حجاج بن یوسف۔ (حصہ اول)

ظلم تباہی کی بنیاد ہے اگرچہ چھوٹا ظلم ہی کیوں نہ ہو اور پھر چھوٹا ظلم بڑے ظلم تک لے جاتا ہے۔ اور پھر یہ عادت بن جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملک اور عوام دونوں تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ روایات میں آیا ہے کہ جب وہ پیدا ہوا تو اس نے اپنی ماں کا دودھ نہ پیا۔ ہر جتن اور کوشش کی گئی مگر سب بیکار۔ آخر کسی دانا نے مشورہ دیا کہ اس کو تین دن تک بھیڑ کا خون پلایا جائے تو چوتھے دن یہ بچہ عورت کا دودھ پینا شروع کر دے گا۔
چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ تو دوسرے لفظوں میں خون بچپن سے ہی اس کی گھٹی میں پڑ گیا تھا۔ بقول اس کے خون بہانے اور سفاکانہ افعال کرنے میں مجھ کو وہ لذت ملتی ہے جس کو صرف میں ہی محسوس کر سکتا ہوں۔ یہ بچہ کوئی اور نہیں بلکہ طائف کے مشہور قبیلے بنو ثقیف سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کا نام ابو محمد حجاج بن یوسف بن حکم بن ابو عقیل ثقفی تھا۔ اس کے والد کے شعبہ معاش کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں بعض میں اس کا پیشہ معلم یعنی استاد تھا اور بعض روایات میں سنگ تراشی اور معماری۔
ابتدائی تعلیم اس نے باپ سے حاصل کی اس کو بچپن سے اپنے ہم جماعتوں پر حکومت کرنے کا شوق تھا تعلیم سے فارغ ہو کر شروع میں استاد بن گیا مگر اس کو اطمینان نہیں ملتا تھا اس کی بہت بڑی خواہش تھی کہ میں حاکم بنوں۔ جن دنوں خلیفہ عبدالملک بن مروان نے شام کی امارت سنبھالی تو اس وقت دمشق علوم و فنون کا گڑھ بن چکا تھا کئی مدارس کھل چکے تھے دوسرا اموی حکومت اپنے استحکام کے لیے فوجی بھرتی کر رہی تھی جس کے لیے ان کو مضبوط اعصاب کے جوانوں کی ضرورت تھی تو حجاج کی ماں نے اس کو مشورہ دیا کہ تو بھی دمشق جا اور اپنی قسمت آزما۔
الغرض وہ طائف چھوڑ کر دمشق پہنچا شروع میں اس نے کوشش کی کہ کسی مدرسے میں درس و تدریس حاصل کر سکوں مگر اسی اثنا میں کسی نہ کسی طرح خلیفہ کے وزیر کی ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ وزیر کو اپنی جائیداد کے انتظام کے لیے کسی اچھے منتظم کی ضرورت تھی تو حجاج نے اس طرح امور سنبھالے کہ وزیر حیران رہ گیا مگر ملازمین کو یہ شکایت تھی کہ اس کا رویہ بہت سخت ہوتا ہے۔ انہی دنوں خلیفہ عبدالملک کو ایک ایسے شخص کی تلاش ہوئی جو کہ لشکر کا انتظام بہتر طریقے سے چلا سکے تو خلیفہ نے ایک دن شکایت والے انداز میں اپنے وزیر کو بولا کہ تم لوگ میرے اچھے وزیر مشیر ہو کہ نہ تو خود فوج کا انتظام بہتر طریقے سے چلا سکے نہ میرے لیے کوئی ایسا بندہ ڈھونڈ سکے جو اچھا انتظامی امور کا ماہر ہو اور شورشوں اور بغاوتوں کو بھی ختم کر سکے۔
تو اس بات کے جواب میں وزیر نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک ایسا بندہ ہے جو کہ آپ کے لشکر کے امور کو اس بہتر طریقے سے چلا سکتا ہے جیسی آپ کی خواہش ہے تو اس نے حجاج بن یوسف کا نام لیا۔ خلیفہ نے کہا کہ اس جوان کو فوراً پیش کیا جائے۔ حکم کی تعمیل ہوئی۔ خلیفہ نے گہری نظر سے حجاج کو دیکھا۔ پسند کیا اور فوراً لشکر کی کمان سونپ دی۔ پھر خلیفہ بولا کہ جیسے میری سواری روانہ ہو فوراً ہی لشکر کو کوچ کر جانا چاہیے۔ حجاج بولا امیر المومنین کے حکم کی تعمیل ہوا کرے گی۔
اس طرح وہ تھوڑے وقت میں ایک معمولی سپاہی سے ترقی پا کر فوج کے انتظامی امور کا انچارج بن گیا۔ حسن اتفاق یہ ہواء کہ اسی دن خلیفہ نے حکم دیا کہ میری سواری روانہ ہو گی تو لشکر کو فوراً تیار کیا جائے تاکہ کوچ کیا جا سکے۔ حجاج نے لشکریوں کو حکم دیا کہ فوراً تیار ہوں اور اس نے خود نگرانی شروع کر دی اسی اثنا ء میں اس نے دیکھا کہ وزیر میر روح اللہ کے کچھ سپاہی اور لشکری آرام سے سو رہے ہیں۔ اور کچھ کھانا وغیرہ پکا رہے ہیں۔
