ناگہانی تا ناگہانی: انسانی وجود کی ایک عمیق داستان

رات کے اس پہر، جب آدھی رات گزر چکی ہے اور سحر ہونے میں ابھی بہت وقت باقی ہے، میں اپنے بستر کے سرہانے سے ٹیک لگائے، ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کے ناولٹ ”ناگہانی تا ناگہانی“ کے زیرِ اثر، سامنے کی دیوار کو نجانے کتنی دیر سے تکے جا رہا ہوں۔ کمرے میں ہر سُو خاموشی کا پہرا ہے، باہر بارش بھی نہیں ہو رہی، مگر پھر بھی اس خالی دیوار پر مجھے ستارے کیوں ٹِمٹِماتے نظر آ رہے ہیں؟ ایسا کیوں ہے کہ یہ ناولٹ مکمل کرنے کے بعد بہت دیر تک نہ تو کوئی اور کتاب پڑھنے کو دل کر رہا ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا کی بے کیف دنیا میں وقت ضائع کرنے کا موڈ ہو رہا ہے۔ یہ کیفیت کچھ ایسی ہے جیسے روح پر کوئی گہرا سایہ اتر آیا ہو، ایک ایسی اداسی جو تمام حواس پر چھا گئی ہو۔
یہ محض ایک کتاب نہیں، بلکہ ایک ایسا تجربہ ہے جو وجود کی گہرائیوں میں اتر کر اسے جھنجھوڑ دیتا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ میں ناولٹ کی صورتحال اور کرداروں کی بے بسی پر ماتم کروں، یا ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی فکری پرواز کو داد دوں کہ کس خوبصورتی سے انہوں نے ’بوڑھے شخص‘ کو سماج اور سگریٹ پیتی عورت ’کو ہمزاد کے روپ میں پیش کر کے دنیا کی بے رحمی اور انسان کی اس سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت کو بیان کیا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو میرے ذہن میں مسلسل گردش کر رہا ہے، اور شاید اس کا جواب اس تحریر کے ہر لفظ میں پنہاں ہے۔
ناولٹ کا کینوس بہت وسیع ہے، یہ صرف ایک کہانی نہیں بلکہ انسانی نفسیات، سماجی حقیقتوں اور دنیا کے غیر یقینی رشتوں کا ایک پیچیدہ جال ہے۔ یہ ناولٹ ہمیں فرائیڈ کے شعور، لاشعور اور تحت الشعور کی ان گہری تہوں میں لے جاتا ہے جہاں انسانی رویوں کی پیش قیاسی ناممکن ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر طاہرہ کیسی خوبصورتی سے بیان کرتی ہیں کہ کس طرح ہمارے اندر کی یہ پوشیدہ دنیا، بظاہر منطقی نظر آنے والے فیصلوں اور عمل کے پیچھے کارفرما ہوتی ہے۔
مسلو کے نظریات، جو انسانی ضروریات اور خود شناسی کی قوت کو بیان کرتے ہیں، یہاں ایک نئی جہت اختیار کر جاتے ہیں۔ یہ ناولٹ دکھاتا ہے کہ کیسے ایک انسان اپنی بقا کی جنگ لڑتے ہوئے بھی، اپنی فطری جبلتوں اور لاشعوری تحریکات کے ہاتھوں کتنا بے بس ہو سکتا ہے، اور کیسے اس بے بسی کے باوجود، وہ اپنی عقل و منطق کی قوت کو بروئے کار لاتے ہوئے، حالات کا مقابلہ کرنے کی سعی کرتا ہے۔ یہ محض ایک فکری بحث نہیں، بلکہ ایسے زندہ کرداروں کی کہانی ہے جو اپنی ذات کے اندرونی تضادات سے نبرد آزما ہیں۔
