تعصب: انسان کی نفسیاتی و فکری قید۔ کیا رہائی ممکن ہے؟
انسانی تعصب محض ایک سماجی یا اخلاقی خامی نہیں بلکہ ایک گہری نفسیاتی اور فلسفیانہ پیچیدگی بھی ہے۔ ہر فرد اپنے ماحول، تجربات، تربیت، اور اپنی معلوم تاریخ کے آئینے میں دنیا کو دیکھتا ہے، اور اکثر اوقات یہ آئینہ مختلف تعصبات سے داغدار ہوتا ہے۔ ایسے میں اس سوال کا پیدا ہونا عجیب یا بے محل نہیں کہ کیا انسان اپنے ذہن کو اس قدر آزاد کر سکتا ہے کہ وہ دنیا کو ایک غیر جانب دار اور خالص زاویے سے دیکھے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم اپنے ذہنی سانچوں، اپنے گروہی مفادات، اور اپنی شناختوں کے خول سے باہر نکلیں اور حقائق کا کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کریں؟
نفسیاتی علوم ہمیں بتاتے ہیں کہ انسانی دماغ فیصلہ سازی اور دنیا کو سمجھنے کے لیے اکثر شارٹ کٹس یا ”ہیورسٹکس“ استعمال کرتا ہے۔ یہ وہ ذہنی شارٹ کٹس ہیں جو انسان تیزی سے فیصلے کرنے یا مسئلہ حل کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے، خاص طور پر جب وقت کم ہو یا معلومات نامکمل ہوں۔ ہیورسٹکس زندگی کو آسان تو بناتے ہیں، لیکن اکثر اوقات یہ ہمارے اندر ایسے تعصبات پیدا کر دیتے ہی جس کی وجہ سے انسان غیر جانب داری سے معاملات کا جائزہ لینے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ ان ہیورسٹکس کو پہچاننا اور جاننا انسان کی فیصلہ سازی کو بہت بہتر بنا سکتا ہے۔
مشہور ماہر نفسیات ڈینیئل کاہنمن نے اپنی معروف کتاب تھنکنگ فاسٹ اینڈ سلو میں وضاحت کی ہے کہ ہمارا دماغ عموماً ایک تیز رفتار نظام پر کام کرتا ہے جو فوری فیصلے کرتا ہے، مگر ان فیصلوں میں تعصبات کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔ یہ تعصبات ہماری ابتدائی تربیت، شناخت کے احساس، اور اجنبی چیزوں سے خوف کے باعث جنم لیتے ہیں۔ ہمارے تعلقات، سماجی دائرہ کار، اور معاشرے میں قبولِ عام ہونے کی خواہش، سب مل کر ہمارے نظریات کو ایک خاص سمت دیتے ہیں، اور ہمیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں رہتا کہ وہ سمت حقیقت سے قریب ہے یا بہت دور۔
فلسفے کی دنیا میں بھی تعصب کو انسان کی ایک مستقل خصوصیت کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ کانٹ کے مطابق انسان کی عقل مخصوص ذہنی سانچوں کے بغیر دنیا کو سمجھنے کے قابل نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری ہر فہم، ہر نظریہ، کسی نہ کسی ”ذہنی فریم“ کے تحت پروان چڑھتا ہے۔ ہیگل کا موقف ہے کہ سچائی تک رسائی ایک مسلسل جدلیاتی عمل ہے۔ یعنی ایک نظریہ دوسرے نظریے سے ٹکراتا ہے، اور ان کے درمیان سے ایک بہتر فہم جنم لیتا ہے۔
ہیگل کے مطابق تعصبات کو ختم تو نہیں کیا جا سکتا، مگر ان کی تشکیلِ نو ممکن ہے، بشرطیکہ مکالمہ زندہ ہو۔ فرانسیسی فلسفی ژاں پال سارتر انسانی آزادی کو اس کی ذمہ داری سے مشروط کرتے ہیں۔ ان کے مطابق انسان خود اپنے وجود کا خالق ہے، اور اسی لیے اپنے تعصبات کا ذمہ دار بھی ہے۔ وہ فرد جو سچائی کی تلاش میں اپنی پرانی فکری زنجیروں کو توڑنے کی جرات کرتا ہے، دراصل وہی حقیقی معنوں میں آزاد ہوتا ہے۔
