سلیم سرور: ایک خواب زدہ مسافت
یہ کہانی ایک ایسے چراغ کی ہے جو اندھیروں میں جلا، تیز ہواؤں سے ٹکرایا، ٹمٹمایا، بجھا نہیں۔ محمد سلیم سرور۔ جس کی زندگی کی کتاب میں ہر ورق جدوجہد، استقامت، اور امید کی روشنائی سے لکھا گیا۔ 15 اگست 1993 ء کو بورے والا کے نواحی گاؤں 417 /E۔ B میں پیدا ہوا۔ سلیم کے والد، محمد سرور، اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے۔ زندگی کی گاڑی اکیلے ہی کھینچنی پڑی۔ معاشی حالات ابتدا ہی سے ناموزوں تھے، مگر انھوں نے جانوروں کے بیوپار کو ذریعہ معاش بنا کر اپنے کنبے کے لیے زندگی کی گاڑی کسی نہ کسی طور کھینچی۔ وہ اور ان کی شریکِ حیات دونوں ہی ناخواندہ تھے۔ ان کے لیے دستخط کرنا بھی ایک دقت طلب عمل تھا۔ شاید اسی لیے سلیم کی ابتدائی تعلیم پر توجہ دینا ان کے لیے ممکن نہ ہو سکا۔ مگر قدرت نے سلیم کے لیے کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا۔
سلیم کی عمر جب چھے برس کو پہنچی تو اس کے والد کے ایک مخلص دوست نے اُسے قریبی گاؤں چک نمبر 409 /E۔ B کے گورنمنٹ ہائی اسکول میں داخل کروایا۔ یہ پہلا قدم تھا، اور آغاز ہی ایسا کہ کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ یہ سلسلہ جاری رہا۔ ہر سال امتیازی حیثیت سے کام یاب ہوتا رہا یہاں تک کہ میٹرک میں اسکول سے نمایاں کام یابی حاصل کی اور آنر بورڈ پر نام کندہ کروانے میں سرخرو ہو گیا۔ ایک معمولی گھرانے سے نکلنے والے طالب علم کے لیے یہ بہت بڑی کام یابی تھی۔
مگر حالات ہمیشہ مہربان نہیں رہتے۔ غربت نے ایک بار پھر آسودگی کی راہ میں روڑے اٹکانے کا سلسلہ شروع کیا اور تعلیم کا تسلسل رک گیا۔ سلیم لاہور جا پہنچا جہاں ایک دفتر میں معمولی آفس بوائے کی حیثیت سے کام کرنے لگا۔ مگر محنت اور لگن کی جوت اندر سلگ رہی تھی۔ دن کی ساعتیں کام کے لیے مختص اور رات کی گھڑیاں پڑھائی کے سپرد ہونے لگیں۔ دو سال میں انٹرمیڈیٹ، وہ بھی فرسٹ ڈویژن سے مکمل کیا۔ پھر بورے والا واپس آ کر کھاد کی کمپنی میں مارکیٹنگ کے شعبے میں ملازمت اختیار کی اور ساتھ ساتھ گورنمنٹ ڈگری کالج میں بی اے میں داخلہ لے لیا۔
سلیم نے پاک فوج میں جانے کا خواب بھی دیکھا۔ لانگ کورس کا امتحان دیا، مگر بدقسمتی سے آئی ایس ایس بی میں کامیاب نہ ہو سکا۔ مارکیٹنگ کا کام جسمانی اور ذہنی طور پر تھکا دینے والا تھا۔ گریجویشن میں سیکنڈ ڈویژن نے وقتی مایوسی پیدا کی، لیکن یہ مایوسی دیرپا ثابت نہ ہوئی۔ سلیم نے اپنے لیے ایک نئی راہ تلاش کی۔
اس نے ایک چھوٹا سا ہوٹل کھولا، مگر کاروباری دنیا کے پیچ و خم اس کے لیے ناآشنا تھے۔ کام یابی نہ مل سکی اور قرضوں کا بوجھ بڑھتا گیا۔ اس نے ہجرت کا ارادہ کیا اور بورے والا کو خیر باد کہہ کر اسلام آباد کا رخ کیا۔ وہاں ایک نجی کالج میں انگریزی پڑھانے لگا۔ اس کی قابلیت، اندازِ تدریس اور محنت نے اس کی پہچان بنا دی۔ اگرچہ اس نے باقاعدہ ایم۔ اے انگریزی نہیں کیا تھا، مگر اس کی کارکردگی دیکھ کر اداروں کو یقین ہو گیا کہ یہ تعلیم یافتہ اور اہل استاد ہے۔