ڈاکٹر طاہرہ کاظمی نے کوانٹم مکینکس میں ایٹم کے اسپن کی صورت میں پائے جانے والی غیر یقینی کو انسانی سوچ کے اسپن، تجربات کے نتیجے میں حاصل ہونے والے نتائج کے اسپن، ہمارے رویوں کے باعث دوسروں کے ردعمل کے اسپن، اور پھر دوسروں کے رویوں کے نتیجے میں ہمارے فیصلوں کے اسپن سے بڑی خوبصورتی سے جوڑا ہے۔ یہ ایک ایسا فلسفہ ہے جو یہ واضح کرتا ہے کہ ہماری زندگی میں کوئی بھی چیز حتمی یا مستقل نہیں، ہر لمحہ ایک نیا موڑ لے سکتا ہے، اور ہم محض اس سفر کے راہی ہیں جہاں ہمیں غیر یقینی کے سمندر میں اعتماد اور بے بسی کے دھاگوں سے بنے ایک تار پر چلنا ہے۔ کبھی ہمیں اپنے فیصلوں پر پورا اعتماد ہوتا ہے، اور کبھی ہم خود کو حالات کے رحم و کرم پر بے بس پاتے ہیں۔ یہ سب اسپن، یہ سب گردشیں، انسانی وجود کی دائمی کشمکش کو بیان کرتی ہیں جو اس ناولٹ کی رگ و پے میں سرایت کرتی نظر آتی ہے۔
”ناگہانی تا ناگہانی“ کورونا وبا کے تاریک دنوں میں ایک ائرپورٹ پر پھنسی ایک عورت کی دل دہلا دینے والی کہانی ہے، جو اس وبائی بے چینی اور زندگی کے بدلتے روپ کی تصویر کشی کرتی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب دنیا یک دم ٹھہر سی گئی تھی، اور انسان اپنی تمام تر ترقی اور سائنسی پیش رفت کے باوجود ایک ننھے سے وائرس کے سامنے بے بس نظر آ رہا تھا۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو انسانیت نے ہمیشہ ایسی ناگہانی آفات کا سامنا کیا ہے، چاہے وہ طاعون کی وبا ہو یا جنگوں کی تباہ کاریاں۔ ہر دور میں انسان نے اپنی بقا کی جنگ لڑی ہے، اور ہر بار یہ سوال اٹھا ہے کہ اس بے یقینی میں اس کی ذات کا کیا مقام ہے؟ ناولٹ کا یہ پہلو ہمیں انسانی تاریخ کے اس تسلسل سے جوڑتا ہے جہاں ہر آفت نے انسانی نفسیات اور معاشرتی ڈھانچے پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔
انسانیت کے نقطہ نظر سے، یہ ناولٹ دکھاتا ہے کہ کس طرح ایک بظاہر کامیاب اور خودمختار پاکستانی عورت، ایک ناگہانی آفت میں اعتماد کی کمی کا شکار ہو جاتی ہے۔ یہ صرف اس عورت کی کہانی نہیں، بلکہ ہر اس انسان کی روداد ہے جو زندگی کے بظاہر محفوظ حصار سے نکل کر غیر متوقع چیلنجز کا سامنا کرتا ہے۔ یہ نفسیاتی کشمکش ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ انسان کتنا بھی مضبوط کیوں نہ ہو، اس کی روح میں ایک گہرا خوف اور بے یقینی ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ یہ بیالوجیکل طور پر بھی قابل فہم ہے، کیونکہ ہمارے اعصابی نظام میں خطرے کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک بنیادی ردعمل پایا جاتا ہے جسے ”لڑو یا بھاگو“ (fight or flight) کہا جاتا ہے۔ یہ ناولٹ اس جبلتی ردعمل کو فکری سطح پر گہرائی سے بیان کرتا ہے۔
سماجی نقطہ نظر سے، ناولٹ معاشرتی ڈھانچوں میں موجود بے حسی اور انسانی تعلقات کی پیچیدگیوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ ائرپورٹ کی تنہائی، اجنبی چہروں کے درمیان ایک بے یار و مددگار وجود، یہ سب سماجی انحطاط کی علامتیں ہیں۔ لیکن یہ کہانی اس امید کو بھی روشن کرتی ہے کہ اگر فرد کا سویا ہوا ضمیر اور انسانیت بیدار ہو جائے تو نظام ہستی کے اضطراب میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ یہ ایک اہم سماجی پیغام ہے، جو یہ باور کراتا ہے کہ فرد کی اخلاقی بیداری اجتماعی بہتری کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ فلاسفیکل سوال اٹھاتا ہے کہ کیا انسانی فطرت بنیادی طور پر خود غرض ہے، یا اس میں خیر کا عنصر بھی پنہاں ہے جو ناگہانی حالات میں ظاہر ہو سکتا ہے؟
