی کا سنگم۔

یہ خوشی کا موقع ہے۔ اس لیے خوشی ہے کہ بنوں جیسے شہر میں کتابوں کا میلہ لگا یہ خود ایک خاموش انقلاب ہے۔ ایسی جگہ جہاں عورت کا گھر سے نکلنا بھی گناہ سمجھا جاتا رہا، وہاں عورت کا کتب میلے میں شرکت کرنا، چاہے مکمل پردے میں ہی سہی، اس بات کا ثبوت ہے کہ تبدیلی کی ہلکی سی چاپ سنائی دے رہی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ عورت کی علمی پیاس زندہ ہے، وہ بندوقوں سے نہیں کتابوں سے دوستی کرنا چاہتی ہے۔

اور یہ غم کا نوحہ بھی ہے۔ اسی تصویر میں ایک درد بھی چھپا ہے۔ شٹل کاک برقعہ، جو کہ صرف ایک لباس نہیں، بلکہ ایک خاموش جبر، ایک صدیوں پرانا قید خانہ ہے، اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہماری بیٹیاں، مائیں، بہنیں آج بھی اپنی شناخت، اپنی چہروں کی آزادی، اپنے ہونے کے اظہار کے لیے سیاہ دبیز پردوں میں چھپنے پر مجبور ہیں۔ یہ برقعہ صرف جسم نہیں ڈھانپتا، یہ خواب بھی ڈھانپتا ہے، آواز بھی، خواہش بھی، خودی بھی۔ اس میں لپٹی ہوئی لڑکی جب کتاب اٹھاتی ہے، تو وہ علم کو چھونے کی جسارت تو کرتی ہے، مگر اپنی ذات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ہمت نہیں رکھتی۔ وہ جانتی ہے کہ اگر چہرہ کھلے گا، تو غیرت کے نام پر کوئی خاموش گولی، کوئی تیزاب کا چھینٹا یا بدنامی کا طعنہ اس کا انتظار کر رہا ہو گا۔

سوال یہ ہے کہ ہم اس تصویر پر خوش ہوں یا غم زدہ؟ کیا ہم صرف اتنا کہہ کر خود کو مطمئن کر لیں کہ ”چلو، کم از کم آئی تو سہی!“ یا ہم اس کی تہہ میں چھپے ہوئے دکھ کو محسوس کر کے آواز بلند کریں کہ ”کیوں آج بھی عورت کو علم کی تلاش میں خود کو چھپانا پڑتا ہے؟“

یہ تصویر کہتی ہے کہ عورت زندہ ہے، وہ چاہتی ہے کہ وہ پڑھے، سمجھے، سوچے، سوال کرے۔ چاہے وہ حجاب میں ہو، برقعے میں، یا چادر میں۔ مگر وہ یہ بھی کہتی ہے کہ سماج نے اس کی راہ میں اتنی زنجیریں ڈال رکھی ہیں کہ اسے ہر قدم پردے کی تہہ میں اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ تصویر ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ تبدیلی کی راہ طویل ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ اگر بنوں کی لڑکی شٹل کاک برقعے میں بھی کتاب کو چھو سکتی ہے، تو کل وہ اپنے خیالات سے دنیا کو ہلا بھی سکتی ہے، بشرطیکہ ہم اس کے راستے کی رکاوٹیں ہٹانے میں اس کا ساتھ دیں۔

بنوں کا یہ کتاب میلہ ایک خواب کی مانند ہے، جو ایک ایسی بیداری کی شروعات ہے جس میں عورت صرف پردے میں چھپی نہیں رہے گی، بلکہ کتاب کے صفحوں پر اپنا نام، اپنی کہانی اور اپنا وجود رقم کرے گی۔ یہ تصویر ایک چیخ ہے، ”مجھے پڑھنے دو، مگر چھپ کر نہیں، سامنے آ کر، فخر سے، اپنے نام اور شناخت کے ساتھ۔

Facebook Comments HS