تعصب کی موجودگی فرد کے اندر ایک ذہنی جمود کو جنم دیتی ہے۔ وہ اپنی سوچ کی ازسرنو تشکیل کے قابل نہیں رہتا، نئی بات سیکھنے سے کتراتا ہے اور اپنے موجودہ خیالات کو ہی حرفِ آخر سمجھ بیٹھتا ہے۔ یہی کیفیت اگر اجتماعی سطح پر عام ہو جائے تو ایک سماج میں مکالمے کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے، اختلاف رائے کو دشمنی تصور کیا جانے لگتا ہے، اور رفتہ رفتہ سماجی پولرائزیشن اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ ایک ہی واقعے کو دیکھنے والے لوگ دو مختلف حقیقتوں میں جی رہے ہوتے ہیں۔
نظریاتی جمود، تشدد، اور تعمیری سوچ کا فقدان ایسے ہی سماج میں جنم لیتا ہے۔ ذرا غور کیجئے کیا ہم ایسے ہی سماج میں نہیں رہ رہے؟ پاکستانی معاشرے کی موجودہ حالت اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ تعصب صرف انفرادی ہی نہیں، بلکہ اجتماعی سطح پر بھی نہایت برے اثرات ڈالتا ہے۔ یہ اسی زہریلے تعصب کا اثر ہی ہے کہ یہاں نظریات انسانی جانوں سے زیادہ قیمتی ہیں، اور شاید یہی وجہ ہے کہ کسی بھی نظریاتی یا مذہبی اختلاف رائے پر جان لے لینا ہمارے ہاں ایک نارمل یس بات ہو گئی ہے۔
اگر ہم ایران اور اسرائیل کی حالیہ لڑائی کے تناظر میں ان تعصبات کی بات کریں تو دیکھا گیا ہے کہ پاکستان میں ایک غالب اکثریت کی رائے ایران کے حق میں ہے۔ اسرائیل کے حامی آٹے میں نمک کے برابر بھِی نہیں۔ بادی النظر میں پاکستانیوں کا ایران کی جانب یہ جھکاؤ، انسانی ہمدردی اور اخلاقی بنیادوں پر مبنی ہے، کیونکہ اسرائیل کے ہاتھوں غزہ میں ہونے والے مظالم دل دہلا دینے والے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی ہے۔ وہاں محصور لوگوں تک خوراک پہنچنے میں بھی رکاوٹ ڈالتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیل نے بچوں اور امدادی کارروائیاں کرنے والے رضاکاروں تک کو نہیں بخشا۔ اس سب کا بدیہی نتیجہ یہی ہے کہ کوئی بھی دردِ دل رکھنے والا انسان اس بنا پر اسرائیل کی کم از کم حمایت تو نہیں کر سکتا۔
یہ سب باتیں اپنی جگہ، مگر تنقیدی اندازِ فکر اور تعصبات سے آزادی والی سوچ کا تقاضا ہے کہ ہم یہ بھی سمجھنے کی کوشش کریں کہ اسرائیلی معاشرہ کس ذہنی، تاریخی، اور دفاعی تناظر میں پروان چڑھا ہے۔ ہولوکاسٹ جیسے اذیت ناک ماضی، مسلسل دشمنی کی فضا، اور مسلم دنیا خاص طور پر پاکستان اور ایران میں اسرائیل کے لئے پائی جانے والی شدید نفرت کی لہر، پھر ایران کی حماس اور حزب اللہ جیسی تنظیموں کی پشت پناہی کی تاریخ نے اسرائیل میں ایک مستقل دفاعی ذہنیت کو زندہ رکھا ہوا ہے، جو اپنے ہر جارحانہ قدم کو اپنی بقا کی جنگ تصور کرتی ہے۔
