ایران پر اسرائیلی جارحیت۔ مشرقِ وسطیٰ کو آگ میں جھونکنے کی ایک خطرناک سازش
دنیا اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر آگ و خون کی لپیٹ میں آتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسرائیل، جو پچھلے دو سال سے فلسطین کے مظلوم عوام پر وحشیانہ بمباری کر رہا ہے، اور جس نے لبنان کے شہری علاقوں میں بھیانک حملوں کے ذریعے ہزاروں بے گناہوں کو شہید کیا، اب اپنی جارحانہ توسیع پسندی کا رخ ایران کی طرف کر چکا ہے۔
13 اپریل کو اسرائیل نے ایران پر اچانک اور بغیر کسی اشتعال کے حملہ کیا۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب ایران امریکہ کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کے حوالے سے مذاکراتی میز پر موجود تھا۔ ایران کی فوجی تنصیبات، میزائل بیسز، اور کئی نامور سائنسدان اور ملٹری کمانڈر اس حملے کا نشانہ بنے۔ اسرائیل کا یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی تھا بلکہ خطے میں امن و استحکام کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی سازش بھی تھا۔
ایران نے چند روز بعد بھرپور جواب دیتے ہوئے اسرائیل پر سپرسانک بیلسٹک میزائل داغے، جن میں سے کئی اسرائیلی دفاعی حصار کو چیرتے ہوئے اندر تک جا پہنچے۔ تاہم ایران کی ائر ڈیفنس سسٹم کی کمزوری، فضائیہ کی غیر موجودگی، اور ڈرون ٹیکنالوجی کی محدود رسائی نے اس کی جوابی کارروائیوں کی شدت کو کم کر دیا۔ دوسری طرف اسرائیل نے نہ صرف عسکری بلکہ سویلین اہداف پر بھی مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور مبینہ طور پر ایران کے اندر اپنے جاسوسوں کے ذریعے ٹارگٹڈ حملے کروائے ہیں۔
یہ تمام صورت حال محض ایک علاقائی جنگ نہیں، بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان بالواسطہ رساکشی کا آغاز ہے۔ امریکہ اگرچہ ابھی براہ راست جنگ میں شامل نہیں ہوا، لیکن اسرائیل کو دی جانے والی مکمل عسکری، انٹیلی جنس اور سفارتی حمایت یہ ثابت کرتی ہے کہ واشنگٹن کی آشیر باد اس جارحیت کے پیچھے موجود ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو امریکہ کو دانستہ طور پر اس جنگ میں گھسیٹنا چاہتا ہے تاکہ ایران کے خلاف ایک فیصلہ کن ضرب لگائی جا سکے۔
ایسے نازک وقت میں روس، چین، اور یورپی یونین جیسے طاقتور ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خطرناک کھیل کو روکنے کے لیے فوری اور مضبوط کردار ادا کریں۔ روس جو شام میں پہلے ہی ایک اہم اتحادی کے طور پر سرگرم ہے، اگر خاموش رہا تو یہ خاموشی اسے خطے میں ایک غیر موثر طاقت بنا دے گی۔ چین، جو ایران کا معاشی شراکت دار ہے اور خطے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، اسے بھی کھل کر سفارتی اور اخلاقی موقف اپنانا ہو گا تاکہ جنگ کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔ یورپی یونین، جس نے ماضی میں ایران نیوکلیئر ڈیل میں ثالثی کا کردار ادا کیا، اسے صرف تشویش کا اظہار کرنے سے آگے بڑھنا ہو گا۔ اگر یورپ واقعی عالمی امن اور قانون کی بالادستی چاہتا ہے، تو اسے امریکہ اور اسرائیل پر سخت سفارتی دباؤ ڈالنا ہو گا تاکہ جنگ کا دائرہ مزید وسیع نہ ہو۔
پاکستان نے موجودہ صورت حال میں غیر معمولی جرات مندی اور بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایرانی عوام اور حکومت کی حمایت میں پارلیمنٹ کی قرارداد نہ صرف برادر اسلامی تعلقات کی علامت ہے بلکہ پاکستان کی اصولی خارجہ پالیسی کا بھی اظہار ہے۔ ایران کی قیادت نے اس پر شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کے اس اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔
اب وقت ہے کہ پاکستان، ترکی، سعودی عرب، قطر، ملائیشیا، انڈونیشیا، اور دیگر اسلامی ممالک مل کر ایک متحد بلاک تشکیل دیں، جو نہ صرف اسرائیل کی جارحیت کی مذمت کرے بلکہ اقوامِ متحدہ میں موثر سفارتی دباؤ ڈالے تاکہ ایران کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔ اگر آج ایران کے خلاف طاقت کے ذریعے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کامیاب ہو گئی تو یہ ایک خطرناک مثال قائم کرے گی جو کل کسی اور ملک کے خلاف دہرائی جا سکتی ہے۔
دنیا کو یہ سمجھنا ہو گا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں رہے گی۔ تیل کی قیمتیں، عالمی تجارت، مہاجرین کا بحران، اور مذہبی شدت پسندی جیسے مسائل پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ لہٰذا، اگر دنیا واقعی امن کی خواہاں ہے تو اسے اس جنگ کو رکوانا ہو گا۔ بات چیت، احترام، اور سفارتکاری کے ذریعے۔


