دو دنیائیں


یوری پاولوف کا کمرہ کتابوں سے بھرا ہوا تھا۔ دیوار پر پرانی تصویریں لٹک رہی تھیں۔ ایک تصویر میں گورکی اپنے کتے کے ساتھ بیٹھا مسکرا رہا تھا، دوسری تصویر چیخوف کی تھی جس میں اس کی آنکھوں میں تھکن اور زندگی دونوں جھلک رہے تھے۔ یوری کی میز پر دھندلے شیشوں کی عینک پڑی رہتی جسے وہ تب پہنتا جب لفظ دھندلانے لگتے۔

زندگی ایک عرصے سے ایک ہی دائرے میں چل رہی تھی۔ صبح چائے، دوپہر کچھ نوٹ لکھنے کی کوشش، اور شام کو خاموشی سے کھڑکی سے باہر جھانکنا۔ شہر ویسا نہیں رہا تھا جیسا وہ اسے جانتا تھا، مگر اس کے اندر کا شہر اب بھی ادبی کتابوں، ضمیر کی خلش، اور ریاستی خوف کے بیچ آباد تھا۔

پیوتر ایلکسیوچ کی دنیا الگ تھی۔ وہ فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ مشینوں کی آواز اس کے دل کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہو چکی تھی۔ وہ نظام کا ایک پرزہ تھا، اور اسے اس پر فخر تھا۔ پارٹی کے جلسے، ریڈ بُک، اور کارل مارکس کے اقوال اس کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔ وہ جانتا تھا کہ معاشرہ فرد سے بڑا ہے، اور فرد کا سب سے بڑا ہنر وفاداری ہے۔

دونوں ایک ہی شہر میں رہتے تھے، لیکن ان کے درمیان ایک ایسا فاصلہ تھا جسے نہ راستہ پا سکتا تھا، نہ سلام۔ یوری سوال کرتا تھا، پیوتر جواب مانے بغیر جیتا تھا۔ ایک دن فیکٹری میں حادثہ ہوا۔ چند مزدور دب گئے۔ اخبار نے رپورٹ چھاپی: ”حادثہ معمولی نوعیت کا تھا، سب کچھ نظم کے تحت رہا۔“

یوری نے اس پر ایک کہانی لکھی۔ کہانی ایک مزدور کے آخری دن پر تھی، جو مشین کے نیچے آیا اور مرتے وقت صرف ایک سوال چھوڑ گیا تھا: کیا ہم مرنے کے لیے کام کرتے ہیں یا جینے کے لیے؟

یہ کہانی سرکاری جریدے میں چھپ نہ سکی، مگر وہ ایک غیر رسمی رسالے کے ذریعے پھیل گئی۔ پیوتر نے جب اسے پڑھا تو اسے سخت غصہ آیا۔ اس نے یہ بات اپنے ساتھیوں سے کہی کہ یوری ریاست کا دشمن ہے، وہ شک پیدا کرتا ہے۔ مگر رات کو وہ دیر تک جاگتا رہا۔ کہانی میں جو سچائی تھی، اس نے اس کے اندر کچھ ہلایا ضرور تھا۔

کچھ ماہ بعد ایک مقامی ثقافتی مرکز میں دونوں کا آمنا سامنا ہوا۔ یہ ایک مباحثہ تھا، موضوع تھا: ”ادب ریاست کا خادم ہے یا نگران؟“ یوری نے کہا کہ اگر ادب سوال نہ اٹھائے تو وہ نعرہ ہے۔ پیوتر نے جواب دیا کہ ادب ریاست کی خدمت نہ کرے تو وہ غداری ہے۔

یہ مکالمہ وہاں ختم ہو گیا، مگر ان کے اندر جاری رہا۔ وقت گزرتا گیا۔ یوری اب عوامی منظرنامے سے ہٹ چکا تھا۔ اس کی کتابیں الماریوں میں بند رہتیں، اور وہ خود ساختہ تنہائی میں لفظوں سے کھیلتا رہتا۔ پیوتر ریٹائر ہو چکا تھا۔ وہ اکثر اس پارک میں جا بیٹھتا جہاں پرانی نسل کے چند دوست اپنے زخموں کے ساتھ بیٹھتے تھے۔

پھر وہ لمحہ آیا جب سوویت یونین تحلیل ہو گیا۔ گورباچوف کی اصلاحات نظام کو سنبھالنے کے بجائے کھول گئیں۔ عوام کو ایک نئی دنیا ملی، جس میں وہ اجنبی تھے۔ نعرے بدل گئے، پرچم اتر گئے، دیواریں گر گئیں۔ لیکن انسان وہی رہا، بس اس کی آنکھوں میں اب حیرانی زیادہ تھی۔

یوری ایک خاموش استاد بن گیا۔ وہ ادب نہیں، ”برانڈ اسٹوری ٹیلنگ“ پڑھانے پر مجبور تھا۔ مارکس، لینن، چیخوف اور پاسترناک، سب نصاب سے غائب ہو گئے۔ پیوتر ایک ریٹائرڈ مزدور تھا، جس کے تمغے ایک دراز میں پڑی تھے جنہیں اس کا پوتا ایک دن آن لائن بیچ آیا۔

دونوں ایک دن پھر ملے۔ ایک سرد دوپہر تھی۔ بینچ پر بیٹھے دونوں بوڑھے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہے۔ خاموشی طویل رہی۔ پھر یوری نے کہا، ”ہم اپنی اپنی سچائی کے قیدی تھے۔“ پیوتر نے گردن ہلائی، اور آہستہ سے کہا، ”اور دونوں نے مکمل سچ کبھی دیکھا ہی نہیں۔“

یوری نے مرنے سے پہلے ایک نوٹ لکھا۔ وہ نوٹ مختصر تھا: ”ادب صرف آئینہ نہیں، وہ چاقو بھی ہے۔“ پیوتر نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں خاموشی اختیار کر لی۔ جو شخص عمر بھر نعرے لگاتا رہا، وہ اب صرف سنتا تھا۔

وقت گزرا۔ فیکٹری کی جگہ کیفے بن گئے۔ کتابوں کی دکانوں کی جگہ اسٹار بکس نے لے لی۔ یونیورسٹیاں ڈگری دیتی تھیں، علم نہیں۔ ہر چیز فروخت ہو رہی تھی۔ سچ بھی، خواب بھی۔

یوری اور پیوتر اب زندہ نہیں تھے۔ مگر ان کی قبریں ایک ہی قطار میں تھیں۔ ایک پر ایک پرانا قلمی نشان، دوسری پر زنگ آلود ہتھوڑی۔ دونوں کی قبروں پر ایک ہی جملہ لکھا گیا تھا: ”ہم دو دنیائیں تھے، مگر ایک ہی سچ کی تلاش میں جئے۔“

شاید یہی اصل تاریخ ہے۔ نظام گرتے ہیں، تعمیر ہوتے ہیں۔ نام بدلتے ہیں، جھنڈے اترتے ہیں۔ لیکن اگر انسان اپنے اندر کے سوال سے واقف نہ ہو تو وہ ہر نظام میں قید ہی رہتا ہے۔

Facebook Comments HS