ایران، اسرائیل پر حملے ضروری کیوں سمجھتا ہے؟


مشرقِ وسطیٰ کی فضا ایک بار پھر بارود کی مہک سے آلودہ ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جو کشیدگی دیکھی گئی، وہ محض ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ ایک تاریخی کشمکش کا تسلسل ہے، جو وقت کے ساتھ اور بھی گہرا اور سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ ایران کے میزائل اور ڈرون حملے صرف ردعمل نہیں تھے، بلکہ برسوں سے چلے آنے والے دباؤ، اشتعال، اور بے بسی کا ایک مکمل اور منظم اظہار تھے۔

ایران نے ان حملوں کو ایک جوابی کارروائی قرار دیا، مگر ان کے پیچھے کئی گہرے محرکات چھپے ہوئے ہیں۔ ایک طرف فلسطینی کاز کے لیے اس کی مستقل حمایت ہے، دوسری طرف اسرائیل کی جانب سے ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت، ایٹمی پروگرام میں خلل ڈالنے کی کوششیں، اور ایران کے اعلیٰ ترین فوجی اور سائنسی دماغوں کو نشانہ بنانا، تہران کو ایسے مقام تک لے آیا جہاں خاموش رہنا ممکن نہ رہا۔

ایران کا موقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ اسرائیل ایک قابض ریاست ہے جو نہ صرف فلسطینیوں کے حقوق پامال کر رہا ہے بلکہ خطے میں عدم استحکام کی بنیادی جڑ بھی ہے۔ تہران سمجھتا ہے کہ جب تک اسرائیل کو طاقت کے ساتھ جواب نہ دیا جائے، وہ نہ صرف فلسطین بلکہ پورے خطے میں اپنی جارحانہ پالیسی جاری رکھے گا۔

ایران کے لیے یہ لڑائی صرف سیاسی یا جغرافیائی نہیں، بلکہ ایک نظریاتی جنگ بھی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی بنیاد ہی فلسطین کی آزادی، مزاحمت، اور سامراجی قوتوں کے خلاف کھڑے ہونے پر رکھی گئی تھی۔ اسی لیے ایران اسرائیل کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کو صرف عسکری حکمتِ عملی نہیں بلکہ انقلابی فریضہ بھی سمجھتا ہے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایران کے خلاف اسرائیل کی کارروائیاں نئی نہیں ہیں۔ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت 2020 میں بغداد ائرپورٹ پر امریکی حملے میں ہوئی، مگر اس کے پیچھے اسرائیلی انٹیلی جنس کا بھی ہاتھ بتایا گیا۔ قاسم سلیمانی صرف ایک جنرل نہیں بلکہ پورے خطے میں ایران کی حکمتِ عملی کے معمار تھے۔ ان کی شہادت نے ایران کو یہ سبق دیا کہ اس کی قیادت اور منصوبہ بندی اب محفوظ نہیں رہی۔

اس کے بعد محسن فخری زادہ جیسے اہم جوہری سائنسدان کو دن دیہاڑے قتل کر دیا گیا۔ محسن فخری زادہ وہ شخص تھے جنہیں ایران کے ایٹمی پروگرام کا دماغ تصور کیا جاتا تھا۔ ان کا قتل بھی ایران کے لیے ایک اعلانِ جنگ سے کم نہ تھا۔

حالیہ دنوں میں جو واقعات پیش آئے ہیں، انہوں نے ایران کی برداشت کی حد کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔ اسرائیل کے میزائل حملوں میں ایران کی اعلیٰ ترین عسکری قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ جنرل حسین سلامی، جنرل محمد باقری، جنرل امیر علی حاجی زادہ، جنرل غلام علی راشد، اور علی شمخانی یہ وہ نام ہیں جو نہ صرف عسکری قیادت کے ستون تھے بلکہ نظریاتی رہنما بھی سمجھے جاتے تھے۔ ان کی شہادت ایران کے لیے صرف افراد کا نقصان نہیں بلکہ ایک ادارہ جاتی ضرب تھی۔