جِسے ایران کا ایٹمی پروگرام اپنے لئے خطرہ محسوس ہوتا ہے، جِسے ماضی کی عرب۔ اسرائیل لڑائیوں میں پاکستان کا عملی کردار نہیں بھولتا۔ اِس دفاعی ذہنیت کو انتہائِی حد پر اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر کیے گئے حماس کے تاریخ کے سب سے بڑے حملے نے پہنچا دیا۔ حماس کے اس حملے میں 1200 سے زائد اسرائیلی مارے گئے تھے جن میں غالب اکثریت سویلینز کی تھی۔ اس واقعے نے تو اسرائیل کو گویا ایک بپھرا ہوا سانڈ بنا دیا جس نے کسی بھی قسم کے جنگی اصولوں کو لات مار کر ہر صورت میں غزہ کو راکھ کا ڈھیر بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ اب تک اسرائیل کوئی 55,000 فلسطینیوں کا اپنے انتقام کا نشانہ بنا چکا ہے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔
اگر غور کیا جائے تو اسرائیل۔ ایران لڑائی کے تناظر میں پاکستانیوں کی آرا میں موجود تعصب کی ایک پیچیدہ مگر واضح مثال موجود ہے۔ اگرچہ پاکستانی عوام کی اسرائیل مخالف رائے میں ایک واضح اور بھرپور اخلاقی وزن موجود ہے، مگر پاکستانیوں کے ہاں اوپر بیان کردہ اسرائیلی تحفظات کو سننے اور سمجھنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ اسرائیل کا عمل ایک مسلسل خطرے کے احساس پر مبنی ہے۔ مگر ایسے میں اسرائیل کا اپنی بقا پر انسانی ہمدردی اور اخلاقی ضوابط اور بین الاقوامی جنگی قوانین کو ثانوی حیثیت دینا اسرائیل کے چہرے پر ایک بدنما داغ بھی ہے۔ مگر بنیادی بات یہ ہے کہ اگر ہم سچائی کے متلاشی ہیں تو ہمیں ان دونوں بیانیوں کو سننا ہو گا، اس لئے نہیں کہ ہم دونوں کو برابری کا درجہ دیں، بلکہ اس لیے کہ ہم اپنی رائے محض جذبات یا گروہی شناخت کے بجائے تنقیدی فہم اور اخلاقی بصیرت کی بنیاد پر تشکیل دے سکیں۔
تعصبات سے نکلنے کی سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ انسان اپنے تعصبات کو تسلیم کرے، ان کا سامنا کرے، اور ان کے پس پردہ وجوہات کو سمجھے۔ خود شناسی اس عمل کی پہلی سیڑھی ہے۔ جب تک انسان خود سے سوال نہیں کرتا، ”میں ایسا کیوں سوچتا ہوں؟“ یا ”کیا میرے خیالات کسی گروہی یا جذباتی وابستگی کا نتیجہ تو نہیں؟“ ۔ تب تک وہ ذہنی آزادی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ تنقیدی سوچ، مخالف رائے کو سننے کا ظرف، اور معلوماتی وسعت وہ ذرائع ہیں جن کے ذریعے ہم اپنے تعصبات کو کمزور کر سکتے ہیں۔ کسی واقعے پر اپنی رائے بناتے وقت صرف اپنے موقف کو تقویت دینے والی معلومات کو اکٹھا کرنے کے بجائے، ہمیں وہ دلائل بھی تلاش کرنے چاہئیں جو ہمارے نظریے سے مختلف ہوں۔
تعصب سے مکمل نجات شاید ممکن نہ ہو، کیونکہ جیسا کہ کانٹ نے کہا، ہمارا ادراک ہمیشہ کسی نہ کسی فریم سے گزرتا ہے۔ مگر ان ذہنی فریموں کو بہتر بنانا، انہیں زیادہ کشادہ اور انسان دوست بنانا ممکن ہے، بشرطیکہ ہم مکالمے، خود احتسابی اور علم کے راستے پر مسلسل چلتے رہیں۔ سچ تک پہنچنے کا راستہ سیدھا نہیں، بلکہ سوالات، تضادات، اور تجربات سے ہو کر گزرتا ہے۔ اور شاید یہی وہ اصل آزادی ہے جس کی تلاش میں ہر سوچنے والا انسان ہے۔
سقراط کا مشہور قول ہے کہ
”An unexamined life is not worth living.“
اور آج کے دور میں سب سے ضروری امتحان شاید یہی ہے۔ کیا ہم اپنے خیالات، نظریات، اور تعصبات کا تنقیدی جائزہ لینے کو تیار ہیں؟ کیونکہ اگر ہم نے یہ ہمت نہ کی، تو ہم صرف سچائی سے ہی نہیں بلکہ اپنی فکری آزادی سے بھی محروم رہیں گے۔


