افسانہ: نُور کی تلاش


کہا جاتا ہے کہ ہر صدی میں ایک بار آسمان کے کنارے پر ایک دراڑ پیدا ہوتی ہے۔ ایک شگاف، جو ہمارے اور دوسری کائناتوں کے درمیان پردے کو چیر دیتا ہے۔

یوسف، ایک گوشہ نشین نوجوان، شمالی پہاڑوں کے دامن میں آباد ایک گاؤں ”خُندار“ میں رہتا تھا۔ وہ خاموش طبع، مگر شدید متجسس دل کا مالک تھا۔ جب دوسرے چرواہے بکریوں کے ساتھ کھیلتے، یوسف آسمانوں کی طرف تکتا رہتا، جیسے کسی پکار کو سننے کی کوشش میں ہو۔ ایک رات، جب آسمان پر نیلا چاند پورے جوبن پر تھا، یوسف کو ایک خواب آیا۔ خواب میں وہ ایک جنگل میں بھٹک رہا تھا۔ لیکن وہ کوئی عام جنگل نہیں تھا۔ وہاں کے درختوں کی شاخیں چاندی کی تھیں، پتے روشنی بکھیرتے تھے، اور ہوا میں عطر کی سی خوشبو تھی۔ ایک عورت۔ دلکش اور طلسماتی اس کے قریب آئی۔ اس کی آنکھیں کہکشاؤں کی مانند تھیں، اور آواز ہلکی گھنٹی کی طرح۔

”یوسف، وقت آ گیا ہے۔ دروازہ کھل چکا ہے۔ تمہیں نُور کی تلاش میں نکلنا ہو گا۔“

یوسف جاگا تو اس کے کمرے میں ٹھنڈی نیلی روشنی پھیل رہی تھی۔ اس کے بستر کے قریب زمین پر ایک شگاف تھا۔ اصل، حقیقی، اور دھڑکتا ہوا۔

یوسف نے ہچکچاتے ہوئے اس شگاف میں قدم رکھا۔ لمحے بھر میں وہ کسی اور ہی دنیا میں تھا۔ ایک سرسبز وادی، جسے ”ایلیا“ کہتے تھے۔ آسمان سرخ اور نارنجی رنگ میں ڈوبا ہوا تھا۔ پرندے سنہری تھے، اور پھول نغمے گاتے تھے۔ وہاں اس کی ملاقات زارینا نامی عورت سے ہوئی۔ ایک جنگل کی نگہبان، جو قدیم درختوں کی زبان جانتی تھی۔ اس کا جسم تتلیوں سے ڈھکا ہوا تھا، اور وہ چلتی تو زمین پر پھول کھلتے۔ زارینا نے بتایا کہ ”نُور“ دراصل ایک الہٰی روشنی ہے، جو سات کائناتوں میں بکھر گئی ہے۔ ہر کائنات ایک پہیلی ہے، اور یوسف کو ہر پہیلی کو حل کر کے اگلی دنیا کا دروازہ کھولنا ہو گا۔

”لیکن یاد رکھو، ہر روشنی کے پیچھے ایک سایہ چھپا ہوتا ہے۔“

زارینا کے ساتھ سفر کرتے ہوئے، یوسف ایک ایسے پہاڑ تک پہنچا جو بولتا تھا۔ یہ ”پہاڑِ آواز“ کہلاتا تھا، جہاں گونجنے والی ہر آواز ماضی کے کسی راز سے جڑی ہوتی۔

یہاں اس نے پہلی بار اپنے والد کی گمشدگی کا راز جانا۔ اس کے والد بھی کبھی نُور کی تلاش میں نکلے تھے، مگر سایہ برداروں نے انہیں قید کر لیا تھا۔ سایہ بردار وہ مخلوق تھی جو نُور کو اندھیرے میں قید رکھتی تھی۔

یہاں اس کی ملاقات مختلف عورتوں سے ہوتی ہے، جو ہر کائنات میں اُس کی رہنما بنتی ہیں۔
نیسا، نیلے پانیوں کی جھیل میں رہنے والی، جس کی آواز سے دریا راستہ چھوڑ دیتے ہیں۔
لارا، آتش فشانی پہاڑ کی بیٹی، جس کے قدموں سے آگ کے پھول کھلتے ہیں۔
سایونی، چاندنی راتوں کی رقاصہ، جو خوابوں میں ظاہر ہو کر گمشدہ راستے دکھاتی ہے۔

ان سب عورتوں کا حسن جاذب، مگر وجود دانائی سے لبریز تھا۔ یوسف کے لیے وہ صرف خوبصورتی کی علامت نہ تھیں، بلکہ ہدایت، قربانی اور قوت کی مجسم صورتیں تھیں۔ یوسف نے ان سب کے ساتھ کئی دن اور وہ راتیں گزاریں اور علم و دانش، حسن و خوبصورتی اور عشق و سرور پر ان کی سحر انگیز گفتگو سے بہت متاثر ہوا۔

جب یوسف ساتویں کائنات میں داخل ہوا، اسے ایک آئینہ دیا گیا۔ جو صرف سچ دکھاتا تھا۔ اس نے آئینے میں جھانکا تو خود کو نُور بنتے دیکھا۔ تب اسے احساس ہوا۔

”نُور کہیں باہر نہیں، یہ تو میرے اندر کا عرفان تھا۔ میرا سفر دراصل اپنی اصل کی تلاش تھا۔“

یوسف واپس دنیا میں لوٹا تو اب وہ وہی شخص نہ تھا۔ اس کی آنکھوں میں دوسری کائناتوں کی جھلک تھی، اس کی زبان خاموش مگر بامعنی، اور اس کی روح، نُور سے لبریز تھی۔

لوگ آج بھی اس جنگل میں اُس شگاف کو ڈھونڈتے ہیں۔ شاید کسی کو پھر بلاوا آ جائے۔

Facebook Comments HS