کھڑکی سے آتی پرندوں کی شکایت


”غٹرغوں، غٹرغوں!“ یہ آواز ہر صبح میرے کانوں میں گونجتی ہے۔ اور کیوں نہ گونجے؟ جہاں کوئی جاندار اپنا بسیرا کرتا ہے، وہاں اس کی جنبش، سکونت اور آوازیں بھی ساتھ ہوتی ہیں۔ اسی لیے ہر صبح میری کھڑکی کے آس پاس کبوتروں کی غٹرغوں، پروں کی پھڑپھڑاہٹ اور پرواز کی ہلکی سی سرسراہٹ سنائی دیتی ہے۔ ان کبوتروں نے میرے کمرے کی کھڑکی کے ذرا اوپر اپنا آشیانہ بنا رکھا ہے۔ یہ صرف میرے گھر کی بات نہیں، لگ بھگ ہر گھر کی پچھلی کھڑکی پر کبوتروں نے ڈیرہ ڈال رکھا ہے۔ دن بھر ادھر سے اُدھر اڑتے ہیں، شور مچاتے ہیں، اور کسی انسان کو دیکھ کر یکایک گھبرا کر آسمان کی طرف پرواز کر جاتے ہیں۔

بات صرف کبوتروں تک محدود نہیں۔ اسی کھڑکی سے صبح کے وقت چڑیوں کی چہچہاہٹ، کووں کی کائیں کائیں، اور دور فضاؤں میں اُڑتی چیلوں کی چیخیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ نہ جانے یہ پرندے صبح ہوتے ہی اپنے رب کی تسبیح کرتے ہیں یا رزق کی تلاش میں یہ ہنگامہ برپا کرتے ہیں۔ جو بھی ہو، یہ کھڑکی میرے سامنے قدرت کی تخلیق کا ایک حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔

مگر افسوس! کہیں دور سڑکوں پر دوڑتی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، بسوں اور ٹرکوں کے انجن اور ہارن کا شور اس قدرتی ترنم کو دبا دیتا ہے۔ ایک طرف قدرت کی تخلیق کا نغمہ ہے اور دوسری طرف انسان کی بنائی ہوئی مشینوں کا شور و غل۔ یہ منظر سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کہاں وہ خوبصورت قدرتی ماحول، اور کہاں ہم انسانوں کے تعمیر کردہ کنکریٹ کے گھر، جن میں پرندے بھی مجبوری میں بسیرا کر رہے ہیں۔

کیا انہیں کوئی باغ، چمن یا فطری گوشہ نہیں ملا جہاں وہ سکون سے رہ سکیں؟ مگر کہاں کے باغ، کہاں کے چمن! ہم نے ”ترقی“ کے نام پر ہر قدرتی گوشے کو مٹا دیا ہے۔ ہر جانب رہائشی سوسائٹیاں، پل، سڑکیں اور انفراسٹرکچر کا جال بچھا دیا ہے۔ ان سڑکوں پر بھی گاڑیاں، رکشے، چنگچی، موٹرسائیکلیں، اور نہ جانے کیا کچھ چھوڑ دیا ہے، جو دھواں چھوڑ کر، ہارن بجا کر فضا کو مزید آلودہ کر رہے ہیں۔ نتیجتاً، ہماری فضا شدید آلودہ ہو چکی ہے۔

یہ دردناک صورتحال نہ صرف انسان کی زندگی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ان معصوم پرندوں کی صحت اور ان کی نسلوں کے بقا کو بھی خطرے میں ڈال چکی ہے۔ وہ سبزہ، نیلا آسمان، باغوں کے پھول، پودے اور ان پر اڑتی تتلیاں اب کہاں! ان کی جگہ کالے دھویں کے بادل، ہارنوں کا شور اور دم گھونٹتی ہوئی ہوا نے لے لی ہے۔ اگر ہم انسان اپنے گھروں میں بیٹھ کر بھی گاڑیوں کے شور سے سکون نہیں پا سکتے، تو ان بیچارے پرندوں کو کہاں پناہ ملے گی؟ اسی لیے وہ بھی سکون کی تلاش میں ہمارے گھروں کی کھڑکیوں پر بسیرا کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اور صبح سویرے ہر طرف شور و ہنگامہ برپا کرتے ہیں، جیسے قدرتی ماحول چھن جانے پر چیخ چیخ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہوں، اور رب کے آگے شکوہ کناں ہوں۔

اس نازک صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اپنے گھروں کے آس پاس چھوٹی چھوٹی جگہوں پر پودے لگائیں، سبز پٹیاں بنائیں، ان کی خوراک کا بندوبست کریں، اور شہروں میں بھی ایسے قدرتی گوشے بنانے کی کوشش کریں جہاں پرندے سکون سے بسیرا کر سکیں۔ میں نے بھی اپنے گھر کی چھت پر ان کے لیے دانے اور پانی کا انتظام کر دیا ہے، تاکہ یہ محنت کے بغیر کچھ خوراک حاصل کر سکیں، اور یہ شکوہ نہ کریں کہ انسانوں نے پہلے ان کا قدرتی ماحول چھین کر اسے ترقی کی بھینٹ چڑھایا، اور اب اپنے گھروں سے بھی ان کو دھتکار رہے ہیں۔

ہمیں اپنی ترقی اور قدرت کے درمیان توازن قائم کرنا ہو گا، ورنہ وہ دن دور نہیں جب یہ آوازیں صرف یادوں اور کہانیوں کا حصہ بن کر رہ جائیں گی۔ شاید اسی لیے جب کووڈ کے دنوں میں لاک ڈاؤن لگا اور سڑکیں کچھ عرصے کے لیے سنسان ہو گئیں، تو ان پرندوں کو بھی سکھ کا سانس لینا نصیب ہوا۔ تب وہ پرندے بھی دکھائی دیے جو انسانوں نے دہائیوں پہلے دیکھے تھے اور یہ سمجھ لیا تھا کہ شاید ان کی نسلیں مٹ چکی ہیں۔ ایسا لگا کہ قدرت نے ایک لمحے کے لیے انسان سے اس کی تخلیق کا غرور چھین کر دکھایا ہو کہ اصل حسن تو اس کی اپنی بنائی ہوئی دنیا کا ہے۔

اگر ہم اب بھی نہ جاگے، تو نہ صرف یہ پرندے بلکہ ہم خود بھی اس خاموشی اور آلودگی کے بوجھ تلے دب کر رہ جائیں گے۔ اگر آج ہم نے قدرت کی پکار نہ سنی تو کل یہ زندگی خود ایک ادھوری کہانی بن کر رہ جائے گی۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم قدرت سے معافی مانگیں اور اسے بچانے کا عمل شروع کریں۔

Facebook Comments HS