سندھ کے قدیم حکمران
اسکاٹ لینڈ کے ڈاکٹر جیمس برنس، اکتوبر 1827 میں (براستہ ہندستانی گجرات) سندھ آئے۔ انہیں اس وقت کے تالپور فرمانروا میر علی مراد نے اپنے علاج کے لیے حیدرآباد مدعو کیا تھا۔ ڈاکٹر جیمس برنس وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے سندھ میں جدید ادویات متعارف کرائیں تھیں اور ان ہی کی بدولت، سندھ میں لوگوں نے پہلی بار بخار کے لیے کونین کی گولی کھائی تھی۔
سندھ میں ڈاکٹر برنس نے کوئی ڈھائی مہینے قیام کیا اور انگلستان لوٹنے کے بعد اس سفر کا تفصیلی تذکرہ ’اے نیریٹو آف اے وزٹ ٹو دا کورٹ آف سندھ‘ (دربارِسندھ کا احوال) نامی کتاب میں لکھا۔ ڈاکٹر برنس سے قبل ناتھن کرو اور ہِنری پاٹنجر بھی سندھ کے بارے میں اپنے مشاہدات قلمبند کرچکے تھے، لیکن ڈاکٹر برنس کی اس تصنیف میں سندھ کے حکمران گھرانے کے بارے میں پہلے قریبی اور ذاتی تاثرات دیے گئے ہیں۔ اس نے فقط میر علی مراد کا طبی معائنہ ہی نہیں کیا بلکہ حکمرانوں کے آپس میں تعلقات اور فوجی نقل و حرکت کی بھی اچھی طرح چھان بین کی۔
ڈاکٹر برنس نے اپنی یہ تصنیف سب سے پہلے 1829 میں بمبئی سے شائع کی۔ پھر 1974 میں ’آکسفورڈ ایشیا کی دوبارہ شائع ہونے والی تاریخی کتابیں‘ سلسلے کے تحت چھاپی گئی۔ 1974 میں، سندھ اور بلوچستان کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے خصوصی مشیر، معروف اسکالر ایچ ٹی لیمبرک تھے جو کہ انگریز عہد حکومت میں اہم انتظامی عہدوں پر کام کرتے رہے تھے۔ ڈاکٹر برنس کے بڑے بھائی اور انگریزوں کے پولیٹکل ایجنٹ، الیگزینڈر برنس، 1841 میں پہلی افغان جنگ کے دوران افغان باغیوں کے ہاتھوں بیدردی سے قتل ہوئے تھے۔
ہر نو آبادیاتی مصنف کی طرح ڈاکٹر برنس کا بھی ایک مقصد تھا کہ دریائے سندھ اور اس سے منسلک کاروبار، سندھ کو افغانستان پر حملے کے لیے فوجی اڈے کے طور پر استعمال کرنا اور صوبے کو درست قسم کا طرزِ ریاست دینے کے ضمن میں معلومات اکٹھی کرنا۔
سندھ کے حکمرانوں میں، نواب ولی محمد لغاری ڈاکٹر برنس کو سب سے زیادہ پسند آئے۔ یہاں تک کہ کتاب کے سرورق پر بھی نواب ولی محمد کی ایک تصویر دی گئی ہے۔ نواب ولی محمد اس وقت حکومتِ سندھ میں وزیر اعظم کے عہدے پر تھے۔
نواب ولی محمد لغاری کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ ایک کامیاب منتظم، فوجی جرنیل، سفارتکار، انجنیئر، شاعر اور طبی علوم کے ماہر حکیم تھے۔ سال 1779 میں تالپور حکومت قائم ہونے کے بعد وہ امیرانِ سندھ کے ساتھ رہے اور مستحکم حکومت قائم کرنے میں ان کا کلیدی کردار رہا ہے۔ صوبے میں اندرونی امن امان قائم رکھنے کے علاوہ، تالپور حاکموں کی خارجہ پالیسی بھی انہی کی بنائی ہوئی ہے جس کے تحت سندھ کی تاریخی سرحدوں کو دوبارہ بحال کیا گیا۔ نواب ولی محمد کی سفارتکاری سے کراچی کو قلات سے واپس لیا گیا جس کے بعد حب ندی کو سندھ اور بلوچستان کے مابین سرحد تسلیم کیا گیا۔ اسی طرح 1810 میں شکارپور کو افغانوں سے اور 1813 میں عمر کوٹ کو جودھ پور سے، سبزل کوٹ اور سنگرپور، بہاولپور سے واپس لیے۔ اُن کی وزات کے دوران، سرحدوں کے دفاع کی ایک موثر پالیسی بنائی گئی جس کے بعد اسلام کوٹ، نؤں کوٹ، مٹھی (تھرپارکر) اور نوشہرو ابڑو (شکارپور) میں دفاعی قلعے تعمیر کیے گئے اور فوج تعینات کی گئی۔
سندھ میں قبائل کے مابین صلح کروانے کے لیے بھی نواب ولی محمد نے بنیادی کام کیے۔ کراچی اور شکارپور کے اضلاع میں جوکھیہ، چانڈیو اور نومڑی قبائل میں صلح کے لیے ثالثی کی۔ نواب ولی محمد کچھ عرصہ چانڈکا (موجودہ لاڑکانہ) کے گورنر رہے، جس میں دادو، شکارپور اور سکھر کے اضلاع شامل تھے۔ ان علاقوں کے طاقتور قبیلے تالپور حاکموں کے خلاف تھے۔ نواب ولی محمد نے ان کے ساتھ صلح کی اور انہیں تالپور حاکموں کا وفادار اور پڑوسی قبائل کے ساتھ جنگ نہ کرنے کا پابند بنایا۔ ان علاقوں میں ذی اثر قبائل کو اپنے ساتھ ملانے کا مقصد، ان اضلاع کو بیرونی غلامی اور اثر نفوذ سے نکال کے حکومتِ سندھ کا وفادار بنانا تھا۔ سندھ کے محمکۂ آبپاشی کے لیے بھی انہوں نے بہت کام کیا ہے اور محکمے کے لیے لگان اور آبیانے کا موثر نظام تشکیل دیا۔
ڈاکٹر برنس کے مطابق تالپور حکمران، سورج طلوع ہونے سے دو گھنٹے پہلے اپنا کام کاج شروع کرتے ہیں۔ ہر امیر اپنے ماتحت علاقے کے لوگوں سے ملاقاتیں کرتا ہے، ان کے مسائل سنتا ہے اور اور انہیں حل کرتا ہے۔ سورج نکلنے کے بعد ، کپڑے بدل کے سب اکٹھے دربار میں بیٹھتے ہیں اور مل کر ریاستی امور چلاتے ہیں۔ اس دوران، پچھلی رات پہنچنے والے خطوط کے فارسی زبان میں جوابی مراسلے اور حکم نامے لکھواتے ہیں۔ شسُتہ فارسی بولتے ہیں۔ دوپہر گیارہ بجے، مجلس برخواست کر کے، پھر دوپہر دو بجے دوبارہ دربار لگاتے ہیں اور سورج غروب ہونے تک وہیں بیٹھے رہتے ہیں۔