اسی دوران بہاءالدین زکریا یونی ورسٹی سے ایم اے اردو بطور پرائیویٹ امیدوار پاس کیا۔ 2019 ء میں قائداعظم کالج میں اردو لیکچرر کی حیثیت سے تدریسی ذمے داریاں سنبھالیں پھر اسی سال نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد میں ایم فل اردو میں داخلہ لے لیا۔ جہاں پریم چند، منٹو، غلام عباس اور احمد ندیم قاسمی جیسے افسانہ نگاروں کے گہرے مطالعے نے افسانہ نویسی کی طرف رجحان پیدا کیا۔ 2021 ء میں پہلا افسانہ ”ماں کا دم“ کراچی کے ایک معروف جریدے میں طبع ہوا۔ یہ محض ایک ادبی تخلیق نہ تھی، یہ سلیم کی اندرونی تڑپ اور مشاہدے کی پہلی گونج تھی۔
نومبر 2022 ء میں ایم فل مکمل ہوا۔ مگر خوشی کے اس سنگ میل پر غم نے دستک دی۔ ایم فل کی ڈگری حاصل کرنے سے محض ایک ماہ قبل ان کے والد دماغی فالج کے باعث انتقال کر گئے۔ خواب پورا ہوا، لیکن وہی شخص جو اس خواب کی تعبیر دیکھنا چاہتا تھا، اس دنیا سے رخصت ہو چکا تھا۔
2023 ء میں کہانی کار نے اپنے ایم فل کے تحقیقی کام کے ایک جزو کو کتابی صورت دی۔ گویا صاحب تصنیف قرار پائے ”اردو ادب: تقابلی مطالعہ، ضرورت و اہمیت“ کے عنوان سے کتاب شائع ہوئی۔ یہ اردو ادب کے طلبہ و گرویدہ افراد کی تحسین و پذیرائی کا باعث ٹھہری۔ مابعد سال 2024 ء میں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ”ٹیوشن سینٹر“ منصۂ شہود پر آیا۔ مگر جیسے غم ان کا سایہ بن چکا ہو۔ کتاب کی اشاعت کے کچھ ہی دن بعد ان کے ایک بھائی کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ ان کی زندگی کا ایک نہ بھولنے والا زخم بن کر رہ گیا۔ اس واقعے نے سلیم کو بہت مضمحل کیا۔
اب سلیم سرور نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد سے پی ایچ ڈی کے تحقیقی کام میں محو ہیں۔ ان کا تحقیقی موضوع : ”معاصر اردو ناول میں جنسیت کا اقتصادی تناظر“ ہے۔ ان کے پندرہ سے زائد تحقیقی مضامین پاکستان اور بھارت کی مختلف جامعات کے تحقیقی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ وہ مختلف قومی و بین الاقوامی کانفرنسز میں مقالے بھی پڑھ چکے ہیں اور گزشتہ دس برس سے شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔
خاندانی لحاظ سے سلیم سرور چار بہنوں اور دو بھائیوں پر مشتمل خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ تین بہنیں شادی شدہ ہیں، ایک چھوٹی بہن اور ایک چھوٹا بھائی غیر شادی شدہ ہیں۔ جب کہ ایک بھائی سفاکانہ قتل کا نشانہ بن چکا ہے، جو ان کے لیے ایک دائمی دکھ کی صورت آج بھی دل میں دھڑکتا ہے۔ نومبر 2022 ء میں انھوں نے ازدواجی زندگی کا آغاز کیا اور دسمبر 2023 ءمیں ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی جس کا نام قِیم بن سلیم رکھا۔ امید واثق ہے کہ انشاء اللہ یہ نیا چراغ، ان کی روشن راہ کو مزید منور کرے گا۔