ڈاکٹر طاہرہ کاظمی، جو خود ایک ممتاز گائناکالوجسٹ، لکھاری، شاعرہ اور خواتین کے حقوق کی علمبردار ہیں، ان کا طبی پس منظر ان کی فکشن کو ایک خاص گہرائی اور حقیقت پسندی عطا کرتا ہے۔ ان کی کہانیاں محض تخیل کی پرواز نہیں ہوتیں، بلکہ وہ زندگی کے تلخ حقائق سے جڑی ہوتی ہیں۔ ان کی تحریر میں مشرق اور مغرب کا حسین امتزاج جھلکتا ہے جو دونوں ثقافتوں کے درمیان ایک نئی فضا تراشتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا اسلوب پڑھنے والے کو انگریزی افسانوں کا سا لطف دیتا ہے۔ وہ جنسی موضوعات پر بھی اس طرح کھل کر قلم اٹھاتی ہیں کہ فن فحاشی کی سرحد بھی عبور نہیں کرتا اور قاری پر ان کی بات واضح بھی ہو جاتی ہے۔ یہ ان کی فنی پختگی کا کمال ہے، جو ایک حساس موضوع کو باوقار انداز میں پیش کرنے کی مہارت کو ظاہر کرتا ہے۔
اس ناولٹ کا اختتام اتنا متاثر کن اور غیر متوقع ہے کہ آپ کہانی پڑھنے کے بعد بھی گھنٹوں اس کے سحر میں گم رہتے ہیں۔ ”ناگہانی تا ناگہانی“ کی منفرد بات یہ ہے کہ یہ صرف ایک بیرونی قید کی کہانی نہیں، بلکہ اندرونی بے یقینی اور نفسیاتی الجھنوں کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ یہ انسان کی اپنے وجود، اپنی تقدیر اور اپنے فیصلوں کے ساتھ جاری کشمکش کا ایک علامتی اظہار ہے۔
مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ خود اس ناولٹ کا مرکزی کردار ہیں؟ ایک مصنف اپنے تخلیقی عمل میں اپنی ذات کے ٹکڑوں کو بکھیر دیتا ہے، وہ اپنے مشاہدات، اپنے تجربات اور اپنے جذبات کو الفاظ کا روپ دیتا ہے۔ جب یہ ناولٹ پڑھتے ہوئے میں انسانی نفسیات کی اتنی گہرائی، سماجی حقیقتوں کی اتنی باریکی اور کائنات کی غیر یقینی کے اتنے پیچیدہ فلسفے کو دیکھتا ہوں تو یہ احساس قوی ہو جاتا ہے کہ یہ محض ایک تخیلاتی دنیا نہیں، بلکہ وہ حقیقت ہے جسے مصنفہ نے خود محسوس کیا ہے، جیا ہے، اور پھر اسے لفظوں کا جامہ پہنایا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یہ ناولٹ صرف ایک کہانی نہیں رہتا، بلکہ قاری کے اپنے اندر کے انسان کو مخاطب کرتا ہے، اس کی روح کے تاروں کو چھوتا ہے اور اسے اپنے ہی وجود کی سچائیوں کا سامنا کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی لازوال کہانی ہے جو ہر پڑھنے والے کو اس کی اپنی ناگہانی اور اس سے نمٹنے کی حکمت عملیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
میں نہیں جانتا کہ میں اس ناولٹ پر ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کو مبارکباد پیش کروں یا اس ناولٹ کے کرداروں کی بے بسی پر تعزیت کروں؟ یہ ایک ایسا دوہرا احساس ہے جو اس ناولٹ کو پڑھنے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ ایک طرف، یہ ایک ایسی ادبی تخلیق ہے جو اپنے موضوع کی گہرائی، اسلوب کی نفاست اور نفسیاتی بصیرت کی وجہ سے داد و تحسین کی مستحق ہے۔ دوسری طرف، اس کے کرداروں کی بے بسی، دنیا کی بے رحمی اور انسانی وجود کی غیر یقینی، دل کو غمگین کر دیتی ہے۔