ایران کو یہ بھی احساس ہوا کہ اسرائیل اب اس کے اندرونی معاملات میں کھل کر مداخلت کر رہا ہے۔ تہران کے قریب حساس تنصیبات پر حملے، ایٹمی پلانٹس کو نشانہ بنانا، اور خفیہ کارروائیاں، یہ سب کچھ ایران کے لیے ناقابلِ قبول ہوتا جا رہا تھا۔ تہران کو اب صرف ردعمل دینا ہی نہیں، بلکہ آئندہ کے حملوں سے باز رکھنے کے لیے ایک ڈرانے والا پیغام دینا بھی ضروری تھا۔

خطے میں ایران کے اتحادیوں حزب اللہ، حماس، اسلامی جہاد، اور یمن میں انصار اللہ کی جانب سے بھی دباؤ تھا کہ ایران اب صرف بیانات سے کام نہ لے بلکہ عملی کارروائی کرے۔ ایران نے حالیہ حملوں کے ذریعے اپنے اتحادیوں کو یقین دلایا کہ وہ صرف نظریاتی حامی نہیں بلکہ عملی محافظ بھی ہے۔

داخلی طور پر بھی ایران کو ایک مضبوط موقف کی ضرورت تھی۔ مہنگائی، پابندیاں، بے روزگاری، اور عوامی ناراضگی جیسے مسائل میں حکومت کے لیے یہ بہت اہم تھا کہ وہ قوم کو کسی بڑے بیرونی خطرے کے خلاف متحد رکھے۔ اسرائیل کے خلاف حملے اس مقصد کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوئے۔ ایران کے ریاستی میڈیا نے اسے قومی فخر اور خودداری کی علامت کے طور پر پیش کیا۔

ایران کے حملے صرف عسکری نوعیت کے نہیں تھے، بلکہ ان میں ٹیکنالوجی، منصوبہ بندی، اور حکمتِ عملی کا بھرپور استعمال کیا گیا۔ ایران نے میزائل، ڈرون، اور سائبر حملوں کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ وہ صرف دفاعی قوت نہیں، بلکہ حملہ آور طاقت بھی بن چکا ہے۔ یہ حملے اسرائیل کے دفاعی نظام کے لیے بھی ایک امتحان بنے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ کشیدگی ایک مکمل جنگ میں تبدیل ہو گی؟ یا عالمی طاقتیں مداخلت کر کے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لے آئیں گی؟ اس وقت حالات نہایت نازک ہیں۔ ایران واضح کر چکا ہے کہ اگر اسرائیل نے اس کے اندرونی نظام یا قیادت کو پھر سے نشانہ بنایا، تو اس بار جواب اور بھی شدید ہو گا۔

دوسری طرف اسرائیل بھی اپنی حکمت عملی سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ وہ ایران کو مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا خطرہ تصور کرتا ہے، اور اسے نیوکلیئر طاقت بننے سے روکنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔

یہ ایک ایسا لمحہ ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی تقدیر کا فیصلہ صرف بندوقوں سے نہیں بلکہ عقل، سفارت کاری، اور تدبر سے کیا جا سکتا ہے۔ ایران کے لیے اب خاموشی کمزوری بن چکی ہے، اور اسرائیل کے لیے جارحیت ایک خطرناک کھیل۔ اگر اس کشیدگی کو روکا نہ گیا تو اس کے شعلے صرف ایران اور اسرائیل کو ہی نہیں، بلکہ پورے خطے کو جلا ڈالیں گے۔

فی الحال اتنا ہی کہا جا سکتا ہے :
ایران نے بتا دیا ہے کہ ہر وار کا جواب ہے، اور ہر شہادت ایک نئے طوفان کی نوید۔

Facebook Comments HS