حجاج نے ان کو ڈانٹ کر کہا بغیر دیر کیے اُٹھ جاؤ اور لشکر کے ساتھ شامل ہو جاؤ۔ مگر ان لوگوں نے چونکہ حجاج کو اپنے ساتھی کے طور پر دیکھا ہواء تھا تو انہوں نے کہا کہ کیا ٹر ٹر لگا رکھی ہے تم بھی آؤ کھاؤ پیو اور موج کرو۔ اس پر حجاج سخت آگ بگولا ہواء اور کوڑا پکڑ کر ہر ایک کی پٹائی شروع کر دی پھر اس نے وزیر اور لشکریوں کے خیموں کو آگ لگا دی۔ جب وزیر روح اللہ واپس آیا تو اپنے اور رفیقوں کے جلے ہوئے خیمے اور ساتھیوں کی حالت دیکھ کر رو پڑا۔
خلیفہ کے پاس حاضر ہواء اور حجاج کی شکایت کی۔ اسی وقت حجاج کو بلایا گیا اور جواب طلبی کی گئی۔ حجاج نے انکار کیا کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ خلیفہ نے سوال کیا بتاؤ اگر تم نے وزیر میر روح اللہ کے خیموں کو آگ نہیں لگائی اور اس کے سپاہیوں کو زد و کوب نہیں کیا تو پھر ان کا یہ حال کس نے کیا ہے۔ اس پر حجاج بن یوسف نے برجستہ جواب دیا امیر المومنین نے ان کا یہ حال کیا ہے۔ خلیفہ نے حیران ہو کر پوچھا میں نے کیسے۔
حجاج بولا میں نے جو کیا خلیفہ کے حکم کی تعمیل میں کیا۔ ورنہ میری کیا مجال تھی کہ کوڑے مارتا۔ اس طرح میرا ہاتھ اب میرا ہاتھ نہیں یہ خلیفہ کا ہاتھ ہے۔ یہ بات سن کر خلیفہ اچھل پڑا اور بے ساختہ بولا بخدا مجھ کو ایسے ہی انسان کی تلاش تھی۔ اس کے بعد ہر گزرتے دن اور چڑھتے سورج نے حجاج کے لیے ترقی اور کامرانی کے نئے در وا ہوتے دیکھے۔ پھر وقت کی کروٹ نے یہ منظر بھی دیکھا کہ حجاج کو خلیفہ کی افواج کا سپہ سالار اعلی مقرر کر دیا گیا۔
اور پھر دن بدن وہ کامیابی کے زینوں پر چڑھتا چلا گیا۔ وہ ایک بڑے لیول کا خطیب اور ماہر شمشیر زن تھا۔ عبد الملک کی زیادہ تر فتوحات حجاج کی وجہ سے ممکن ہوئی تھیں۔ کیونکہ وہ بنی امیہ کی حکومت کے لیے نہ حلال دیکھتا تھا اور نہ حرام سب کچھ کرنے پر آمادہ ہو جاتا تھا۔ حجاج حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے خاندان سے نفرت کرتا تھا۔ بنو امیہ کے ساتھ وفاداری نبھانے کے لیے ہر حد تک چلا جاتا تھا۔ وہ اپنے دور کے سب سے بڑے ظالموں میں سے ایک تھا۔
وہ ذرا سا اختلاف برداشت نہیں کرتا تھا اور بات بے بات بلا دریغ خون بہا دیتا تھا وہ نہیں دیکھتا تھا کہ جس کو ناحق قتل کیا جا رہا ہے وہ تابعی ہے تبع تابعی یا اپنے دور کا بڑا فقیہ۔ دوسری طرف وہ ایک ذہین و فطین آدمی تھا اس کو قرآن کریم کی تلاوت کا شوق انتہا درجے کا تھا وہ ہر رات پورا قرآن پڑھا کرتا تھا۔ اس کے مزاج کی یہ عادت بھی عجیب تھی کہ حفاظ کرام کو بہت زیادہ تحفے تحائف سے نواز دیتا تھا۔ بہت زیادہ سخاوت کرتا تھا۔
وہ نشے کے قریب بھی نہیں جاتا تھا۔ اس کو جہاد کا بہت زیادہ شوق تھا اور نئی نئی زمینوں کی فتوحات پسند کرتا تھا۔ وہ بہت بہادر آدمی تھا مگر عجلت پسند اور خون بہانے میں ایک لمحہ گریز نہیں کرتا تھا۔ قتل و غارت گری کا انتہا کا شوقین تھا مگر یہ بھی عجیب تھا کہ بادشاہوں کی طرح فیصلوں کو اپنی مرضی سے نافذ کرنے کا شوق رکھتا تھا مگر ساتھ ہی شریعت کے احکام کی اتباع کی کوشش کرتا تھا۔ حضرت عماش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حجاج کو لوگوں سے کہتے ہوئے سنا کہ اللہ کی قسم اگر میں تم کو اس دروازے سے نکلنے کا حکم دوں اور تم اس دروازے سے نکلے تو میرے لیے تمہارا خون بہانا جائز ہو جائے گا۔
خلیفہ عبدالملک نے ایک دن حجاج سے کہا کوئی نہیں مگر میں تمہارے عیبوں کے بارے میں جانتا ہوں۔ لہذا مجھ کو اپنی کوتاہیوں کے بارے میں بتاؤ۔ حجاج نے کہا امیر المومنین مجھ کو جاننے دیں۔ لیکن جب عبدالملک نے بہت زیادہ اصرار کیا تو حجاج نے کہا میں بہت ضدی ہوں۔ اور میرا دل کینہ اور حسد سے بھرا ہواء ہے۔ اس پر عبدالملک بن مروان نے کہا کہ پھر تو تم کو ابلیس کی نسل سے ہونا چاہیے تھا۔ (جاری ہے )

